Author: محمد عاصم بٹ

مابعد جدیدیت کی اصطلاح مابعد جدید زمانے کی شاید سب سے زیادہ غلط سمجھی گئی اصطلاحات میں سے ایک مانی جاسکتی ہے۔ بیسویں صدی کے وسط میں جب مابعدجدیدیت کی اصطلاح فلسفہ کے ساتھ ساتھ مصوری، موسیقی، تعمیرا ت کے فن اور ادب میں بھی نئے طرز احساس کے اظہار کے لیے استعمال میں آنے لگی تو اس کے خلاف عالمی سطح پر مزاحمت کا رویہ بھی موجود رہا۔ چوں کہ یہ طرز فکر قدامت سے بیر رکھتی ہے اور ہر اس شے کو ہدف تنقید بناتی ہے جس کا تعلق ماضی سے ہو اور جو حتمیت کی دعویدار ہو،…

Read More

منٹو کے فن اور شخصیت پر لکھے جانے کا سلسلہ ان کی زندگی ہی میں شروع ہوگیا تھا۔ وہ زندہ ہی تھے کہ ان کی لیجنڈری حیثیت قائم ہونا شروع ہوگئی تھی۔ آج جب کہ ان کی وفات کو ساٹھ سے زائد برس بیت چکے ہیں، اس دوران میں ان کی شخصیت اور کام کا شاید ہی کوئی پہلو، کوئی جہت ایسی ہو جس پر لکھا نہ گیا ہو۔ لیکن منٹو کو یاد کرنے کے لیے یہ بات اہم نہیں ہے کہ اس کے کس خاص پہلو کو زیر بحث لایا جائے۔ منٹو کو کہیں سے بھی شروع کیا جائے،…

Read More

اردو ادب کو ہی نہیں جرمن ادیب فرانز کافکا نے عالمی ادبی منظرنامے کو اپنے اسلوب نگارش سے متاثر کیا۔ تاہم بہت ضروری ہے کہ کافکا کے اردو ادب پر اثرات سے پہلے اس کے فن کے بنیادی محرکات سے آگاہی حاصل کی جائے اور یہ جاننے کی کوشش کی جائے کہ وہ کیوں کر انسانی ذات  کی گہرائیوں کا بیسویں صدی کا سب سے مؤثر اور منفرد بیان کار قرار پاتا ہے۔ کافکا کی آواز بیسویں صدی کے ادب کی ایک نہایت توانا اور منفرد آواز مانی جاتی ہے۔ اس آواز میں جدید مبتلائے کرب انسان کی چیخ ہے،…

Read More

بھیشم ساہنی کا تعلق چونکہ پوٹھوہار کے علاقے سے تھا اور یہیں سے ہجرت کرکے وہ انڈیا گئے، تو اس ناول کا لوکیل بھی بنیادی طورپر راولپنڈی اور اس کا گردونواح کا علاقہ ہے تقسیم اور اس سے جڑے ہوئے ہجرت اور فسادات کے واقعات کی ہولناکی نے سرحد کے دونوں طرف لکھنے والوں کی ایک سے زائد نسلوں کو متاثر کیا اور اردو ہی میں نہیں بلکہ ہندی اور برصغیر کی دیگر زبانوں میں بھی اس موضوع پر شعر و نثر میں بہت لکھا گیا۔ منٹو کے گنجے فرشتے اور ٹوبہ ٹیک سنگھ فوراً ہی اس موقع پر ذہن…

Read More

مرزا غالب کا شمار ان معدودے چند شان دار ادبی شخصیات میں ہوتا ہے جن کی ادبی اور ذاتی شخصیت کو بیک وقت خاص و عام میں مقبولیت حاصل ہوئی۔ وہ اپنی ادبی شخصیت میں جیسے پُربہار ہیں اپنی ذاتی شخصیت میں بھی ویسی ہی رنگینی اور جاذبیت رکھتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی معاملہ آپ کی نثر اور شاعری کے حوالے میں بھی ہے۔ شاعری میں غالب کا جو مقام و مرتبہ ہے، وہ اظہر من الشمس ہے۔ لیکن نثر میں بھی آپ کی حیثیت کسی طور کم نہیں ہے۔ اردو میں نثر کے فروغ میں آپ کو وہی درجہ…

Read More

دنیا کی عظیم ترین داستانوں کا شمار کیا جائے کہ جنھوں نے صدیوں سے انسانی تخیل کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے اور آج بھی وہ اسی ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں، جیسے ماضی میں، اور یہ کہ انسانی مزاجوں اور زندگیوں پر جن کے اثرات میں کبھی کمی نہیں آئی اور نہ ہی ان کی عوامی مقبولیت میں، تو شاید ہی الف لیلہ و لیلہ کے علاوہ کسی اور داستان کا نام ذہن میں آئے۔ الف لیلہ ولیلہ ایک ہزار ایک راتوں میں بیان کی گئی کہانیوں کا مجموعہ ہے جو بنیادی طورپر ایک ہی لڑی…

Read More

اپنی زندگی میں خان فضل الرحمن خان پاک ٹی ہاؤس میں ہونے والے ادبی اجلاسوں کے مستقل شرکاء میں سے شامل ہوتے تھے ۔ عموماً پہلی قطار میں بیٹھتے ، پیش کی جانے والی ہر تحریر کو بغور سنتے اور پھر ایک یا دو جملوں میں بے لاگ اور حتمی انداز میں رائے دیتے تھے۔ یہ آپ کا مخصوص انداز تخاطب تھا۔ وہ شہادت کی انگلی بلند کرکے صاحب صدر سے بولنے کی اجازت طلب کرتے اور جو رائے دیتے، اسے سینئر نقاد بھی توجہ کے ساتھ سنتے اور مانتے تھے۔ خان فضل الرحمن قریب چھ فٹ کے لمبے تڑنگے…

Read More

الطاف فاطمہ نے صلے اور انعام کی خواہش کے بغیر تمام عمر پرورش قلم و ادب میں صرف کی۔ نہ صرف یہ کہ اس خواہش سے تمام عمر خود کو پاک و صاف رکھا بلکہ ایسے ہر موقع پر جب انھیں کسی فرد یا ادارے کی طرف سے اعتراف فن کے طور پر اعزاز یا انعام دینے کی پیشکش ہوئی، انھوں نے اپنے مؤقف کے پائے استقلال میں لرزش نہیں آنے دی،اور ایسی ہر پیشکش کو رد کیا۔ آپ نے خود کو ادبی سماجی منظر نامے سے بھی دور رکھا۔ کسی ادبی گروہ بندی کا حصہ نہ بنیں اور نہ…

Read More

ہر نئے دور کا اختصاص اس کا نیا پن ہوتا ہے جو اسے باقی ادوار سے ممتاز و منفرد بناتا ہے۔ یہ نیا پن اس کے اخلاقی اور جمالیاتی نظام میں جھلکتا ہے اور اس کی اقدار، فنون اور ادب میں اپنا اظہار پاتا ہے۔ یہ نیا پن ہر دور میں اوراپنے اجزا میں جداگانہ ہوسکتا ہے، لیکن اس کے بنیادی اصول اورڈھانچہ نہیں بدلتا۔ یہ نیا پن کیا ہے جس سے دیگر ادوار محروم ہوتے ہیں، ایک ناول نگار اس نئے پن کو تلاش کرنے میں اپنے عصر کی مدد کرتا ہے۔ آج کے دور کا نیا پن حقیقت…

Read More

غلام عباس کا طویل افسانہ ’دھنک‘ جیسا 1969میں برمحل تھا،جب یہ تخلیق ہوا تھا، اور اپنی ایک خاص معنویت رکھتا تھا، ایسے ہی آج بھی اس کا جواز بہت واضح ہے اور اس کی معنویت کے کئی نئے پہلو وا ہوتے ہیں۔ پیلی، نیلی اور سفید پگڑیوں والے ملاؤں کی کہانی اس دور میں ضرور قبل از وقت تصور کی جا سکتی ہوگی، لیکن آج اس کے برموقع ہونے کی کہیں زیادہ ٹھوس شہادتیں موجود ہیں۔ دھنک میں ایسے معاشرے کی کہانی بیان کی گئی ہے جو اعلی تر سائنسی کمالات کے درجے پر پہنچنے کے بعد محض مذہبی تنگ…

Read More