Author: قاسم نسیم

’’ساب! چھوڑ آج بہتر سال بعد ہماری باتوں پر کون یقین کرتا ہے کہ ہم نے کس بے سرو سامانی کے عالم میں ایک ریاست کی منظم فوج کے ساتھ جنگ لڑی اور کامیابی حاصل کی۔ اِن واقعات کو بیان کرتے ہیں تو آج لوگ اس کو گھڑی ہوئی کہانی سمجھیں گے۔ کیونکہ یہ واقعات ناقابل یقین حد تک منفرد ہیں، لہذا ہماری بات کو کوئی سننے کو تیار نہیں۔ مہینوں گھروں سے دُور اور دشمن کے نرغے میں رہ کر ہم نے جنگ تو جاری رکھی مگر یہ سوال نہ پوچھیے گا کہ ہمیں محاذ جنگ پر کیا سہولتیں…

Read More

بلتستان دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو سمیت آٹھ ہزار میٹر سے بلند چار چوٹیوں، قطبین کے بعد بڑے گلیشئرز، دنیاکے بلند ترین سطح ِمرتفع دیوسائی اور دلفریب مناظر سے بھرپور وادیوں کی سرزمین ہونے کے ناطے دنیا بھر میں اس خطے کا ایک ممتاز نام ہے۔ دنیاکے بلند ترین برف زار پر واقع محاذِ جنگ سیاچن کے باعث اس مقام کی حساسیت بھی ملک کے لیے غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہے۔ سب سے بڑھ کر بلتستان کی منفرد تہذیب و ثقافت اور یہاں کے لوگوں کی امن پسندی وہ خوبی ہے جو کم علاقوں کے نصیب میں…

Read More

کسی شہر میں ایک پولیس اہلکار کو یہ ٹاسک دیا گیا تھا کہ کہ اُس نے شام تک سو گاڑیوں کا چالان کرنا ہے۔ وہ کوشش کرتا رہا، مقررہ وقت ختم ہونے کو آیا مگر ایک سو چالان پورے ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ اِسی اثنا میں اسے ایک شخص نظر آیا جو ہاتھ میں ہیلمٹ پکڑے فٹ پاتھ پر سے پیدل گزر رہا تھا۔ پولیس اہلکار نے اس شخص کو روکا اور کاپی نکال کر چالان کر کے پرچی تھما دی۔ پیادہ شخص پولیس اہلکار سے پوچھنے لگا آخر مجھے بتایا جائے کہ کس بات پر میرا…

Read More

معروف طبیب اور شاعر و ادیب سید تقی عابدی نے پچھلے دنوں بلتستان کا مختصر دورہ کیا۔ سکردو میں ملک کے دیگر بڑے شہروں کے مقابلے میں زیادہ نہیں توکچھ کم ادبی سرگرمیاں بھی نہیں ہوتیں۔ ہر ہفتے ایسی کسی سرگرمی کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے ایوانِ اقبال میں علامہ اقبال کی شاعری میں مقام آدمیت و انسانیت کو اُجاگر کرتے ہوئے پُرمغز گفتگو کی۔ ڈاکٹر تقی عابدی کسی بھی فرد کے فن و شخصیت پر گفتگو کرتے ہیں تو اُس کی زندگی کے ایک ایک گوشے پر اس انداز سے روشنی ڈالتے ہیں کہ حقیقی معنوں میں…

Read More

پچھلے دنوں حکومت پاکستان کی جانب سے اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد میں ’پانچ روزہ تقریبات بسلسلہ یومِ اقبال‘ منعقد ہوئیں۔ اِن تقریبات میں تصوّرات ِاقبال کے مختلف رنگ اُجاگر کرنے کا خصوصی اہتمام کیا گیا تھا۔ وفاقی وزیر تعلیم و فنی تربیت شفقت محمود نے اس سلسلے کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ فیض احمد فیض کو اقبال سے بہت زیادہ عقیدت تھی۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ فیض احمد فیض آڈیٹوریم کی پہلی تقریب اقبال کے حوالے سے ہو رہی ہے، یقیناً فیض کی رُوح کو آج خوشی محسوس ہو رہی ہو گی۔ پروگرام کے اِن سلسلوں…

Read More

محمد حسن حسرت کی علمی وادبی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ علمی خدمات کے تناظر میں فقط اتنا کہنا ہی کافی ہوگا کہ انہوں نے بلتستان میں فاصلاتی نظام تعلیم کو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے پلیٹ فارم سے صحیح معنوں میں متعارف کرایا اور اس نظام کے تحت  بلتستان کے دور دراز علاقوں میں طلبہ و طالبات کو اُن کے گھر کی دہلیز پر اعلیٰ تعلیم کی سہولتیں پہنچا دیں۔ طلبہ و طالبات کے لیے اعلیٰ وفنی تعلیم کے حصول کو گھروں میں رہ کر حاصل کرنے کو ممکن بنایا۔ تعلیمی ورکشاپس اور امتحانی مراکز جو کبھی یہاں دستیاب نہیں…

Read More

وزیراعظم عمران خان کے دورہ گلگت کے موقع پر اُن کی تقریروں میں گلگت بلتستان کے مستقبل کے تعین کے حوالے سے کوئی ذکر نہ ہونے پر یہاں کے لوگوں میں تشویش اور مایوسی پائی جاتی ہے۔ بھارت کی جانب سے لداخ کے نقشے میں تبدیلی کرنے اور گلگت بلتستان کو بھی لداخ میں بھارتی زیر قبضہ علاقوں میں ظاہر کرنے کے رد عمل میں دفتر خارجہ کے ترجمان کے جاری کردہ موقف نے اُس پر جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ بھارت نے گلگت  بلتستان کو لداخ میں ظاہرکیا تو اِس کے جواب میں دفتر خارجہ کے ترجمان…

Read More

سسپلو سیب بالعموم پورے بلتستان اور بالخصوص پاری کھرمنگ کی دنیا بھر میں پہچان کا ذریعہ ہے۔ اب تک لوگ انفرادی سطح پر اس سیب کی مارکیٹنگ کرتے رہے ہیں جو ملک کے اندر محدود پیمانے پر تھی۔ ذایقہ، خوشبو اور جاذبِ نظر رنگت کے باعث یہ سیب خصوصی حیثیت کے حامل ہیں جس کا مقابلہ علاقے کی دوسری اقسام کے سیب نہیں کرتے۔ اس اہمیت کے پیش نظرکمشنر بلتستان نے علاقے کے عمایدین کے ساتھ مل کر سسپلو کو ملکی و غیر ملکی مارکیٹ تک پہنچانے کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ”سسپلو میلے“ کا انعقاد کیا، اس میں…

Read More

سکردو میں حسب سابق اس سال بھی عالمی یوم خوراک اور غربت کے خاتمے کے عالمی دن خاموشی سے گزر گئے۔ محکمے کی بے حسی اور ناقص کا رکردگی کا نتیجہ ہے کہ یہ علاقہ جغرافیائی اعتبار سے رسک زون ہونے کے باوجود یہاں ابھی تک فوڈ سیکورٹی کے حوالے سے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ یہاں کی آبادی اپنی خوراک اور راشن کے لیے مارکیٹ پر انحصار کرتی ہے۔ ایک مخصوص کوٹے کے تحت یہاں سال بھر کی گندم آتی ہے  جو فلور ملوں کو جاری کر دی جاتی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ…

Read More

قدرت نے بلتستان کو جہاں دیگر بے پناہ خوب صورت مناظر سے نوازا ہے اور وہاں موجود بلند و بالا چوٹیوں کے باعث یہ خطہ دنیا بھر کے سیاحوں، کوہ پیمائوں اور مہم جوؤں میں مقبول ہے۔ اس کے ساتھ خطے میں مذہبی سیاحت کے بھی بڑے مواقع موجود ہیں۔ یہ سر زمین مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کی حامل قومیتوں اور مذاہب کے پیروکاروں کا مرکز رہی ہے۔ بلتستان میں اسلام کی آمد سے قبل چودھویں صدی عیسوی تک بدھ مت کے پیرورکا ر بستے تھے۔ بدھ مت ثقافت لگ بھگ ساتویں صدی کے آخر میں یہاں پہنچی جو چودھویں…

Read More