Author: شفیق منصور

گزشنہ روز مسلم دنیا کی عظیم مذہبی شخصیت ڈاکٹر یوسف القرضاوی کا انتقال ہوگیا ہے۔ وہ اگرچہ مصری تھے اور عمر کا ابتدائی حصہ وہیں گزارا لیکن ساٹھ کی دہائی سے قطر میں مقیم تھے، انہیں قطری شہریت حاصل تھی۔ ان کے بیٹے عبدالرحمان قرضاوی کے مطابق ان کے والد کی وصیت تھی کہ وہ جہاں فوت ہوں انہیں اسی شہر میں دفن کیا جائے۔ بلاشبہ ڈاکٹر یوسف قرضاوی کو پوری دنیا کے مسلم طبقات کی جانب سے جو مقام اور احترام حاصل ہوا وہ عصر حاضر میں کس اور دینی شخصیت کو حاصل نہیں تھا۔ فقہی دائرہ کار ہو…

Read More

موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کس قدر وسیع اور بھیانک ہوسکتے ہیں اس بارے شعبے کے محققین و ماہرین ماضی قریب سے اندازے لگا رہے ہیں اور عالمی قیادت کو جھنجھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر مشاہدہ یہ کیا گیا ہے کہ عالمی سطح پر اس مسئلے کی حساسیت کے حوالے سے عوامی آگہی میں کافی اضافہ ہوا ہے لیکن ترقی یافتہ ممالک کی سیاسی قیادت کی جانب سے اسے ایک گونہ سردمہری موجود ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اور اس کی زد پر کھڑے کمزور ممالک کی مدد کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جا رہے۔…

Read More

پاکستان ہمیشہ کسی نہ کسی بحران یا شدید مسئلے کا شکار رہتا ہے جس کے اثرات کا شکار زیادہ تر عام لوگ ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسا گھن چکر ہے جس میں عوام کو کبھی سکون کا وقفہ نہیں ملتا۔ اذیت در اذیت زندگیاں یونہی گزرتی ہیں۔ کچھ لوگ کوشش کرکے ملک سے باہر نکل جاتے ہیں اور جو رہ جاتے ہیں وہ ہر بحران کے وقت یہ کہتے سنے جاسکتے ہیں کہ ’کچھ نہیں ہوگا‘ گویا انہیں یقین ہے کہ قسمت میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ ایک راسخ مایوسی ہے۔ شہروں میں تو کچھ لوگ تنگ آکر کسی…

Read More

پاکستان میں نوجوان کل آبادی کا 63 فیصد ہیں۔ اتنی بڑی تعداد جو ملک اور اپنے لیے کچھ کرنا چاہتی ہے اور جس میں ایک جوش بھرا ہوا ہوتا ہے، وہ بے سمت ہے اور ان کا بری طرح استحصال کیا جا رہا ہے۔ بجائے اس کے کہ ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جاتا، الٹا ایسا ماحول بنادیا گیا ہے کہ وہ عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ انہیں لاعلم رکھا گیا ہے یا ان میں غلط معلومات انڈیلی جارہی ہیں۔ اور پھر جب یہ کسی بھی مفادپرست سیاسی یا مذہبی گروہ کا حصہ بن…

Read More

اسلاموفوبیا، بلاشبہ ایک حقیقی سنجیدہ مسئلہ ہے اور اسے اب باقاعدہ اقوام متحدہ کی جانب سے جرم تسلیم کرتے ہوئے 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے سدباب کا عالمی دن مقرر کیا گیا۔ یہ ایک قابل ستائش پیش رفت ہے، اس سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف منافرت کی فضا کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ یہ ضروری ہے کہ اس طرح کے منفی جذبات کی حدت کو کم کرنے کی مزید بھی کوششیں ہونی چاہئیں، لیکن اس کے ساتھ جو چیز اہم ہے وہ یہ بھی ہے کہ اس کے اسباب کا غیرجانبدارانہ جائزہ بھی لیا جائے تاکہ اس…

Read More

سعودی عرب جس تیزی کے ساتھ تبدیل ہو رہا ہے2015ء سے قبل اس کی کوئی توقع نہیں کرسکتا تھا۔ مملکت کے داخلی روایتی ڈھانچے سے قطع نظر اس کا جغرافیائی تشخص بھی جس تأثر اور امیج کا متقاضی ہے، اسے دیکھتے ہوئے حالیہ وقوع پذیر ہونے والی تبدیلیاں آسان نہیں لگ رہی تھیں۔ لیکن خطے کی مسابقتی صورتحال، مستقبل کے اقتصادی تقاضے، رجعت پسندی کا بین الاقوامی تشخص اور سلطنت کی اندرونی حکومتی کشمکش، چند ایسے عوامل ہیں جن کی بنا پر سعودی عرب کی جوان اور پرجوش قیادت آزادانہ فیصلے کرنے کے لیے کسی بھی دباؤ کو خاطر میں…

Read More

افغان طالبان کی حکومت میں آمد کے ساتھ ہی پوری دنیا میں تسلسل کے ساتھ بحث جاری ہے کہ مستقبل میں خطے پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے، یہ گروہ خود کو کتنا تبدیل کرے گا، سب سے بڑھ کر یہ کہ دیگر مذہبی عسکریت پسند جماعتوں کے بارے میں وہ کیا موقف اپنائیں گے۔ پاکستان کے لیے بھی یہی چیز سب سے اہم ہے جس کے سبب وہ طالبان کو ممکنہ حد تک سیاسی تعاون بھی فراہم کر رہا ہے۔ پاکستان کو ٹی ٹی پی اور داعش جیسی تنظیموں سے خطرہ ہے اور وہ طالبان سے امید…

Read More

چند دن قبل لاہور میں تحریک انصاف کے جلسے میں شریک ایک شخص میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر عمران خان حکم دیں کہ اپنے بیٹے کی گردن کاٹ دو تو میں یہ کرڈالوں گا۔ اس شخص کا چھ سات سال کا بیٹا اس کے سامنے ہی کھڑا تھا۔ اِس ہفتے تحریک انصاف کے حمایتی ایک شخص نے اس کے قائد پر توشہ خانہ کے معاملہ میں الزام لگانے کی وجہ سے دوسری جماعت کے فرد کو قتل کردیا، جب اس سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایسی بات پر کسی کو بھی قتل کردے گا تو…

Read More

کسی بھی نظریے کی تحریکی شکل ضروری نہیں کہ انہدامی یا تشدد پسند بھی ہو۔ اسی طرح سے مذہی تحریکوں کا معاملہ ہے۔ دنیا کے بہت سے مذاہب میں مختلف صورتوں میں اور مختلف سطح پر تحریکی عمل کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے، یہ سیاسی بھی ہے اور غیرسیاسی بھی۔ یہ تحرک البتہ عمومی طور پہ جزوی نوعیت کا ہوتا ہے کہ پورا مذہبی ڈھانچہ اور اس کے پیروکار اس مشغولیت کا حصہ نہیں ہوتے۔ جبکہ مسلم تناظر میں جو چیز اب الگ محسوس کی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ رفتہ رفتہ مذہب کا پورا ڈھانچہ ہی تحریکی شکل…

Read More

ہمارے ہاں جب سیاسی نظم کی بات ہوتی ہے تو عوام کی اکثریت اگرچہ آمریت اور ڈکٹیٹرشپ کی مخالفت کرتی ہے، تاہم ان کے ہاں جمہوریت کے جدید نظم و اقدار کی واشگاف قبولیت و حمایت بھی نہیں پائی جاتی۔ اس حوالے سے بالخصوص ملک کے سربراہ اور حاکم کے اختیارات کے ضمن میں جو مثالیت پسند تصور پایا جاتا ہے وہ ایسے حکمران کا ہے جو سخت گیر، مکمل قوتِ تنفیذ کا مالک، مگر انصاف پسند ہو۔ جس طرح آجکل بعض لوگ یہ کہہ رہے کہ وزیراعظم عمران خان اس لیے کچھ نہیں کرپا رہے کہ وہ جمہوری نظم…

Read More