دور افتادہ علاقے میں پاک ایران سرحد پر ہونے والی تیل کی نقل و حمل کی روداد جو مصنف کے ذاتی تجربے پر مبنی ہے، اپنے اندر سیاسی، معاشی، سماجی اور نفسیاتی حوالے سے توجہ کے کئی پہلو رکھتی ہے۔ بیان کی گئی صورت حال کو انتظامی حوالے سے دیکھا جائے تو اس میں اعتراض و تعزیر کے پہلو ہیں لیکن فرد کی سماجی اور معاشی مشکلات کے تناظر میں دیکھا جائے تو مزدوری اور مجبوری کا ایسا منظر نامہ سامنے آتا ہے جو درد انگیز بھی ہے اور چشم کشا بھی۔
Author: شوذب عسکری
عراق کے دارلحکومت بغداد میں آج علی الصبح ایران کی سرکاری پیراملڑی فورس القدس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات پر ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے ہیں۔ ان کے ہمراہ دیگر افراد میں عراق میں دولت اسلامیہ کے ساتھ برسرپیکار کتائب حزب اللہ جسے پاپولر موبلائزئشن فورسسز بھی کہا جاتا ہے، کے سربراہ ابومہدی المہندس بھی اس ڈرون حملے کا نشانہ بنے ہیں۔ امریکی وزارت دفاع کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کے احکامات پر مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی افواج کی پیشگی حفاظت کی خاطر یہ اقدام دفاعی طور پر اٹھایا گیا۔ امریکی…
کل 9 دسمبر تھا۔ کل کے دن بھارتی پارلیمان کے ایوان زیریں میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے اتحادیوں نے شہریت میں ترمیم کا متنازعہ بل پیش کیا جسے اپوزیشن کی شدید اجتماعی مخالفت کے باوجود بھاری اکثریت سے منظور کرلیا گیا۔ اس متنازعہ بل کی رو سے پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے آنے والے ایسے افراد کو بھارت میں پناہ کا حق مل سکے گا جو مسلمان نہ ہوں بلکہ ان کا تعلق، ہندو، سکھ، جین، بدھ، پارسی اور مسیحی برادری سے ہو۔ اس سے پہلے حکمران اتحاد بی جے پی کی قیادت میں متنازعہ…
اسلام آباد کے سیکٹر جی ٹین میں صفائی کرنے کے شعبے سے وابستہ ایک خاکروب سے مکالمہ سوال۔ آپ اس شعبے میں کب سے کام کررہے ہیں ؟ جواب۔ میں نے 1994 میں یہاں اس جی ٹین سیکٹر کے صفائی کے عملےمیں ملازمت لی۔ میں اس وقت سے مسلسل یہاں کام کررہا ہوں۔ اس وقت میری تنخواہ 1200 روپے تھی۔ مجھے 25 سال ہوگئے ہیں ۔ سوال۔ اب آپ کی کتنی تنخواہ ہے ؟ جواب۔ اب ہماری تنخواہ 15000 روپے ہے۔ سوال۔ کیا آپ سرکاری ملازم ہیں ؟ جواب ۔ نہیں! ہم لوگ پرائیویٹ ملازم ہیں۔ ہم ٹھیکےدارکے ملازم ہیں…
ایک ایسا معاشی نظام جس میں ترقی اور نمو کا دارومدار تعلیم کی مقدار، معیار اور دستیابی پر ہو ناکہ روایتی طرز کے ذرائع پیداوار پر، ایسے معاشی نظام کو نالج اکانومی یا تعلیمی معیشت کہا جاتا ہے۔ اس طرز معیشت میں معاشی ترقی کا انحصار انسانی وسائل پر ہوتا ہے۔ ایک فرد کے باوسائل اور کارآمد ہونے کے لئے لازم ہے کہ وہ تعلیم یافتہ، باصلاحیت، منطقی و تنقیدی فکر کا حامل ہو تاکہ اس کی ذہنی و فکری صلاحیتوں سے اٹھاتے ہوئے معیشت کے پہیے کو مسلسل اور تعمیری عمل میں آگے بڑھایا جاسکے۔ روایتی معاشی نظام کو…
ہم اپنے چہار جانب نظریں دوڑائیں تو دیکھیں گے کہ ہر سو انسانوں کی ہزار ہا داستانیں موجود ہیں۔ صبح سے شام کرنا اور جینے کی مسلسل کوشش کیے جانا آج کے اس پرفتن دور میں کوئی آسان کام ہرگز نہیں ہے، لیکن ایک آس اور امید کا چراغ جو کہ ہردم روشن رہتا ہے ہمیں مسلسل ہمت دلائے رکھتا ہے کہ اچھے دن آئیں گے اور مشکلیں حل ہوجائیں گی۔ بس اپنے دست و بازو پہ بھروسہ رکھو اور جہد مسلسل جاری رکھو۔ لیکن اگر دست وبازو ہی نہ ہوں تو؟ کھڑے رہنے کو اور چلتے رہنے کو ٹانگیں…
جسٹس ایلون رابرٹ کارنیلئس8 مئی 1903کے روز آگرہ شہر میں ایک اینگلو انڈین خاندان میں پیدا ہوئے۔ آپ کا خاندان متمول، پڑھا لکھا اور مشہور مسیحی خاندان تھا جسے اس وقت کے ہندوستانی رومن کیتھولک فرقے میں معزز مقام حاصل تھا۔ آپ نے الہٰ آباد یونیورسٹی سے قانون اور ریاضی کی تعلیم مکمل کی بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے برطانیہ کی مشہور کیمبر ج یونیورسٹی چلے گئے جہاں قانون کے شعبہ میں اعلیٰ تعلیم مکمل کرکے ہندوستان واپس آئے۔ برطانوی سلطنت کے زیر اہتمام ہندوستان کے اعلیٰ اذہان کے لئے جس شعبے میں کشش تھی وہ انڈین…
راقم قائد اعظم یونیورسٹی کا طالب علم ہے اور خوش قسمتی سے ان چند طلبہ میں شمار ہوتا ہے جنہیں دوران تعلیم ہی مہمان استاد کی حیثیت سے کوئی کورس پڑھانے کو مل جاتا ہے۔ راقم پاکستان اسٹڈیز کا طالب علم ہے اور یہی مضمون بی ایس کے درجے میں پہلے سمسٹر کے طلبہ کو پڑھاتا ہے۔ اگرچہ ان دنوں یونیورسٹی میں سمسٹر بریک کی آمد آمد ہے تاہم کسی نہ کسی سبب یونیورسٹی آنا جانا لگا رہتا ہے۔ رمضان میں چونکہ ہٹس بند ہوتے ہیں اور چہارسو رمضان المبارک کی تقدس ماب خموشی چھائی ہوئی ہوتی ہے سو پچھلے…
بِھٹ شاہ میں شاہ لطیف کے مزار پہ ان کا کلام پڑھنے والے راگی فقیر اب صرف مردوں تک محدود نہیں رہیں گے کیونکہ اب خواتین بھی اس عظیم صوفی درگاہ کی صدیوں پرانی روایت میں جوق در جوق شامل ہورہی ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ سندھ کی صوفی روایات میں کوئی نیا اضافہ ہے۔ ساٹھ سال پہلے تک یہ روایت قائم تھی۔ پھر اسلام کے نام پر قائم مملکت ِ خداداد میں ایسی روایات دم توڑنے لگیں جہاں صنفی برابری یا صنفی مساوات کی کوئی صورت دکھائی دیا کرتی تھی کیونکہ درباروں اور درگاہوں کا انتظام ریاست نے…
شاکر ؔشجاع آبادی کی نظم سے ایک شعر دیکھیے گا، اگر آنکھیں نم ہوں تو سمجھ لیجیے گاکہ شاکر کو داد وصول ہوگئی۔ اونہاں دے بال ساری رات روندن بُکھ توں سُمدے نئیں جنہاں دی کہیں دے بالاں کو ں کھڈیندیں شام تھی ویندی (ان کے بچے ساری رات بھوک سے روتے ہیں سونہیں سکتے، جنہیں کسی کے بچوں کی دیکھ بھال کرتے شام ہوجاتی ہے) میں سوچ رہا ہوں اس تحریر کاعنوان کیا ہونا چاہیےجس کا متن آپ کی تن ورتی ہو۔ میں اگر آپ سے ایسی تحریر کا پوچھوں جس کے کردار آپ خود ہوں یا آپ کی…
