Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»فیچرز»قائداعظم یونیورسٹی کا بین المذاہب افطار دسترخوان
    فیچرز

    قائداعظم یونیورسٹی کا بین المذاہب افطار دسترخوان

    شوذب عسکریBy شوذب عسکریمئی 29, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    راقم قائد اعظم یونیورسٹی کا طالب علم ہے اور خوش قسمتی سے ان چند طلبہ میں شمار ہوتا ہے جنہیں دوران تعلیم ہی مہمان استاد کی حیثیت سے کوئی کورس پڑھانے کو مل جاتا ہے۔ راقم پاکستان اسٹڈیز کا طالب علم ہے اور یہی مضمون بی ایس کے درجے میں پہلے سمسٹر کے طلبہ کو پڑھاتا ہے۔ اگرچہ ان دنوں یونیورسٹی میں سمسٹر بریک کی آمد آمد ہے تاہم کسی نہ کسی سبب یونیورسٹی آنا جانا لگا رہتا ہے۔

    رمضان میں چونکہ ہٹس بند ہوتے ہیں اور چہارسو رمضان المبارک کی تقدس ماب خموشی چھائی ہوئی ہوتی ہے سو پچھلے کچھ سالوں سے جب سے یونیورسٹی میں باقاعدہ تعلیم شروع کی ہے ماہ مبارک میں اگر کبھی وہاں سے گزر ہوا بھی تو ہٹس کی جانب آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا۔ یہ تین چار روز پرانا قصہ ہے جب کسی کام سے یونیورسٹی جانا ہوا اور ہٹس کے قریب سے گزرتے ہوئے ایک بینر پہ نظر پڑی۔ ’’محبتوں کو فروغ دیں‘‘ اس بینر کا عنوان تھا اور یہ افطار کے دستر خوان کی کھلی دعوت تھی۔ بینر کی تحریر سادہ اورپیغام انسان دوست تھا چار و ناچار وہاں موجود ایک نوجوان سے دریافت کیا کہ یہ کیا معاملہ ہے اور یہ صاحب جو اس افطار دستر خوان کے میزبان ہیں یہ کون ہیں؟

    ہٹس کے باہر موجود افطار دسترخوان کا دعوتی بینر

    جواب ملا کہ شعبہ تاریخ کے ایک گریجویٹ جن کا نام شبیر حسین ہے وہ اس دستر خوان کے میزبان ہیں۔ ان کا فون نمبر جو کہ بینر پہ ہی درج تھا وہ لے لیا۔ انہیں فون کیا۔ مبارکباد کہی اور ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ شبیر صاحب بہت ہی زیادہ ملنسار ثابت ہوئے کہ انہوں نے فی الفور ملاقات کی خواہش کا اظہار قبول کر لیا۔ میں نے ایک اگلے دن کی ملاقات کا وعدہ کیا۔ واپس دفتر پہنچا۔ پاکستان ساگا کی پروڈکشن ٹیم کو اعتماد میں لیا کہ کل کی ملاقات محض ملاقات نہ ہو بلکہ پاکستان ساگا کے ناظرین اور تجزیات کے قارئین کے لئے ایک تحفہ ثابت ہو۔ تو دوستو جیسا کہ ہم سب آگاہ ہیں کہ رمضان کا مبارک مہینہ آتے ہی ملک بھر میں مساجد اور چوک چوراہے سحری اور افطاری کے دستر خوانوں سے سج جاتے ہیں اور صاحب استطاعت اس نیکی میں بڑھ چڑھ کے حصہ لینے کا خواہش مند ہوتا ہے۔ پہلے پہل بات چیت میں شبیر صاحب بھی اسی طرح کے صاحب استطاعت معلوم ہوئے لیکن جب ہم وہاں پہنچے تو ماحول یکسر مختلف تھا کیونکہ افطار کا یہ دسترخوان روایتی طرز سے ہٹ کر ہے۔ یہاں آپ کو صرف اساتذہ، طلبہ، مسافر، مزدور اور ٹرانس جینڈر ہی ایک ساتھ بیٹھے افطاری کرتے نظر نہیں آئیں گے بلکہ بہت ممکن ہے کہ آپ کے لئے شربت لانے والا طالب علم مسیحی اور فروٹ لانے والا ہندو ہو۔ کیا خبر آپ کو سالن کی پلیٹ کسی سکھ طالب علم نے پکڑائی ہو۔

    سندیپ چاولہ، افطار دستر خوان کے ایک رضاکار

    جس روز ہم وہاں پہنچے تو اس روز قائداعظم یونیورسٹی کے پرانے طلبہ کی ایک تنظیم جس کا نام اولڈ قائدین ایسوسی ایشن ہے اس کے ذمہ داران بھی وہاں موجود تھے۔ شبیر حسین صاحب نے بتایا کہ ریٹائرڈ فیڈرل سیکرٹری جناب رائے سکندر بھی آج اس افطار دستر خوان پہ موجود ہوں گے جو کہ قائد اعظم یونیورسٹی کے ہی گریجویٹ ہیں۔ میں دیکھ رہا تھا کہ مزدور، مسافر اور طلبہ موجود ہیں۔ الہیٰ کیا ماجرا ہے کہ گریڈ بائیس کا ایک افسر بھی یہاں صف پہ بیٹھ کر افطار ی کرے گا۔ ایسا ہی ہوا۔ رائے سکندر صاحب نہ صرف تشریف لائے بلکہ ہم سے بھی خوب گپ شپ کی۔

    رائے سکندر احمد، صدر اولڈ قائدین ایسوسی ایشن اور فیڈرل سیکرٹری

    میری ملاقات سندیپ چاولہ سے ہوئی۔ آپ اندرون سندھ کے رہنے والے ہیں۔ شعبہ قانون کے چوتھے سمسٹر کے طالب علم ہیں۔ مذہباََ ہندو ہیں۔ دستر خوان کی صفیں درست کرتے ہیں۔ کھانا تقسیم کرتے ہیں۔ جب افطار ہوجائے تو صفوں پہ جھاڑو لگاتے ہیں تاکہ نماز کی ادائیگی میں کوئی مشکل نہ ہو۔

    میری ملاقات امر سنگھ ٹھاکر سے ہوئی۔ یہ موصوف بزنس یڈمنسٹریشن کے تیسرے سمسٹر میں ہیں۔ افطار کے دوران شربت کے جگ بھر بھر کے پلا رہے تھے۔ پوچھا کہ بھائی یہ صاحب کیا ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ ہم سب ایک دوسرے کے تہوار ایک ساتھ خوشی سے مناتے ہیں۔ یہ مسلم دوست ہمارے ساتھ ہولی اور کرسمس پہ شریک ہوتے ہیں تو ہم ان کے ساتھ ماہ مبارک کے مقدس مہینے میں کیوں شریک نہ ہوں۔

    شبیر حسین، بانی افطار دستر خوان قائد اعظم یونیورسٹی

    شبیر حسین صاحب بتاتے ہیں کہ اس دستر خوان کے لئے ہم کسی سے کوئی چندہ نہیں مانگتے بلکہ یونیورسٹی کے طلبہ خود اپنی مدد آپ کے تحت یہ سب انتظام کرتے ہیں۔ البتہ اولڈ قائدین اس کارخیر میں ان کی معاونت ضرور کرتے ہیں۔ تاہم وہ اس کے لئے پریشان نہیں ہیں کہ یہ سب کسی مالی مشکل کے سبب رک جائے گا۔ ان کا ماننا ہے کہ نیک کام چاہے کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو اسے سرانجام دیا جانا ناممکن نہیں ہوتا۔ اس کا سبب خود بخود ہوجاتا ہے۔

    ویڈیو رپورٹ کے لیے اس لنک پر کلک کریں

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article’’کالا دھن سفید کروائیں‘‘ اسکیم
    Next Article قبائلی اضلاع کی سیاسی تاریخ اور مستقبل کا منظرنامہ
    شوذب عسکری

    Related Posts

    گوادر میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا، شہریوں کا دھرنا

    اکتوبر 14, 2025

    اردو فکشن کی تنقید کی زبوں حالی

    اکتوبر 11, 2024

    گلگت بلتستان کے مذہبی اور سماجی مشترکات

    اگست 29, 2023

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by