Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»دنیا کو جاننا ہے تو دنیا کا علم حاصل کیجیے
    کالم

    دنیا کو جاننا ہے تو دنیا کا علم حاصل کیجیے

    ذیشان ہاشمBy ذیشان ہاشمجون 20, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read4 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    پاکستانی دانشوروں کی ایک تعداد جو اردو میں لکھتی ہے، انتہائی worse سوچ کی مالک ہے – جب سے شعور کی آنکھ کھولی ہے، راقم نے دو باتیں کثرت سے سنی ہیں۔ ایک: پاکستان چین اور روس کے زیادہ سے زیادہ قریب ہو رہا ہے اور ہم مغربی اثرات سے آزاد ہو رہے ہیں۔ مگر جب بھی کوئی معاشی بحران آتا ہے ہم مغرب کی گود میں ہی ہوتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ اس طرح کے متواتر تجربات کے بعد وہ کچھ سیکھیں اور اپنے خیالات پر نظرثانی کریں مگر ایسا کوئی بھی رجحان مشاہدے میں لانا انتہائی مشکل ہے۔ کیوں؟ اس کا مجھے بھی نہیں پتا سوائے اس کے کہ شاید اپنے ان خیالات پر جنہیں وہ اپنے مطالعہ و تجربہ کے بجائے اپنی خواہشات سے ترتیب دیتے ہیں پر نظرثانی کرنا اپنی توہین سمجھتے ہیں اور مطالعہ و مشاہدہ جیسے بور کر دینے والے کام سے اجیرن ہیں۔

    یہی معاملہ، یورو میں تجارت کا بھی ہے۔ دانشور تبصرہ کرتا ہے کہ پاکستان اب یورو میں بزنس کرے گا اس سے ہم امریکی ڈالر کے شکنجے سے آزاد ہو جائیں گے۔ اب تو چائنیز ’’یوآن ‘‘ کے بھی حمایتی آ گئے ہیں جو وہی توقعات چینی کرنسی سے لگا رہے ہیں جو انہوں نے یورو سے لگائی تھیں۔ یہ ہر فارن کرنسی کے بحران کو سمجھنے سے انکاری ہیں اور نہ ہی اپنے خیالات سے رجوع کرنے میں انکی کوئی دلچسپی ہے۔ کم ازکم انہیں یہ تو سمجھنا چاہئے کہ آخر دنیا بھر کے اکثر تاجر کیوں ڈالر میں کام کرنا چاہتے ہیں آخر کیوں دنیا بھر کے سنٹرل بنک (بشمول چینی سنٹرل بنک ) اپنے ریزرو ڈالر میں کیوں رکھتے ہیں اور آخر ڈالر کیوں سونے سے بھی زیادہ قابل فروخت (liquid ) اور قابل بھروسہ (Credible ) کرنسی ہے اور آخر کیوں اسے دنیا کی کرنسی کہا جاتا ہے۔

    دنیا کو جاننا ہے تو دنیا کا علم حاصل کیجئے

    چونکہ سوشل سائنسز خاص طور پر اکنامکس پڑھنا ذرا زیادہ کٹھن کام ہے اس لئے وہ اردو ادب کی دھونی سے خود کو گرم رکھتے ہیں اور افسانوں میں منہ چھپائے رکھتے ہیں۔ دوسرا بڑا دعویٰ میں تقریبا 2003 سے سن رہا ہوں کہ امریکہ افغانستان میں شکست کھا کر بھاگ رہا ہے اور اس کے بعد ہمارا اہم کردار شروع ہو جائے گا۔ پندرہ سولہ سال سے زیادہ بیت گئے مگر فارن پالیسی ایکسپرٹ اپنی بات پر ابھی تک قائم ہیں۔ اس پر بات پھر کبھی کہ آخر میں کیوں ایسے کسی خیال کو قابل عمل نہیں سمجھتا۔ میں اب بھی یہی سمجھتا ہوں کہ امریکہ بغیر اپنے مفادات کا تحفظ کئے افغانستان سے نہیں جائے گا۔

    یہ تحریر لکھنے کا خیال اس لیے آیا کہ ایک دانشور شخصیت نے تبصرہ لکھا ہے کہ پیوٹن نے اس بار ہمارے وزیراعظم کو جتنی اہمیت دی ہے اتنی اہمیت مودی کو نہیں دی۔ ایسے دانشوران کو فرصت نہیں کہ کم ازکم ذرا یہ تو موازنہ فرمائیں کہ بھارت اور روس میں کتنا فرق ہے اور یہ کہ بھارت کے لئے پیوٹن کتنا اہم ہے اور پاکستان کے لئے کتنا ؟ بھارت اور روس کا اگر باہمی موازنہ کیا جائے تو کچھ معاملات میں بھارت روس سے زیادہ طاقتور ہے، جیسے معیشت میں، دنیا بھر میں پسندیدہ فارن پالیسی کے حوالے سے اور سیاسی و معاشی استحکام کے حوالے سے۔ بھارت جس رفتار سے ترقی کر رہا ہے اس کا موازنہ چین سے کرنا چاہئے۔ روس جیسی معاشی طور پر کمزور ریاست سے نہیں۔ روس کو بھارت پر صرف دو معاملات میں ایڈوانٹیج حاصل ہے: سخت گیر (Aggressive ) فارن پالیسی اور ہتھیاروں کی جدید صنعت۔

    میری اردو حلقہ کے پاکستانی دانشور احباب سے درخواست ہے کہ خدارا پڑھا کریں، اپنے خیالات کا ایک بار محاسبہ بھی کر لیا کریں، اس سے آپ کا کچھ نہیں جائے گا بلکہ آپ علم و عمل میں ترقی کریں گے۔ جان لیجئے کہ دنیا ویسے نہیں چلتی جیسے ہمارے خیالات ہوتے ہیں یا فیس بک پوسٹس چلتی ہیں۔ دنیا کو جاننا ہے تو دنیا کا علم حاصل کیجئے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleقطر پر سعودی پابندیوں کے دو سال، کیا کھویا کیا پایا؟
    Next Article علم کا کوئی مذہب نہیں ہوتا
    ذیشان ہاشم

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by