Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»مذہب اور ثقافت کے مابین امتیاز ضروری ہے
    کالم

    مذہب اور ثقافت کے مابین امتیاز ضروری ہے

    ڈاکٹر عرفان شہزادBy ڈاکٹر عرفان شہزاداپریل 5, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    پرامن بقاے باہمی کے لیے مذہب اور ثقافت کے مفاہیم کو درست طورسمجھنا بہت ضروری ہے۔ مذہب، عقائد اور ان سے جڑے چند مخصوص اعمال کا نام ہے جبکہ ثقافت انسان کے رہن سہن و بول چال سے وابستہ مخصوص جغرافیائی خصوصیات کے اظہار کا نام ہے۔ مذہب ثقافتی مظاہر کے وسیع ترین دائرے میں سے ایک محدود حصہ پر اثرانداز ہوتا ہے۔ اس لیے دو مختلف مذاہب کے لوگوں کی ثقافت مذہب سے باہر ایک جیسی ہو سکتی ہے جیساکہ پاکستان میں مسلمانوں اور مسیحیوں کے نام، لباس، بول چال وغیرہ میں کامل یکسانیت نظر آتی ہے۔ مختلف مذاہب کے لوگوں میں جب تک ثقافتی اقدار میں یکسانیت رہتی ہے کوئی بڑا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن جب مذہب کے نام پر ثقافتی امتیاز برتا جانے لگتا ہے تو اجنبیت، تنفر اور تقسیم کی شروعات ہوجاتی ہیں۔

    مذہبی طبقہ جب سیاست کے ساتھ وابستہ ہوا تو اس نے ثقافت کو مذہبی امتیازات کے اظہار کے لیے استعمال کیا اور یوں ایک خطے کی یکساں ثقافت کوغیر ضروری طور الگ الگ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ تب سے لوگ تقسیم در تقسیم کا شکار ہیں۔ مذہب کا مطالبہ صرف عقیدے اور رسوم وعبادات میں امتیاز قائم کرنے کا ہے۔ اس سے آگے کے مطالبات خود ساختہ ہیں۔ یہ دراصل ثقافتوں  میں امتیاز برتنے کا عمل تھا جس نے علیحدگی کا بیج بویا۔ جب مسلمانوں نے خود کو ہندوستان کی بجائے عرب ثقافت سے جوڑنا شروع کیا تو ہندو مسلم منافرت کا آغاز ہوا، ورنہ ہندؤں کو مسلمان ہوتی آبادی سے اور مساجدو مدارس کے پھیلنے سے کوئی مسئلہ نہیں رہا۔ لیکن دوسری طرف جب مسیحیوں نے خود کو ہندوستانی اور پھر پاکستانی ثقافت سے کاٹ کر خود کو یورپی ثقافت سے جوڑنا شروع کیا تو وہ بھی اپنے ہی دیس میں اجنبی ہو گئے۔ حتی کہ پانی اور برتن بھی علیحدہ ہو گئے۔ مسلمانوں نے بھی ایک وقت میں آکر ہندی نام اختیار کرنےسے انکار کیا اور عربی نام رکھنے شروع کردیے۔ حالانکہ اسلام کی تاریخ  پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ رویہ دینی نہیں تھا۔ صحابہ نے روم و ایران فتح کیے لیکن لوگوں کے لباس اور نام کچھ بھی نہیں بدلا۔ ایک صحابی کا نام جوریج منقول ہے جو علما کے مطابق جارج کی عربی صورت ہے۔ پرویز، شہریار، افراسیاب، آفتاب جیسے فارسی نام مسلمانون نے اپنائے۔ اسلامی ثقافت کی غیرحقیقی بنیاد پر عربی نام رکھنے کی بدعت بعد میں ایجاد ہوئی، جس نے سب سے پہلے ثقافتی تفریق کی بنیاد رکھی، اگلے مرحلے میں اسلامی لباس اور وضع قطع کی  طرح ڈالی گئی۔ مسلمان جب شروع میں ہندوستان آئے تھے تو انہوں نے یہاں کا طرز ِبود و باش اختیار کرلیا تھا۔ پنجابی پگڑی، راجپوتی شیروانی اور کرتا پائےجامہ مسلمانوں میں رائج ہوئے۔ بعد میں اسے بجائے ہندوستانی لباس کہنے کے سنت کے طور پر مسلمانوں میں متعارف کرا دیا گیا۔

     برصغیر میں ثقافتی تفریق کا عمل اس وقت زیادہ نمایاں ہوکر سامنے آیا جب 1909 میں اس اساس پر جداگانہ انتخابات کا ڈول ڈالا گیا۔ اس کے بعد عام لوگوں کی جانب سے ٹوپی، کلائی کے کڑے، ماتھے پر تِلک اور گلے میں صلیب کے ساتھ جگہ جگہ اپنی مخصوص وابستگی کے اعلان اور فخر کے اظہار کا سلسلہ چل نکلا

    مذہب وثقافت کے مابین فرق نہ کرنے کی وجہ سے مسلمانوں نے عربی نام رکھنے شروع کردیے۔ مسیحیوں نے  بھی اپنے نام ڈیوڈ، مائیکل، سائمن رکھے۔ یہ غیر فطری کوششیں تھیں۔ دیہی علاقے جہاں دیسی ثقافت نسبتا محفوظ ہے وہاں آج بھی مسیحی اپنے نام اقبال، اختر، مبارک وغیرہ رکھتے ہیں جو ہماری ثقافت کے اصل مظاہر ہیں۔ برصغیر میں ثقافتی تفریق کا عمل اس وقت زیادہ نمایاں ہوکر سامنے آیا جب 1909 میں اس اساس پر جداگانہ انتخابات کا ڈول ڈالا گیا۔ اس کے بعد عام لوگوں کی جانب سے ٹوپی، کلائی کے کڑے، ماتھے پر تِلک اور گلے میں صلیب  کے ساتھ جگہ جگہ اپنی مخصوص وابستگی کے اعلان اور فخر کے اظہار کا سلسلہ چل نکلا۔ جس نے فاصلوں کو اور زیادہ بڑھا دیا۔ امتیازات پر زور یہ بتاتا چلا گیا کہ ہم خود کو آلگ سمجھ رہے ہیں اور اب ہر ہر معاملے میں علیحدگی چاہتے ہیں، اور پھر یہ تفریق ملکوں کی علیحدگی کا سبب بنی۔

    ثقافت کی بنیاد پر انتہاپسندانہ تقسیم مذاہب نے نہیں سکھائی تھی۔ یہ ان مذاہب کے پیروکار تھے جو مذہب کے دائرے کو مذہب  کی روح کے برعکس بڑھاتے چلے گے۔ آدمی کبھی بھی اپنی ثقافت سے مکمل علیحدہ نہیں ہو پاتا۔ ہندوستان سے الگ ہوئے پون صدی ہو گئی۔ لیکن ہمارا لباس ،زبان، ذوق، حس مزاح، مسائل، موسیقی سب آج بھی یکساں ہے۔ خواہ مخواہ کے امتیاز پیدا کر کے خود کو اجنبی بنانا ٹھیک رویہ نہیں ہے۔ ثقافت کے دائرے میں سب کو یکسانیت اپنا نی چاہیے، اس سے مذہبی امتیازات کے باوجوداجنبیت پیدا نہیں ہوتی۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleبچوں کا جنسی استحصال اور ہماری ذمہ داریاں
    Next Article سہ ماہی تجزیات کا تازہ شمارہ شائع ہوگیا ہے
    ڈاکٹر عرفان شہزاد

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by