ہمارے ہاں دین سے قلبی وابستگی رکھنے والوں کی کمی نہیں ۔بہت بڑی تعداد میں آج بھی لوگ دینی خدمت کے جذبے سے بہت سے کام کرتے ہیں۔دین ومذہب کے نام پر بھاری رقمیں خرچ کی جاتی ہیں۔مذہب کے نام پر ہونے والے کاموں اور فعالیتوں کے پیچھے ’’اہل خیر‘‘کا مذہبی جذبہ ہی کار فرما ہے۔ عالیشان اور شاندار مسجدیں جو بہت بڑی تعداد میں زمین کے اوپر ابھرتی چلی آرہی ہیں،عرس اور میلاد کی محفلیں جو کوچہ کوچہ میں برپا ہیں،مذہبی مجالس اورجلوس جو ہر شہر اور محلے میں انعقاد پذیر ہیں سب مذہبی جوش وجذبہ کے زندہ ہونے…
Author: ثاقب اکبر
ایک عرصہ پہلے جب میں نے بابا گرونانک کی شخصیت اور ان کے افکار کا مطالعہ شروع کیا تو مجھے یوں لگا جیسے ان کی شخصیت میرے دل میں اترتی چلی جارہی ہے۔ وہ ایک عظیم خدا پرست اور انسان دوست شخصیت تھے۔ ایک پاک دل اور پاک باز وجود، سچائی کا طالب اور سچائی کا ترجمان۔ گاہے مجھے یوں لگتا ہے کہ وہ ایک عارف مسلک انسان ہیں۔ کبھی مجھے ان کے سینے میں بندگان خدا کے لیے دھڑکنے والے دل کی دھک دھک سنائی دینے لگتی ہے۔ ان کی فکراور دل و دماغ پر اندھی تقلید کا کوئی…
برصغیر پاک وہند کی تقسیم کے بعد سے مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر اہم ترین مسائل میں سے شمار ہوتا ہے۔ اسے عام طور پر بھارت اور پاکستان کے مابین ایک مسئلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کے بنیادی فریق خود کشمیری ہیں۔ تاہم چین بھی کئی پہلوئوں سے اس مسئلے سے وابستگی رکھتا ہے بلکہ اگر اسے بھی اس مسئلے کا ایک فریق کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ سی پیک کے معاہدے کے بعد اس مسئلے سے چین کی دلچسپی اور بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ ہم اس مضمون…
ان خطوط کے اہم نکات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ علامہ اقبال نے ان میں اسلام کے ثقافتی مسائل کی اہمیت، سیاسی جدوجہد میں عوامی امنگوں اور ضروریات کو پیش نظر رکھنے، اشتراکیت کے اسلام لیے خطرہ نہ ہونے کے باوجود اس سے استفادے کے امکانات، مسلمانوں میں موجود خود غرض سیاستدانوں کا طرز عمل ہندوستان کے مسلمانوں کی حقیقی مشکلات نیز فلسطین کے مسئلے کی عالم اسلام کے لیے انتہائی اہمیت کا ذکر کیا ہے علامہ اقبال نے قائداعظم محمد علی جناح کے نام 23 مئی 1936 سے 10 نومبر1937 کے درمیان تیرہ خطوط…
جب دین کو ایک انسانی تہذیب کے طور پر نہ دیکھا جائے تو پھر مذہبی کتابوں میں موجود عبارات میں سے انفرادی طور پر احکام و مسائل کے استنباط اور استخراج کا طریقہ رواج پا جاتا ہے۔ ہر شخص مختلف عبارتوں سے اپنے ذوق اور انداز فکر کے مطابق مفاہیم اخذ کرتا ہے۔ اپنی پسندیدہ شخصیات یا جن کی عظمت کا تصور ذہن پر چھایا ہوتا ہے ان کے نقطۂ نظرکی روشنی میں مسائل کے بیان کا طریقہ رواج پا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے ہاں اس وقت یہی طریقہ کار رائج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام طور پر اسلام…
اجتماعی اجتہاد کا موضوع ایک عرصے سے فقہی اور علمی مجالس کا عنوان بنا ہوا ہے؛ البتہ عملی لحاظ سے اس پر پیشرفت کم ہی دکھائی دیتی ہے اور زیادہ تر مسائل میں انفرادی فقہی آراء کی طرف عوام کو رجوع کرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ بیشتر ریاستی قوانین ایسے ہیں جن کی وجہ سے لوگوں کا علما و فقہا کی طرف رجوع کم ہو گیا ہے تاہم بعض مسائل ایسے ہیں جن میں ابھی تک مفتیانِ کرام اور فقہا عظام کی طرف ہی مراجعت کی جاتی ہے۔ اجتماعی اجتہاد کی ضرورت کئی پہلوو ¿ں سے بیان کی جا سکتی ہے۔…
یوم استاد پر مدارس کے اساتذہ کو عموماً بھلا دیا گیا۔ پانچ اکتوبر کو پاکستان سمیت پوری دنیا میں یوم استاد منایا گیا۔ استاد کو روحانی باپ قرار دیا گیا ہے۔ عالمی سطح پر اس دن کا منایا جانا ظاہر کرتا ہے کہ پوری انسانیت کے نزدیک استاد کا مقام بہت بلند ہے۔ انسانی مقام اس کے علم سے جڑا ہوا ہے۔ کسی کا علمی مرتبہ اس کے مقام انسانی کا پیمانہ قرار پاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آدم کو علم میں تفوق کی وجہ سے فرشتوں پر فضیلت حاصل ہوئی اور وہ مسجود ملائک قرار پایا جب کہ…
محرم الحرام کا ایک اہم اور اساسی پہلو تو مذہبی ہے دوسرا پہلو تاریخی ہے اور تیسرا ثقافتی ہے۔ اس مہینے میں دنیا بھر میں بسنے والے مسلمان اپنے رسولؐ کے پیارے نواسے حضرت امام حسینؑ کی سرزمین کربلا پر عظیم قربانی کی یاد طرح طرح سے مناتے ہیں۔ اس کے پس منظر میں امام حسینؑ کا دینی مقام اور تاریخی اعتبار سے آپ کے اقدام پر بات ہوتی ہے، تاہم ان کی یاد منانے کے طریقوں نے صدیوں کا سفر کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں علاقائی ثقافتوں کے ہم رنگ ہو کر مختلف شکلیں اختیار کرلی ہیں۔ دنیا کے…
سیکولرازم کے بارے میں نئے سرے سے سوچنے میں کیا حرج ہے؟ اگر مولانا مودودیؒ اور ان جیسے اکابر کے نزدیک سیکولرازم کا ایک معنی لادینیت ہے تو اس کے لیے دوسری تعبیر ’غیر فرقہ وارانہ نظام‘ بھی ہو سکتی ہے۔ سیکولرازم کو جب ہم مغربی تہذیب کے اس تناظر میں دیکھتے ہیں کہ جب کلیسا کے استبداد کے خلاف ایک ہمہ گیر بغاوت ہوئی اور ردعمل نے مذہب کے عنوان سے موجود ہر چیز کو سیاسی اور ریاستی نظام سے دیس نکالا دے دیاتو حکومتیں آزاد ہو گئیں کہ وہ کسی مذہبی دستاویز کو قانون سازی کی بنیاد نہ…
گذشتہ دو قسطوں کے خلاصے کے طور پر یہ سطور پیش نظر رکھیے: اس سرزمین پر سب انسانوں کے ایک ہونے کا نظریہ نیا نہیں۔ دنیا میں بہت سے مصلح، مفکر، نبی، فلسفی اور سیاست دان ایسے آئے جنھوں نے انسان کو بحیثیت انسان دیکھا۔ بعض سیاستدان اور حکمران ساری زمین پر اپنی حکومت کے قیام کا خواب دیکھتے رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے بعض نے کوششیں بھی کی ہیں اور ان میں سے بعض جزوی طور پر کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ بہت سے نظریات، افکار، نظام، مذاہب، ادیان اور تہذیبیں بھی سرحدوں اور نسلوں سے ماورا،قلب و…
