Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»پاکستان کی مختلف اکائیوں کے ایک دوسرے کے بارے غلط فہمیوں پہ مبنی تاریخی تناظر
    کالم

    پاکستان کی مختلف اکائیوں کے ایک دوسرے کے بارے غلط فہمیوں پہ مبنی تاریخی تناظر

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتدسمبر 17, 2020کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read4 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    قومی ہم آہنگی محدود تصوارت کے خول میں پروان نہیں چڑھائی جاسکتی، اس کے لیے آزادانہ فکر کو راہ دینے اور ماضی و حال کی تاریخ کے حوالوں سے لچک پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاریخ سماج کی شخصیت سازی میں ایک بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے بارے میں مکمل طور پہ من گھڑت تصورات کی تشکیل سماج کو کمزور اور کھوکھلا بنا دیتی ہے۔

    جب پاکستان اور تاریخ کے موضوع پر بات ہوتی ہے تو اس میں عموماََ سب سے پہلے یہ تصور سامنے آتا ہے کہ اگر یہاں کے لوگوں اور طلبہ کو تاریخ کے حوالے سے حقیقی چیزیں بتائی اور پڑھائی جائیں گی تو اس سے ملک کی سالمیت کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں، حالانکہ یہ بات دست نہیں ہے۔ تاریخ کسی بھی معاشرے اور ملک کی سالمیت کے لیے کبھی خطرہ نہیں بنتی بلکہ اس کے برعکس اس کا درست اور حقیقی پہلو ہی سماج کو پراعتماد و طاقتور بناتا ہے۔ تاریخ کو اوجھل رکھنے کی کوشش تو کی جاسکتی ہے لیکن اس کا حقیقی پہلو چھپایا نہیں جاسکتا، اس لیے اگر لوگوں کو صحیح تاریخ کا علم ہوگا تو انہیں کبھی دھچکا نہیں لگے گا اور وہ ان غلطیوں سے سیکھیں گے جو ماضی میں دہرائی گئی تھیں۔ اس سے معاشرہ استحکام کی جانب بڑھے گا۔

    قومی ہم آہنگی اسی وقت پیدا ہوسکتی ہے کہ جب حقائق کو پس پردہ نہیں رکھا جائے گا اور شہریوں کو درست معلومات تک رسائی حاصل ہوگی۔ لوگ اس وقت ایک دوسرے سے بات چیت کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں جب وہ آزادی کے ساتھ ماضی اور حال کی تاریخ پر گفتگو کر سکتے ہوں۔ ہم سب اکائیوں کا تاریخ کے متعلق اپنا نقطہ نظر ہے، جس طرح ایک پنجابی پاکستان کی تاریخ کو دیکھتا ہے ایک بلوچ یا پٹھان اس طرح نہیں دیکھتا، لہذا جب تاریخ کے متعلق آزادانہ بات چیت کرنے اور اس میں مکالمہ کرنے کی آزادی نہیں ہوگی تو ملک کی متنوع اکائیاں ایک دوسرے کو سمجھنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھیں گی، یایہ انہیں اس کا موقع ہی نہیں ملے گیا۔ لہذا قومی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے بھی تاریخ کی درست نشاندہی اور اس کے مختلف پہلووں کاآزادانہ جائزہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    ہم سب اکائیوں کا تاریخ کے متعلق اپنا اپنا نقطہ نظر ہے، جس طرح ایک پنجابی پاکستان کی تاریخ کو دیکھتا ہے ایک بلوچ، سندھی یا پٹھان اس طرح نہیں دیکھتا۔ ہم سب نے ایک دوسرے کے متعلق خاص تاریخی Myth بنا رکھی ہے جس میں  مجموعی طور پہ بدگمانیوں کا عنصر ہوتا ہے

    ملک کی مختلف اکائیاں ایک دوسرے کے ساتھ عوامی سطح پہ کئی طرح کی بدگمانیاں رکھتی ہیں، اس کی بڑی وجہ ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش نہ کرنا ہے، تاریخ کے بارے میں ایک دوسرے کے ساتھ مکالمہ نہ کرنا ہے۔

    پاکستان میں حالت اس قدر دگرگوں ہے کہ ملک کی اعلی تعلیمی جامعات بھی ایک دوسرے کے ساتھ خاص ربط نہیں رکھتی ہیں۔ مثال کےطور پہ پنجاب یونیورسٹی کے کسی بھی ڈیپارٹمنٹ میں چلے جائیں وہاں طلبہ یہ تو فخر سے بتائیں گے کہ ہمارا یورپ کی فلاں یونیورسٹی کے ساتھ  تعلیمی ربط ہے یا اس یونیورسٹی کے ساتھ ایک مشترکہ پراجیکٹ چل رہا ہے ۔ لیکن اس یونیورسٹی کا بلوچستان یا پشاور یونیورسٹی کے ساتھ کوئی ربط نہیں ہوگا۔ ایسے ہی پشاور، سندھ یا بلوچستان کی جامعات کا حال ہے۔ اگر ملک کے اعلی تعلیمی ادارے ایک دوسرے کے ساتھ باہم مربوط نہیں ہیں تو عام افراد ایک دوسرے کے ساتھ کس طرح تعلق رکھتے ہوں گے، یا ان میں ایک دوسرے کو سمجھنے کے لیے کتنا تجسس پایا جاتا ہوگا۔

    پاکستان میں قومی ہم آہنگی کے مقصد میں رکاوٹ بننے والے عوامل میں صرف سماجی تاریخ کی تروڑ مروڑ ہی شامل نہیں ہے بلکہ اس میں مذہبی تناظر کا محدود تصور بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ نہ صرف یہ کہ ہماری سماجی تاریخ اکائیوں کو متحد نہیں کرسکی بلکہ اس کے ساتھ مذہبی تاریخ کے مخصوص زاویے بھی لوگوں کو ایک دوسرے سے دور کرتے ہیں۔ مسالک و فرقے ایک دوسرے کے متعلق خاص تاریخی Myth رکھتے ہیں جن میں مجموعی طور پہ بدگمانیوں کا عنصر کارفرما ہوتا ہے۔ خود کو صحیح اور دوسرے کو غلط پیش کیا جاتا ہے اور ان تصورات کو حتمی خیال کیا جاتا ہے جس پہ کوئی بات نہیں ہوسکتی۔

    نوٹ: یہ مضمون پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے زیرانتظام اساتذہ کی تربیتی ورکشاپ میں دیے گئے ڈاکٹر یعقوب بنگش کے لیکچر سے ماخوذ ہے

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article16 دسمبر کے نہ بھرنے والے گھاؤ
    Next Article عرب اسرائیل تعلقات کی خفیہ اور طویل داستان
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by