معاشی ترقی ایک اہم مضمون ہے۔ وہ عوامل جو معاشی ترقی کا سبب بنتے ہیں، معیشت دانوں کی تحقیق کا بنیادی موضوع ہیں۔ سرمایہ، محنت اور ٹیکنالوجی یہ تین بنیادی عوامل ہیں معاشی ترقی کے ضمن میں جن کی اہمیت پر تقریباً تمام معیشت دان متفق ہیں۔ یہ تین بنیادی عوامل جب پوری توانائی اور بھرپور صلاحیت کے ساتھ کام کرتے ہیں تو معاشی ترقی ممکن ہو پاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ معاملہ اتنا سادہ ہے؟ اگر ہے تو پھر کچھ ممالک اتنے امیر کیوں ہیں اور کچھ غریب کیوں؟ اس کا جواب معیشت دان یہ دیتے…
Author: ذیشان ہاشم
پاکستان میں علمی وفکری تحقیق کا معیار بہت پست ہے، بالخصوص اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اس کی حالت تشویشناک حد تک خراب ہے، یہی وجہ ہے کہ تعلیمی ادارے ملکی ترقی میں کوئی خاص کردار ادا نہیں کر رہے۔ ذیشان ہاشم اس مضمون میں برطانیہ کی تحقیقی ثقافت کو سامنے رکھ کر بتاتے ہیں کہ ترقی یافتہ ممالک میں تحقیق کے معیارات کیا ہیں اور ہم ان سے کس طرح سیکھ سکتے ہیں۔ مضمون نگار ماہرمعاشیات ہیں، لندن میں اسی شعبے میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ ان کے متعدد تحقیقی مقالات معتبر بین الاقوامی جرائد میں شائع ہوچکے…
پاکستان میں معاشی ابتری روزافزوں ہے اور اس حوالے سے عوام پر بوجھ میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔اقتصادی شرحِ نمو میں کیسے بہتری لائی جائے، یہ سوال پاکستان میں ایک معمہ ہے جس کے مختلف جوابات دیے جاتے ہیں اور عملاََ متنوع تجربات کرنے کی کوششیں بھی ہوئیں۔ تاہم ایک تصور جو غالب ہے اور اس پر عوام کی ایک بڑی تعداد یقین بھی رکھتی ہے یہ ہے کہ اگر معاشی نظم مرکزیت کاحامل تو وہ خوشحالی وترقی لاسکتا ہے، یا یوں کہیے کہ ترقی وخوشحالی اُوپر سے نیچے آتی ہے،جیساکہ ایک عسکری نظم ہوتا ہے یا مارشل لاء کے…
ولیم ایسٹرلی کا ذیل میں دیا گیا پیپر انتہائی اہم ہے جو دس ستمبر 2019 کو یعنی محض تین دن پہلے شائع ہوا ہے۔ اس پیپر میں ایسٹرلی نے یہ بحث کی ہے کہ آخر وہ کونسی اخلاقی بنیادیں ہیں جن کی بنیاد پر ایڈم سمتھ نے نہ صرف کولونیل ازم (نو آبادیاتی نظام ) اور غلامی (Slavery ) کے ادارے کا رد کیا بلکہ یہ بات ماننے سے انکار کر دیا کہ غیر سفید نسلیں ذہنی اور تہذیبی طور پر سفید فام نسلوں سے کمتر ہیں۔ اپنی کتاب "ویلتھ آف نیشن” میں جو کہ فری مارکیٹ کیپیٹلزم کی پہلی…
میں اُمہ کو ایک حقیقت سمجھتا ہوں، یہ نہ وہم ہے اور نہ ہی دھوکہ جیسا کہ کچھ لوگ مسلسل لکھ رہے ہیں۔ کیوں؟ اس کا جواب یہ تحریر مختصرا زیر بحث لاتی ہے۔ میں نے سہ ماہی تجزیات کے لئے جو دو ماہ قبل تحریر لکھی اس میں لکھا کہ ہر انسان کی شناخت کا تعلق اس کی خود شناسی سے ہے۔ کوئی بھی شناخت معروضی نہیں سوائے اس کے کہ ہم انسان ہیں۔ ہم اپنے آپ کو جس شناخت سے جوڑتے ہیں وہی شناخت ہمیں ان دوسرے لوگوں سے جوڑتی ہے جو ہم سے اس شناخت کی بنیاد…
دیکھئے آپ کی طرح میری بھی یہ خواہش ہے کہ پاکستانی سیاست نظریاتی ہو مگر عملی طور پر ایسا ممکن نہیں۔ آخر کیوں؟ اس کے بارے میں پولیٹیکل سائنس کا لٹریچر ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ پولیٹیکل سائنس میں سیاسی جماعتوں کو فرنچائز کہا جاتا ہے جس سے تقریباََ وہی مراد ہے جو ہم کمپنیوں سے لیتے ہیں۔ جس طرح کمپنیاں نفع کی جستجو کرتی ہیں ویسے ہی فرنچائزز سیاسی اقتدار کی جستجو کرتی ہیں۔ جیسا کہ کمپنیوں کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ ایک کرپٹ مارکیٹ میں کمپنیاں نفع کے حصول کے لئے کرپٹ ذرائع بھی استعمال کرتی…
پاکستانی دانشوروں کی ایک تعداد جو اردو میں لکھتی ہے، انتہائی worse سوچ کی مالک ہے – جب سے شعور کی آنکھ کھولی ہے، راقم نے دو باتیں کثرت سے سنی ہیں۔ ایک: پاکستان چین اور روس کے زیادہ سے زیادہ قریب ہو رہا ہے اور ہم مغربی اثرات سے آزاد ہو رہے ہیں۔ مگر جب بھی کوئی معاشی بحران آتا ہے ہم مغرب کی گود میں ہی ہوتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ اس طرح کے متواتر تجربات کے بعد وہ کچھ سیکھیں اور اپنے خیالات پر نظرثانی کریں مگر ایسا کوئی بھی رجحان مشاہدے میں لانا انتہائی…
جب سے موجودہ حکومت اقتدار میں آئی ہے، اچھی خبروں کا سلسلہ تقریبا منقطع تھا۔ مگر راقم کے اندر پاکستان کی معاشی صورتحال سے متعلق ایک خوشگوار احساس یقینا پیدا ہوا ہے، اس کی وجہ مشیر خزانہ حفیظ شیخ اور اسٹیٹ بنک کے گورنر رضا باقر کی پریس کانفرنسز ہیں۔ ان پریس کانفرنس میں ان دونوں نے مجموعی طور پر تین اہم نکات کی طرف ہمیں توجہ دلائی ہے جن کی اہمیت پر راقم کافی عرصے سے زور دے رہا ہے۔ آئیے ان تینوں نکات پر بات کرتے ہیں۔ اول: سیاسی عدم استحکام دونوں، مشیر خزانہ اور اسٹیٹ بنک گورنر…
وفاقی بجٹ 2019-20 پیش کر دیا گیا ہے۔ وفاقی بجٹ کی ملکی معیشت میں بہت اہمیت ہوتی ہے کیونکہ اس سے نہ صرف حکومتی ترجیحات کا پتا چلتا ہے بلکہ انویسٹرز کے لئے بھی یہ سمجھنا آسان ہو جاتا ہے کہ حکومتی پالیسیز کی سمت کیا ہو گی۔ موجودہ بجٹ گزشتہ ادوار میں پیش کئے گئے بجٹ کی طرح ایک بے سمت اور غیر ترقیاتی اعلامیہ ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کا مقصد کاروباروں میں فروغ، مارکیٹ میں اصلاحات اور شہریوں کی سہولیات میں اضافہ کی بجائے ٹیکس کے نام پر لوٹ کھسوٹ، شہریوں کو ٹیکس…
میں لندن میں جس گھر میں رہتا ہوں اس میں کل پانچ کمرے ہیں۔ دو کمروں میں دو خواتین اور تین کمروں میں ہم تین لڑکے رہتے ہیں۔ ہم کچن اور واش روم شئر کرتے ہیں۔ اس سے پہلے میں کولچسٹر میں جس گھر میں رہا تھا وہاں ابتدا میں ہم چار لوگ رہتے تھے۔ دو خواتین اور دو مرد۔ ہم چاروں لوگ کچن واش روم اور Conservatory شیئر کرتے تھے۔ دونوں گھروں میں خواتین کو مردوں سے اور مردوں کو خواتین سے کوئی خوف نہیں۔ یہ صرف میرے گھر کی بات نہیں، بلکہ لندن ہو یا کولچسٹر یہ عمومی…
