Author: عاطف ہاشمی

خلیجی ممالک میں قطر کوایک خاص امتیازی حیثیت حاصل ہے جس کا اعتراف بین الاقوامی سطح پر بھی کیا جاتا ہے۔ لیکن ایک چھوٹا سا ملک باوجود تنازعات و مشکلات کے یہاں تک کیسے پہنچا، یہ ایک منفرد تاریخ ہے جس میں آلِ ثانی کا کردار بہت اہم ہے۔ عاطف ہاشمی قطر میں مقیم محقق اور مدرس ہیں، انہوں نے زیرنظر مضمون میں قطر کی تاریخ سے متعلق حقائق پیش کیے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ اس چھوٹے سے ملک نے کیسے تیزی کے ساتھ ترقی کی منازل طے کیں۔ موجودہ قسط قطر کے نوآبادیاتی دور کے حوالے…

Read More

 وجبہ کی 1893ء کی لڑائی میں قطر نے عثمانی افواج کو شکست دے کر ان سے بھاری مقدار میں اسلحہ قبضے میں لے لیا تھا۔ جس کے بعد 21 اپریل کو برطانوی قونصلر دوحہ پہنچا اور شیخ جاسم اور عثمانی گورنر کے درمیان صلح کروانےکے لیے ثالثی کی پیشکش کی، لیکن عثمانی گورنر نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا۔

Read More

خلیجی ممالک میں قطر کوایک خاص امتیازی حیثیت حاصل ہے جس کا اعتراف بین الاقوامی سطح پر بھی کیا جاتا ہے۔ لیکن ایک چھوٹا سا ملک باوجود تنازعات و مشکلات کے یہاں تک کیسے پہنچا، یہ ایک منفرد تاریخ ہے جس میں آلِ ثانی کا کردار بہت اہم ہے۔ عاطف ہاشمی قطر میں مقیم محقق اور مدرس ہیں، انہوں نے زیرنظر مضمون میں قطر کی تاریخ سے متعلق حقائق پیش کیے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ اس چھوٹے سے ملک نے کیسے تیزی کے ساتھ ترقی کی منازل طے کیں۔(مدیر) جدید قطر اور آل ثانی خاندان کا چولی…

Read More

فیفا ورلڈ کپ 2022ء کے لیے دنیا بھر کی نظریں ننھے سے خلیجی ملک قطر پر مرکوز ہیں۔ اس سلسلے میں قطر میں تیاریوں کا سلسلہ آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ گزشتہ ہفتے قطری آرٹسٹ بثینہ کے ڈیزائن کردہ فیفا پوسٹر کا اجراء بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ کل قطر اکنامک فورم کی طرف سے یہ بیان جاری کیا گیا ہے کہ قطر عالمی کپ کے لیے بالکل تیار ہے۔ جب سے فیفا ورلڈ کپ 2022ء کی میزبانی کے لیے قرعہ فال قطر کے نام نکلا، قطر کے بدخواہوں نے اسے ناکام کرنے کی ازبس کوششیں…

Read More

سیاحت اور نرم سفارت کاری (Soft Diplomacy) میں تیزی سے بڑا نام بنانے والے ننھے سے ملک قطر کا شمار دنیا کے امیرترین اور پرامن ممالک میں ہوتا ہے۔ خلیج فارس کے دامن میں واقع 11586 مربع کلومیٹر رقبے کو محیط یہ جزیرہ نما تین اطراف سے پانی میں گھرا ہوا ہے جبکہ جنوب کی طرف سے اس کی زمینی سرحدیں سعودی عرب سے جا ملتی ہیں۔ اس طرح اس کا سمندری ساحل 563 کلومیٹر جبکہ زمینی بارڈر 87 کلومیٹر ہے۔ تاریخ کی کتابوں میں قطر کی وجہ تسمیہ یہ ذکر کی گئی ہے کہ یہاں بارش بہت زیادہ ہوتی…

Read More

نجود علی یمن سے تعلق رکھنے والی ایک بچی ہے جس کی شادی اس کے بچپن میں کسی ادھیڑ عمر شخص سے کردی جاتی ہے جو بجائے خود ایک ظلم ہے مگر اس پر مستزاد یہ کہ اس پر شوہر کی جانب سے کام کاج اور دیگر امورِ خانہ داری سے ساس سسر کی خدمت تک کی سبھی ذمہ داریوں کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ اس پر ظلم و زیادتی اور تشدد کو بھی روا رکھا جاتا ہے۔ اس ظلم وجبر سے نجات کے لیے گھر سے نکلنے اور طلاق لینے میں کامیابی تک کے مراحل کو آپ بیتی کی صورت میں ایرانی نژاد فرانسیسی صحافی اور مصنفہ ڈیلفن مینوئے (Delphine Minoui) نے”I’m Nujood: Age 10 and Divorced” کے نام سے تحریر کیا ہے۔ نجود علی جبری اورکم عمری کی شادی کے خلاف مزاحمت کی علامت سمجھی جاتی ہیں اوران کی آپ بیتی کا اب تک تیس سے زائد زبانوں میں ترجمہ کیا جاچکا ہے۔ اردو میں اس کتاب کا ابھی تک کوئی ترجمہ سامنے نہیں آیا۔ ہمارے سماج میں بھی جبری و کم عمری کی شادی اور گھریلو تشدد ایک المیے کی صورت موجود ہے۔ ایک باہمت کم عمر لڑکی کی آپ بیتی یقیناً ہمارے ذہنوں کو ضرور جھنجھوڑے گی۔ سہ ماہی تجزیات اس کتاب کا اردو ترجمہ قسط وار شائع کرتا رہا ہے جسے قارئین میں پذیرائی حاصل رہی۔ اس سلسلے کی آٹھویں قسط پر سلسلہ اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ (مدیر)

Read More

نجود علی یمن سے تعلق رکھنے والی ایک بچی ہے جس کی شادی اس کے بچپن میں کسی ادھیڑ عمر شخص سے کردی جاتی ہے جو بجائے خود ایک ظلم ہے مگر اس پر مستزاد یہ کہ اس پر شوہر کی جانب سے کام کاج اور دیگر امورِ خانہ داری سے ساسس سسر کی خدمت تک کی سبھی ذمہ داریوں کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ اس پر ظلم و زیادتی اور تشدد کو بھی روا رکھا جاتا ہے۔ اس ظلم وجبر سے نجات کے لیے گھر سے نکلنے اور طلاق لینے میں کامیابی تک کے مراحل کو آپ بیتی کی صورت میں ایرانی نژاد فرانسیسی صحافی اور مصنفہ ڈلفن مینوئے (Delphine Minoui) نے”I’m Nujood: Age 10 and Divorced” کے نام سے تحریر کیا ہے۔ نجود علی جبری اورکم عمری کی شادی کے خلاف مزاحمت کی علامت سمجھی جاتی ہیں اوران کی آپ بیتی کا اب تک تیس سے زائد زبانوں میں ترجمہ کیا جاچکا ہے۔ اردو میں اس کتاب کا ابھی تک کوئی ترجمہ سامنے نہیں آیا۔ ہمارے سماج میں بھی جبری و کم عمری کی شادی اور گھریلو تشدد ایک المیے کی صورت موجود ہے۔ ایک باہمت کم عمر لڑکی کی آپ بیتی یقیناً ہمارے ذہنوں کو ضرور جھنجھوڑے گی۔ سہ ماہی تجزیات اس کتاب کا اردو ترجمہ قسط وار شائع کررہاہے۔ اس سلسلے کی ساتویں قسط آپ کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے۔ (مدیر)

Read More

نجود علی یمن سے تعلق رکھنے والی ایک بچی ہے جس کی شادی اس کے بچپن میں کسی ادھیڑ عمر شخص سے کردی جاتی ہے جو بجائے خود ایک ظلم ہے مگر اس پر مستزاد یہ کہ اس پر شوہر کی جانب سے کام کاج اور دیگر امورِ خانہ داری سے ساسس سسر کی خدمت تک کی سبھی ذمہ داریوں کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ مزید یکہ اس پر ظلم و زیادتی اور تشدد کو بھی روا رکھا جاتا ہے۔ اس ظلم وجبر سے نجات کے لیے گھر سے نکلنے اور طلاق لینے میں کامیابی تک کے مراحل کو آپ بیتی کی صورت میں ایرانی نژاد فرانسیسی صحافی اور مصنفہ ڈلفن مینوئے (Delphine Minoui)نے”I’m Nujood: Age 10 and Divorced”کے نام سے تحریر کیا ہے۔ نجود علی جبری اورکم عمری کی شادی کے خلاف مزاحمت کی علامت سمجھی جاتی ہیں اوران کی آپ بیتی کااب تک تیس سے زائد زبانوں میں ترجمہ کیا جاچکا ہے۔اردو میں اس کتاب کا ابھی تک کوئی ترجمہ سامنے نہیں آیا۔ ہمارے سماج میں بھی جبری و کم عمری کی شادی اور گھریلو تشددایک المیے کی صورت موجود ہے۔ ایک باہمت کم عمر لڑکی کی آپ بیتی یقیناً ہمارے ذہنوں کو ضرور جھنجھوڑے گی۔ سہ ماہی تجزیات اس کتاب کا اردو ترجمہ قسط وار شائع کررہاہے۔ اس سلسلے کی پانچویں قسط آپ کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے۔(مدیر)

Read More

قانونِ فطرت کے مطابق ہر شب کا اختتام سحر پر ہونا یقینی ہے۔ رات کی تیرگی کا حد سے بڑھ جانا اور ستاروں کی تنک تابی اس بات کی دلیل ہے کہ صبح روشن کی آمد آمد ہے۔  یوں بھی ہوتا ہے کہ شب تاریک کے بعد جب    مستطیل پھیلتی ہوئی صبح  کے آثار دکھائی دینے لگتے ہیں اور  طلوع سحر کا جلوہ دیکھنے کے لیے بے تاب سکھ کا سانس لیتے ہیں کہ تھوڑی ہی دیر میں وہ روشنی  پھر سےتاریکی میں گم ہو جاتی ہے، کیونکہ جسے دیکھنے والوں نے صبح کا گمان کر لیا تھا وہ صبح…

Read More

"قطر تو انتہائی چھوٹا سا ملک ہے اور اس کا سارا معاشی انحصار  ہم پر ہے،  اگر ہم صرف المراعی دودھ  ہی بند کر دیں تو قطر چند دنوں میں   گھہٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے گا” یہ تھی وہ نفسیات جس کے تحت قطر کے پڑوسیوں نے   13 نکاتی مطالبات منوانے کے لیے قطر  سےبائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔ سیاسی اور سفارتی  مقاطعہ کے بعد دوسرے مرحلے میں سعودی  عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کی جانب سے 5  جون 2017ء کو رمضان  کے مہینے میں شروع ہونے والے اس اقتصادی بائیکاٹ  کے اگلے ہی روز قطر شدید…

Read More