Author: محمد عاصم بٹ

پہلا باقاعدہ ناول مراة العروس کو مانا جاتا ہے جو 1869ء میں شائع ہوا۔یہی مرزا غالب کا سال وفات بھی ہے۔ یوں اردو نثر اور ناول کی کم و بیش ایک ہی عمر مانی جا سکتی ہے اور یہ ڈیڑھ سو برس سے زیادہ نہیں ہے۔ اردو میں لگ بھگ ڈیڑھ سو برسوں پر پھیلی تاریخ کی حامل اس صنف ناول میں ہم عالمی معیار کے شاید اتنے ناول بھی پیدا نہیں کرپائے جتنی انگلیاں ہمارے ہاتھوں میں ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے برعکس عام دلچسپی کے ناول جنھیں کمرشل فکشن کا نام دیا جاتا ہے، اردو…

Read More

‘المیہ کا سفر’ نام دے کر اشفاق سلیم مرزا صاحب نے اپنی کتاب کے لیے آئندہ ہونے والی گفتگو کو خود ہی ایک سمت دینے کا اہتمام کیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ دنیائے ادب میں المیہ کا آغاز یونانی ڈرامہ کو مانا جاتا ہے۔ جب کہ یہ کتاب یونانی کلاسیک ڈراموں کے اردو تراجم پر مشتمل ہے۔یہ یونانی ڈرامہ نگار ہی تھے جنھوں نے اپنی تخلیقات میں المیہ کے عنصر کو متعارف کروایا اور اصل میں انھوں نے عالمی ادب میں المیہ کی روایت کی داغ بیل ڈالی۔ اس سے پہلے عالمی ادب میں المیہ کا کوئی تصور نہیں…

Read More

معذور افراد کی جو بھی صورتیں فوری طورپر اس کے ذہن میں آئیں، ان میں سے کسی ایک کے لیے بھی بس میں داخل ہونے کا کوئی آسان راستہ ممکن نہیں تھا بس کی بریکیں شاید ہوا خارج کرتی تھیں کیوں کہ جب انھیں لگایا جاتا تو ہوا کا بھبھکا سا شراٹے اور سیٹی مارتا خارج ہوتا اور ایسا بار بار ہونے سے اس کی توجہ کسی اور طرف جا ہی نہیں پا رہی تھی۔ وہ دروازے کے برابر ہی ایک سیٹ پر بیٹھا تھا۔ تبھی اس کی نظر کھڑکی کے پاس ہی لگی ایک تختی پر پڑی، لکھا تھا،…

Read More

ارشد وحید نے اس ناول کو اردو میں ڈھالتے ہوئے عمدہ نثر اور فن ترجمہ میں اپنی مہارت کے باعث اردو قاری کو بھی حیرت اور خوشی کے اس سفر میں برابر شریک رکھا بقائے دوام کی کہانی کا آغاز ایک دل ربا اشارے سے زندگی پاتا ہے۔ ایک عورت رخصت ہوتے ہوئے سوئمنگ پول کے قریب اپنے سوئمنگ انسٹرکٹر کو الوداع کہتی ہے اور اسے ہاتھ لہرا کر اشارہ کرتی ہے۔ لکھنے والا جو وہیں قریب موجود ہے، زندگی سے لبریز اس اشارے کو اپنے اندر پھلتا پھولتا محسوس کرتا ہے۔ یہ اشارہ اس کے تخیل میں بس جاتا…

Read More

عاجزانہ طورپر یہ دعوی بھی کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی سیاست کا شعور جس پختہ اور گہری سطح پر عبداللہ حسین کے ناولوں میں پایا جاتا ہے گہرے سیاسی شعور اور خاص کر پاکستان کی سیاسی تاریخ پر گہری نظرکے حامل اہل قلم میں عبداللہ حسین سربرآوردہ ہیں۔عاجزانہ طورپر یہ دعوی بھی کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی سیاست کا شعور جس پختہ اور گہری سطح پر عبداللہ حسین کے ناولوں میں پایا جاتا ہے، اردو میں اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔لیکن یہ شعور محض سیاسی نہیں ہے، سماج اور فرد سے جڑا ہوا ہے۔اردو…

Read More

ممتاز ناول نگار و کہانی نویس مرزا اطہر بیگ سےناول کی زبان اور اسلوب پر مکالمہ مرزا اطہر بیگ سے میرا اولین تعارف فلسفہ کے استاد کی حیثیت سے ہوا۔ گورنمنٹ کالج جب یونیورسٹی نہیں بنا تھا، تو ایم اے فلسفہ میں آپ شعبہ کے سب سے پسندیدہ اور ہر دلعزیز استاد تھے۔ طلبا اکثر انھیں گھیرے رہتے۔ تب کالج میں سگریٹ پینے پر پابندی کا کوئی تصور نہیں تھا تو آپ باہر لان میں گھومتے ہوئے جب کہ دیگر سگریٹ نوش طلبا سے گفتگو کی مصروفیت بھی جاری رہتی، سگریٹ پیتے دکھائی دیتے۔ وہیں لان میں کبھی کلاس بھی…

Read More

’آزاد مہدی کے ناول ’ایک دن کی زندگی‘ پر تبصرہ ناول کا بنیادی موضوع اس کے عنوان کی پٹاری میں بند ہے۔ اس پٹاری کو کھولئے، تو پورا ناول اس کے ساتھ کھلتا چلا جاتا ہے۔ لیکن ایک اور اشارہ ہمیں ناول کے انتساب سے ملتا ہے جسے خواتین کے نام کیا گیا ہے۔ آزاد مہدی کا موضوع منٹو کی طرح عام عورتیں نہیں ہیں جو ایک لگے بندھے طریقے سے معمول کی زندگی گزارتی ہیں، جو شوہروں کی وفادار اور اچھی مائیں ہوتی ہیں۔ اس کے بجائے آزاد مہدی نے اپنے ایک سے زائد ناولوں اور کہانیوں میں طوائفوں…

Read More

وہ اپنے افسانوں کے مجموعے کچھوے میں لکھتے ہیں،”میں اپنی مصیبت میں زمینوں اور زمانوں میں آوارہ پھرتا ہوں۔ کتنے دن اجودھیا اور کربلا کے بیچ مارا مارا پھرتا رہا۔ یہ جاننے کے لیے کہ جب بھلے آدمی بستی چھوڑتے ہیں تو ان کے اوپر کیا بیتتی ہے؟“ انتظار حسین کی انفرادیت کے کئی پہلو ہیں۔ تاہم جو بات انھیں باقی سبھی لکھنے والوں سے ممتاز و منفرد کرتی ہے وہ ان کی برصغیر کے قدیم ادبی اثاثوں سے استفادے کی غیر معمولی کامیاب کوششیں ہیں۔ ایک بات تو طے ہے کہ آپ نے افسانہ کے لگے بندھے اسلوب سے…

Read More

اردو میں امراؤجان ادا کے بعد سے اب تک سوا سوسال کے عرصہ میں عالمی ادبی معیار کے اعلی درجہ کے ناول اتنی کم تعداد میں سامنے آئے کہ انھیں انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے ناول کی صنف اردو زبان میں باقی اصناف سخن کے مقابلے میں کم توجہی کا شکار رہی۔ اس کی متعدد سیاسی تہذیبی سماجی و ادبی وجوہات بیان کی جا سکتی ہیں۔ قصہ گوئی کی روایت برصغیر کی زبانوں میں طویل تاریخ رکھتی ہے اور دیومالاؤں اور قصوں کہانیوں کی صورت میں یہ ہمیشہ سے یہاں کے کلاسیکی ادب کا حصہ رہی ہے۔ ناول کی…

Read More