Author: خورشید ندیم

ایسا یقینا پہلی بارہوا ہے۔ پشاور یونیورسٹی کے ملازمین سے کہہ دیا گیا ہے کہ اس ماہ انہیں آدھی تنخواہ ملے گی۔ صرف بنیادی تنخواہ، جس میں الاؤنسز شامل نہیں ہوں گے۔ ایک عام ملازم کی بنیادی تنخواہ تیرہ سے بائیس ہزار روپے ہے۔ یہ سوچنا اب ان کا کام ہے کہ اس رقم سے وہ ایک ماہ کے اخراجات کیسے پورے کر پائیں گے؟ عام ملازمین کے ساتھ اس فیصلے سے اساتذہ بھی متاثر ہوں گے۔ وزیر اعظم صاحب کو پرانی باتیں کیا یاد دلائی جائیں؟ کوئی ایک وعدہ، کوئی ایک دعویٰ، جسے انہوں نے پورا کیا ہو یا…

Read More

نظم اجتماعی ایک ارتقا پذیر عمل ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد، یہ کہا جا سکتا ہے کہ سیاسی نظم کے دور جدید کا آغاز ہوا۔ قومی ریاست اور اقوام متحدہ، دو اداروں کی اس تشکیل نو میں اساسی اہمیت ہے۔ زمین پر مختلف لکیریں کھینچ کر قومی ریاستوں کو سندِ جواز فراہم کیا گیا اور پھر ان کی حفاظت کے لیے اقوام متحدہ کو وجود بخشا گیا۔ اس مقدمے میں وزن ہے کہ بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں جن قوتوں کے ہاتھ میں دنیا کی باگ ڈور تھی، انہوں نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اس دور…

Read More

مولانا محمد خان شیرانی کو میں زیادہ نہیں جانتا۔ جتنا جانتا ہوں، اس کی بنیاد پر یہ باور کرنا مشکل ہے کہ وہ ’کسی‘ کے اشارے پر متحرک ہوئے ہوں گے۔ اسی طرح، میں مولانا فضل الرحمن کی سیاست کو جتنا سمجھ سکا ہوں، اس کی بنیاد پر یہ ماننا بھی مشکل ہے کہ شیرانی صاحب، فضل الرحمن صاحب کو کوئی بڑانقصان پہنچا سکتے ہیں۔ نادیدہ قوتوں کے ساتھ، مولانا شیرانی کے تعلقات کبھی خوشگوار نہیں رہے۔ (نادیدہ تکلفاً لکھ دیا، ورنہ اب تو سب کچھ دیدہ ہے۔ ہم بے حجابی کے دور میں زندہ ہیں) تاریخ اور حکمتِ عملی…

Read More

مسجد رزم گاہ میں بدل جائے تو جان لینا چاہیے کہ ہمارے فہمِ دین میں بنیادی خلل واقع ہو گیا ہے۔ چند روز پہلے اسلام آباد کی لال مسجد کے قریب سے گزرا تو آزردگی نے گھیر لیا۔ معلوم ہوتا تھا مسجد نہیں کوئی قلعہ ہے۔ چاروں طرف با وردی سپاہی، خاردار تار اور خوف کی فضا۔ باہر کا یہ منظر، اندر کی کہانی سنا رہا تھا۔ اس کہانی کے کئی ابواب تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہو گئے یا گمنام قبرستانوں میں دفن ہو گئے۔ مسجد کا ماحول بتا رہا تھا کہ اس داستان کا آخری باب ابھی رقم…

Read More

بہت سے واہمے (Myths) ہیں جو ہم نے پال رکھے ہیں۔ بہت سے مغالطے ہیں، ہم جن میں مبتلا ہیں۔ وقت ایک شفیق استاد کی طرح ہمیں اس جانب متوجہ کرتا ہے۔ کوئی ہے جو سوچے اور سمجھے؟ مثال کے طور پر: 1۔ ریاست سماج پر مقدم ہے۔ سیاست درست خطوط پر استوار ہو جائے تو معاشرہ سنور جاتا ہے۔ 2۔ اصلاح کا سفر اوپر سے نیچے کی جانب ہوتا ہے۔ وقت کا حکمران اگر دیانت دار ہو تو معاشرہ دیانت دار ہو جاتا ہے۔ 3۔ منظم و مضبوط سیاسی جماعتوں کے بغیر بھی، جمہوریت اور عوامی حقوق کی کوئی…

Read More

آنکھوں سے لہو ٹپکنا، میرے اور آپ کے لیے ایک محاورہ ہے مگر مانسہرہ کے دس سالہ طالب علم کے لیے ایک واقعہ ہے۔ یہ واقعہ نہیں، حادثہ ہے جو ایک معصوم جان پر، نہیں معلوم کتنی دفعہ بیت گیا۔ وہ بار بار جس اذیت سے گزرا، وہ لہو بن کر اس کی آنکھوں سے رواں ہو گئی۔ اس بچے کی تصویر ان گنت لوگوں نے دیکھی ہو گی۔ معاشرہ زندہ ہوتا تو سراپا احتجاج بن جاتا۔ لہو نہ سہی، اس کی آنکھوں سے آنسو ضرور ٹپکتا۔ مگر افسوس کہ یہ سانحہ گروہی تصادم کے بھینٹ چڑھ کر، اہلِ مدرسہ…

Read More

’غزوہ ہند‘ کی روایات ایک بار پھر زیرِ بحث ہیں۔ تحریکی اور صحافیانہ ضروریات کے زیرِ اثر، ان روایات پر جس طرح مضامین باندھے جا رہے ہیں، لازم ہے کہ ان کا علمی جائزہ لیا جائے۔ ‘تحریکیت‘ اور ‘صحافتی پاپولزم‘ ہیجان کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جذبات کا کھیل ایک نقد سودا ہے۔ اِس ہاتھ دے، اُس ہاتھ لے۔ ہیجانی کیفیت پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سماج میں غوروفکر کی روایت پنپنے نہ پائے۔ کوئی اس کی جسارت کرے تو اسے، مغرب نواز، یہاں تک کہ منافق بھی قرار دے دیا جائے۔ لوگوں کو القاب سے نوازنے کے لیے…

Read More

تما م ٹیسٹ یہ بتا رہے ہیں کہ کینسر کا ایک مریض آخری سٹیج پر ہے۔ اگر کوئی اسے قتل کرنا چاہے تو آپ ایسے شخص کو کیا مشورہ دیں گے؟ یہی کہ ”جب آسمانی قوتیں آپ کی تائید میں کھڑی ہیں اور کارکنانِ قضا و قدر آپ کی خواہش کی تکمیل کے لیے کوشاں ہیں تو پھر آپ اپنے ہاتھ اس کے لہو سے کیوں رنگنا چاہتے ہیں؟‘‘ حکومت ڈھلوان کے سفر پر ہے۔ اس کی رفتار دن بدن تیز ہوئی جاتی ہے۔ قدموں کی لڑکھڑاہٹ پر قابو پانا اس کے بس میں نہیں رہا۔ تمام آثار یہ ہیں…

Read More

لشکری میدان میں اتر چکے۔ طبلِ جنگ بج رہا ہے۔ تلواریں بے نیام ہو چکیں۔ اس بار معرکہ اس پر برپا ہے کہ عبایہ بالجبر پہنایا جا سکتا ہے یا نہیں؟ دیکھیے میدان کس کے ہاتھ رہتا ہے۔ ایسا منظرنامہ کب تشکیل پاتا ہے؟ نقطہ نظر کا اختلاف معیوب نہیں بلکہ مطلوب ہے۔ اسی سے انسان کا سماجی ارتقا ممکن ہے۔ مسئلہ اختلاف کا نہیں، اختلاف کے آداب کا ہے۔ افسوس کہ اس منقسم معاشرے میں کم ہی کو اس کا ادراک ہے۔ رائے سازوں کے اپنے اپنے حلقے ہیں۔ وہ ان کی ترجمانی کے لیے سر بکف ہیں اور…

Read More

تادیر بارش نہ ہو تو ہر شے گرد میں اٹ جاتی ہے۔ ہر چہرہ خاک آلود۔ مظاہرِ فطرت کی مشاطگی قدرت نے اپنے ہاتھ میں رکھی ہے۔ انسان ایک محدود دائرے ہی میں بروئے کار آسکتا ہے۔ چند دن پہلے اپنے گاؤں کا رخ کیا۔ شہر سے مسافت کتنی ہے، بس یہی تیس پینتیس کلومیٹر مگر اس غمِ روزگار کا کیا علاج! مہینوں بیت جاتے ہیں اور جانا نہیں ہوتا۔ شہر کی زندگی طبیعت کو راس نہیں۔ وقت کا جبر نہ ہوتا تو کب کا مراجعت کر چکا ہوتا، اس گاؤں کی طرف جس کا خیال اب بھی کسی رومان…

Read More