Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»سینٹ میں نکاح کے لیے عمر کی تحدید خوش آئند ہے
    کالم

    سینٹ میں نکاح کے لیے عمر کی تحدید خوش آئند ہے

    ڈاکٹر عرفان شہزادBy ڈاکٹر عرفان شہزادجولائی 11, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    نکاح کے لیے عمر کی تحدید کا مسئلہ پاکستان میں اہم قضیے کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ ملکی قانون میں نکاح کے لیے لڑکے کی کم سے کم عمر 18 سال اور لڑکی کے لیے 16 سال مقرر کی گئی ہے۔ نئے بل میں لڑکی کے لیے بھی کم سے کم عمر 18 سال کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جس کی خلاف ورزی کرنے پر جرمانہ اور قید کی سزا ئیں رکھی گئی ہے۔ سینٹ نے یہ بل منظور کر لیا ہے تاہم روایتی مذہبی طبقے کی طرف سے اس کی مخالفت کی جار ہی ہے۔ مخالفت کی بنیاد دو نکات پر ہے:

    1. شریعت نکاح کے لیے عمر کی تحدید نہیں کرتی
    2. رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ سے کثیر روایات میں کم سن بچوں کا نکاح کرانا مروی ہے۔ جو امر آپؐ کے لیے اور آپ کے سامنے جائز تھا اسے اب ناجائز قرار دینا  درست نہیں۔

    کتبِ فقہ کے مطابق اکثر علما اس نظریے کے قائل ہیں کہ نکاح کے لیے بلوغت کی بھی شرط نہیں ہے چہ جائے کہ بلوغت کے بعد نکاح کی عمر کی تحدید کی جائے۔ فقہا کے مطابق بچے یا بچی کا سربراہ، باپ یا دادا، اس کا نکاح کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ تاہم اگر نکاح میں  برابری اور حسب نسب کا خیال نہ رکھا گیا ہو، یا سربراہ کی بد نیتی ثابت ہو جائے تو عدالت اسے کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ لیکن ایسا اگر نہیں ہے تو کم  سن بچی بالغ ہو جانے  کے بعد بھی اسے خود منسوخ کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ البتہ خلع کا راستہ اختیار کر سکتی ہے۔ فقہا اس کے بھی قائل ہیں کہ نابالغ بچی کی جسمانی صحت اگر متحمل ہو تو نکاح کے بعد اس سے ازدواجی تعلق بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔

    اسلامی نظریاتی کونسل نے اس مسئلے میں درمیانی راستہ نکالتے ہوئے یہ قرار دیا ہے کہ اس پر قانون سازی کی بجائے آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ کم عمری کی شادی منفی نتائج پیدا کرتی ہے۔ گویا اسے  ایک غیر مطلوب سماجی عمل  کے طور پر تو تسلیم کر لیا گیا ہے لیکن ان کے مطابق اسے بہرحال شرعی جواز حاصل ہے۔

    اس پر ہمارا موقف یہ ہے کہ ایک تو مسلمانوں پر قائم ہیئت مقتدرہ کو سماجی مصالح کی بنیا دپر نکاح کی عمر کی تحدید کے لیے قانون سازی کا اختیار حاصل ہے۔ دوسرے، نکاح کی تسلیم شدہ بنیاد یہ ہے کہ اس سے مقصود مرد اور عورت کے درمیان جنسی تعلق کو جائز حدود مہیا کرنا اور خاندان کے ادارے کی بنیاد رکھنا ہے۔ اس کے لیے نکاح کے فریقین کی شعوری رضامندی عقل و فطرت کا مطالبہ ہے۔ کم عمر یا نابالغ لڑکی کے ساتھ نکاح میں یہ مقاصد اور ان کی رضامندی کی شرط پائے نہیں جاتے۔

    مسلمانوں پر قائم ہیئت مقتدرہ کو سماجی مصالح کی بنیاد پر نکاح کی عمر کی تحدید کے لیے قانون سازی کا اختیار حاصل ہے

    قرآن مجید نکاح کے لیے نہ صرف جسمانی بلوغت بلکہ "نکاح کی صلاحیت” کو نکاح کے معیار کی حیثیت سے ذکر کرتا ہے (النور ۲۴: ۳۲۔۳۳) قابل غور بات یہ ہے کہ قرآن مجید نے نکاح کے لیےصلاحیت کو معیار بنایا ہے۔ اس میں جسمانی بلوغت کو بدیہی طور پر موجود ہے ہی، بلکہ اس سے بڑھ کراس میں یہ بھی شامل ہے کہ فرد میں گھربار کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی صلاحیت بھی موجود ہو۔

    رہا معاملہ عہد رسالت عہد صحابہ میں نابالغ بچوں کے نکاح کے واقعات کا تو اس کا حکم یا جواز شریعت کی بنیاد پر نہیں تھا۔ یہ اس وقت کے قبائلی سماج کا رواج تھا جسے  قبولیت حاصل تھی۔ اس بنا پر قرن اول میں بھی اس عمل جاری رہا۔ شریعت نے اسے علی الاطلاق ممنوع قرار نہیں دیا لیکن معیاری طرز عمل قرآن مجید میں بیان کر دیا۔ لہذا نابالغ کے نکاح کی کوئی ترغیب کہیں نہیں دی گئی، بلکہ ایسے نکاح  کے معاملے کو سماج میں تحفظات کے ساتھ دیکھا جاتا تھا۔ چنانچہ یتیم بچیوں کے معاملے رسول اللہﷺ نے ان کے بلوغت سے قبل ان کا نکاح  کرنا منع فرمایا کہ ان کے ایسے سربراہ کا امکان موجود نہیں جو ان کے  لیے باپ جیسی شفقت رکھتا ہو۔

    اس بحث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ شریعت نے بلوغت کے ساتھ  نہ صرف جسمانی بلوغت بلکہ "صلاحیت نکاح” جیسے جامع لفظ کو بطور معیار بیان کیاہے۔ اس صلاحیت کی ملکی سطح پر تعیین کے لیے حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ سماجی حالات اور مصالح کو مد نظر رکھتے ہوئے نکاح کی عمر کی تحدید کے لیے قانون سازی کرے۔

    ایک مسلم حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ نہ صرف ان معاملات میں قانون سازی کر سکتی ہے جنہیں شریعت نے موضوع نہیں بنایا، بلکہ شریعت کے بیان کردہ احکامات کے اطلاق اور نفاذ میں بھی حالات کی رعایت رکھتے ہوئے قانون سازی کر سکتی ہے۔ حضرت عمر  کے دور خلافت کی متعدد مثالیں اس ضمن میں پیش کی جا سکتی ہیں۔ مثلاً، عراق کی زمینوں کو مجاہدین میں تقسیم کرنے کی بجائے انھوں نے انہیں قومی ملکیت قرار دیا۔ عام الرمادہ کے طویل قحط کے دوران میں چوری کی سزا قطع ید کو معطل کر دیا۔ طلاق کے معاملے میں جب مسلم سماج میں بے احتیاطی بڑھنے لگی تو آپ نے بیک وقت تین طلاق  دینے کو تین ہی نافذ کرنے کا انتظامی حکم جاری کیا۔ اس بنا پر اگر یہ سمجھا  بھی جائے کہ نکاح کے لیے عمر کی عدم تحدید کو شریعت کی تائید حاصل ہے تو حالات اور مصالح کی رعایت سے بھی اس بارے میں قانون سازی کرنا ایک مسلم حکومت کا اختیار ہے۔

    اس کی مزید تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ  یتیم بچیوں کے معاملے میں رسول اللہﷺ نے ایسا کر کے دکھا بھی دیا ہے کہ جب ان کے ولیوں میں باپ جیسی شفقت کا امکان نہیں پایا گیا تو ان کے نابالغی کے نکاح کو منع فرما دیا۔ ہم اپنے سماج کو جانتے ہیں کہ ہمارے ہاں بعض طبقات اور علاقہ جات میں خواتین کو وہ عزت و مقام حاصل نہیں ہے جو ان کا بنیادی حق ہے۔ انھیں نکاح کے نام پر بیچا جاتا ہے، جھگڑے نمٹانے کے لیے انھیں بطور تاوان دشمن کے حوالے کر دیا جاتا ہے، خاندانوں میں وٹے سٹے کے نام پر ان کی مرضی کے خلاف ان کا نکاح کر دیا جاتا ہے، بلکہ (نعوذ باللہ) قرآن مجید سے ان کا نکاح کر دیا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں حکومت اگر نکاح  کی عمر کی تحدید کا قانون بناتی ہے تو اس سے کم از کم یہ ممکن تو ہوتا  ہے کہ جوان لڑکی یا لڑکا اپنے خلاف زیادتی کا ادراک کر سکے اور قانون کا سہارا لینا چاہے تو بساط بھر لے سکے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleخیبر پختونخوا اور پیپلزپارٹی کی سرگرانی
    Next Article استنبول میں دوبار شکست، ایردوان جمہوریت سے انتقام لیں گے؟
    ڈاکٹر عرفان شہزاد

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by