مغل بادشاہ اکبر برصغیر کی تاریخ میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے جسے مغرب اور برصغیر کے مسلم اور غیر مسلم مورخین نے مختلف زاویوں سے دیکھا ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے اکبر کے سیاسی، سماجی اور مذہبی رجحانات اور فیصلوں پر ایک غیر جانبدار وضاحت کی ہے کہ اس کے اقدامات اپنے وقت کے تناظر میں کتنے اہم تھے۔ مولانا سندھی کے یہ افکار پروفیسر محمد سرور کی کتاب ’’مولانا عبیداللہ سندھی: حالات، تعلیمات اور سیاسی افکار‘‘ سے لیے گئے ہیں۔پروفیسر سرور،مولانا سندھی کے قریب رہے اور ان کے افکار کو زیور تحریر عطا کیا ہے۔یہ کتاب سندھ…
Author: میگزین رپورٹ
اپنے ناول ’’سمرقند‘‘ سے عالمی شہرت پانے والے امین مالوف ایک سماجی دانشور کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ ان کی زیرنظر کتاب شناخت کے بنیادی حوالوں اور ان میں ترجیحات کے تعین کے سماجی، ثقافتی اور نفسیاتی محرکات کا تجزیہ کرتی ہے۔ مصنف نے متعدد تاریخی حوالوں سے شناخت کے مسائل کا جائزہ لیا ہے اور عالمی سطح پر روزافزوں شدت پسندی کے محرکات میں کچھ نئے اور قابل توجہ نکات اجاگر کیے ہیں۔ (مدیر ) امین مالوف کی تصنیف ’’شناخت کے تناظر میں(۱۹۹۸ء)‘‘ معروف غلط فہمیوں کا محققانہ جائزہ ہے۔ مصنف نے نہایت مہارت سے ان تمام تصورات…
اردو میں اگر کوئی کتاب معاشیات یا سماجی علوم پر نظر آئے تو پہلا گمان یہ ہوتا ہے کہ یہ کسی انگریزی کتاب کا ترجمہ ہوگا۔ اگر کوئی طبع زاد کتاب ہو تو یقیناً حیرت ہوتی ہے۔ سماجی اور معاشتی امور کے ماہر ذیشان ہاشم کی کتاب ’’غربت اور غلامی: خاتمہ کیسے ہو؟‘‘ حیران بھی کرتی ہے اور ایک خوشگوار احساس بھی دلاتی ہے کہ اردو زبان ادب، مذہب اور فلسفے کے علاوہ سماجی اور معاشی تحقیقی موضوعات کے ابلاغ کی بھی متحمل ہوسکتی ہے۔ ذیشان ہاشم نے جس سہل انداز میں معیشت، سیاست، سماجیات اور آزادیوں سے وابستہ موضوعات…
پاکستانی سماج کے مختلف شعبوں میں مختلف شخصیات اپنی انفرادیت اور نمایاں کامیابیوں کی وجہ سے پاکستانیوں کے دلوں پر اپنا دائمی تاثر بنانے میں کامیاب رہی ہیں۔ ان میں سیاستدان، فوجی جرنیل، شاعر، سماجی کارکن، فنکار، کھلاڑی اور دیگر شامل ہیں۔ زیرنظر فیچر رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے قائداعظم کے بعد عبدالستار ایدھی کی شخصیت سب سے زیادہ متاثر کن رہی ہے۔ عبدالستار ایدھی نے اپنی انفرادی کوشش اور جدوجہد سے سماجی خدمات کے میدان میں نہ صرف پاکستان میں یادگار مقام حاصل کیا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ان کی کوششوں کی خاطرخواہ پذیرائی ہوئی۔ رپورٹ…
جنگ ایک المیہ ہے جس میں انسان بطور ایندھن استعمال ہوتے ہیں۔ خواہ ان کی ضرورت محاذ پر ہو یا نفرت پھیلانے کے لیے، مقتدر قوتیں ان کا بھرپور استعمال کرتی ہیں۔ شام میں مختلف متحارب عسکری اور دہشت گرد گروپوں کو دنیا بھر سے انسانی وسائل میسر ہیں۔ ایسے میں بشار الاسد کو تقویت فراہم کرنے والی قوتوں نے بھی اسی حربے کو آزمایا ہے اور معمولی تربیت کے بعد نوجوانوں کو جنگ میں جھونک رہے ہیں۔ ایران میں افغان پناہ گزین اس سلسلے میں تر نوالہ ثابت ہوئے ہیں۔ یہ تحقیقی رپورٹ اسی المیے کو بیان کرتی ہے۔(مدیر)…
شدت پسندی کے پھیلاؤ کے بین الاقوامی تناظر میں ایک اہم مسئلہ غیرملکی جنگجوؤں کا ہے۔ کسی ایک ملک میں اپنے لیے حالات ناموافق ہونے یا دیگر وجوہات کی بنا پر شدت پسند عناصر کا دیگر علاقوں میں جا کر اپنی کارروائیاں جاری رکھنا ایک ایسا مسلسل عمل ہے جو شدت پسندی کے انسداد کے اقدامات کو مشکل تر بناتا ہے۔ اس ضمن میں نہایت قابل توجہ مسئلہ تشدد کی راہ سے واپس پلٹ آنے والے جنگجوؤں کو سماجی عمل کا حصہ بنانے کا ہے۔ ارسلہ جاوید کا زیرنظر مضمون اسی موضوع پر چند اہم نکات کو اجاگر کرتا ہے۔…
گزشتہ برسوں میں پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کا مسئلہ سنگین ہوا ہے اور یہ انسانی حقوق اور ان کے تحفظ کے تناظر سے ہٹ کر ایک سیاسی مسئلہ بن گیا ہے۔پاکستان اور افغانستان کے باہمی تعلقات میں اس مسئلے کے استعمال سے ہٹ کر اس نے پاکستان کی اندرونی سیاست پر بھی اثر ڈالا ہے۔ خصوصاً بلوچستان میں ان کی آبادی اور بدلتی ہوئی نسلی اور قومیتی تفریق اہم ہے۔پاکستان پالیسی گروپ آزاد ماہرین اور مبصرین کا ایک مشاورتی گروپ ہے جو افغانستان اور پاکستان کے باہمی تعلقات پر نہ صرف نظر رکھتا ہے بلکہ اس میں بہتری کے…
’’کام کی بات‘‘قارئین تجزیات کے لیے ایک نیا سلسلہ ہے جو تین ماہ کے عرصے میں اردو اخبارات میں مذہبی ،فکری اور سماجی موضوعات پر شائع ہونے کالموں میں سے ایک کالم منتخب کرے گا۔ اس شمارے میں معروف محقق،صحافی اور محب قائداعظم منیر احمد منیر کے ایک کالم کا انتخاب کیا گیا ہے جو اگست۲۰۱۷ کو روزنامہ ’’دنیا ‘‘میں شائع ہوا۔ اس کالم میں منیر احمد منیر نے قائداعظم کے۱۱؍اگست ۱۹۴۷ کی دستور ساز اسمبلی سے خطاب پر ابہامات دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ (مدیر) مولانا شاہ محمد جعفرپھلواری نے اپنی تالیف ’’پیغمبرانسانیت‘‘میں جن بنیادوں پرمیثاق مدینہ کو…
فیمینزم ایک فکر اور ایک تحریک کے طور پر دنیا بھر میں سماجی علوم اور ادبیاتکا حصہ ہے اور اس کے مختلف مکاتب فکر موجود ہیں۔ پاکستان کے مخصوص سیاسی، ثقافتی اور تاریخی پس منظر میں اس تحریک کا سفر کئی طرح کے فکری اور عملی نشیب و فراز سے گزرا ہے۔ اس موضوع پر زیرنظر تحریر ’’فیمینزم اینڈ دی وومن موومنٹ ان پاکستان‘‘ کے زیرعنوان تحقیقی مقالے کا خلاصہ ہے جسے ڈاکٹر روبینہ سہگل نے تحریر اور ایف ای ایس اسلام آباد نے شائع کیا ہے۔ موضوع کو مزید تفصیل سے پڑھنے کے لیے مقالے کا مطالعہ کیا جا…
پاکستان کی معاصر سیاسی صورت حال میں اسمبلی کی رکنیت کی اہلیت اور نااہلیت کا سوال ایک بار پھر بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اس تنازعے کی نوعیت محض سیاسی نہیں بلکہ اس میں آئینی پیچیدگیاں بھی موجود ہیں۔ جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کا تقریباً بیس برس پہلے کا تحریر کردہ یہ مضمون اس ضمن میں نہایت اہم نکات کی طرف توجہ دلاتا ہے جسے ایک معاصر اخبار نے دوبارہ شائع کیا ہے۔ قارئینِ تجزیات کے علمی استفادے کے لیے یہ تحریر طبع ثانی پر ایڈیٹر کے نوٹ سمیت پیش ہے۔ (مدیر) جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کے…
