Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»الطاف فاطمہ کا جلالی فقر
    کالم

    الطاف فاطمہ کا جلالی فقر

    محمد عاصم بٹBy محمد عاصم بٹدسمبر 31, 2018کوئی تبصرہ نہیں ہے۔11 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    الطاف فاطمہ نے صلے اور انعام کی خواہش کے بغیر تمام عمر پرورش قلم و ادب میں صرف کی۔ نہ صرف یہ کہ اس خواہش سے تمام عمر خود کو پاک و صاف رکھا بلکہ ایسے ہر موقع پر جب انھیں کسی فرد یا ادارے کی طرف سے اعتراف فن کے طور پر اعزاز یا انعام دینے کی پیشکش ہوئی، انھوں نے اپنے مؤقف کے پائے استقلال میں لرزش نہیں آنے دی،اور ایسی ہر پیشکش کو رد کیا۔ آپ نے خود کو ادبی سماجی منظر نامے سے بھی دور رکھا۔ کسی ادبی گروہ بندی کا حصہ نہ بنیں اور نہ تعلقات عامہ یا اپنے فن کی تشہیر کے وسیلوں سے کوئی تعلق رکھا۔ زندگی کے آخری برسوں میں آپ کی گوشہ نشینی کئی چند ہوگئی۔ یوں آپ کے ہاں درویشی اور فقر کی صورت پیدا ہوئی جس کا باعث آپ کا اپنے فن اور ریاضت سے غیر معمولی لگاؤ اور لگن تھی۔ جب کہ یہی درویشانہ عزلت گزینی حقیقی ادبی رویہ ہے۔
    لیکن یہ محض ادبی فقر اور درویشی نہیں تھی۔ یہ فقر جلالی تھا کیوں کہ انھوں نے انعام و اعزاز کی ہرپیشکش پر انکار اور انحراف کا سخت رویہ اختیار کیا۔ ان کے فقر میں محض عزلت گزینی کی خواہش اور روش ہی شامل نہیں تھی بلکہ احتجاج، غصہ، انکار، اور بغاوت کی رمق اس میں شامل تھی۔ یہ ایک اعلی درجہ کا ادب تخلیق کرنے والے فن کار کی طرف سے معاشرے کے فن اور ادب کی طرف بے حسی کے رویے پر ردعمل تھا۔
    معاشرے کا چلن میکانکی اور مادہ پرستانہ ہے۔یہاں ادب اور فن کے لیے فضا غیر موافق ہے اور معاشرہ ایسے رویوں کی زد میں ہے جو غیر مہذبانہ،غیر علمی اور انتہا پسندانہ ہیں۔ ایسی فضا پیدا کرنے والوں نے گذشتہ دہائیوں میں اس حوالے سے سخت محنت کی ہے۔ یوں اس صورت حال کو ختم کرنے کے لیے ان سے کہیں زیادہ سخت اور ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہوگی۔ جن میں بلاشبہ سب سے اہم حصہ فروغ ادب و فن کی کاوشوں پر مشتمل ہونا چاہئے۔ کیوں کہ یہی وہ وسیلے اور ذرائع ہیں جن کے نحیف ہونے کے باعث منفی رویوں کو غالب آنے اور مضبوط ہونے کا موقع ملتا ہے۔
    ایسے میں ادب اور فن سے وابستہ ہستیاں، جو اعلی فنی ریاضت سے اپنے جوہر کو جلابخشنے میں مصروف رہتی ہیں اور عمر عزیز فن و ادب کی خدمت میں بسر کردیتی ہیں، ایسے نامساعد حالات میں یا تو عاجزانہ رویہ اختیار کرلیتی ہیں اور خاموشی کے ساتھ جو محنتوں اور جوہر کے صلے میں حاصل ہوتا ہے، اس پر قناعت کرکے خود کو طمع اور لالچ سے دور رکھنے کی کوشش کرتی ہیں یا پھر الطاف فاطمہ کی طرف نہ صرف وہ گوشہ نشینی اختیار کرتی ہیں بلکہ برہمی کے ساتھ ایسے معاشرے ہی کو ترک اور رد کردیتی ہیں۔ یہ ان کا انھیں آڑے ہاتھوں لینے ہی کا انداز ہے کہ وہ انھیں کسی بھی لائق نہ گردانتے ہوئے انھیں اپنی زندگیوں میں سے خارج کردیتی ہیں۔ الطاف فاطمہ نے یہی رویہ اختیار کیا۔ ان کا فقر جلالی تھا۔ انھوں نے حکومتی اداروں ہی کو نہیں نجی اداروں اور افراد کی ہر ایسے موقع پر حوصلہ شکنی کی جب انھوں نے ایک طویل وقت انھیں نظرانداز کرنے کے رویے کے بعد آگے بڑھ کر اعتراف فن کے طورپر انھیں انعام و اکرام سے نوازنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
    الطاف فاطمہ نے چار ناول لکھے، ان کے افسانوں کے چار مجموعے شائع ہوئے اور آپ کی اردو میں ترجمہ کردہ آٹھ کتابیں شائع ہوئیں۔ جن میں چار کتابیں مختلف زبانوں کے بہترین افسانوں کے تراجم پر بھی شامل ہیں۔آپ نے ریڈیو کے لیے بھی لکھا۔ اور عمر عزیز اردو زبان و ادب کی تدریس میں بسر کی۔
    آپ کا تعلق ایک علمی و ادبی خانوادے سے تھا۔ جس نے ماضی میں علمی و ادبی اداروں اور افراد کی نہ صرف ادبی اور فکری سرپرستی کا فریضہ انجام دیا بلکہ گاہے بگاہے ان کی مالی معاونت بھی کی۔ اس کے برعکس خود الطاف فاطمہ کی زندگی کا چلن نہایت سادہ رہا۔ آپ نے خود داری کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا اور چاہے زندگی مالی کسمپرسی میں بسر کی لیکن کبھی مدد کے لیے کسی سے رجوع نہیں کیا۔ حتی کہ عام زندگی میں بھی آپ کی خود داری نے کبھی بیماری کی حالت میں بھی آپ کو کسی کی مدد لینے سے روکے رکھا۔
    الطاف فاطمہ نے اپنے فکشن کے لیے عام انسانوں کو اپنے کرداروں کے طورپر منتخب کیا۔ آپ نے ان کے ساتھ زندگی کے دکھ بوگھے اور ان کی زندگیوں کی روداد کو اپنے قلم سے صفحہ قرطاس پر اتارا۔ آپ کا فکشن عام لوگوں کا فکشن ہے اور اسی لیے یہ عام سطح کا فکشن نہیں ہے۔ آپ نے زبان اور بیان کے رموزپر اپنی مسلسل ریاضت سے عبور حاصل کیا۔ اور اعلی سطح کے ادب سے اردو کے سرمائے میں اضافہ کیا۔
    الطاف فاطمہ کا ناول دستک نہ دو اردو کے چند نہایت قابل ذکر اور معروف ناولوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس ناول کا مرکزی کردار ایک عورت ہی ہے جو ایک روایتی اور بااختیار خاندان کا فرد ہونے کے باوجود اپنی زندگی گزارنے کے لیے اپنی مرضی سے فیصلہ کرنے کا حق استعمال کرتی ہے اور اپنی محبت پانے کے لیے پرانی فرسودہ اقدار کی محافظت پر فائز طبقے کی مخالفت مول لیتی ہے۔ اس ناول کا انگریزی ترجمہ بھی قسط وار شائع ہوا۔ جب کہ اسے ٹی وی کے لیے ڈرامائی صورت بھی دی گئی۔
    الطاف فاطمہ کا جلالی فقر ہماری توجہ ہمارے اپنے رویوں کی سفاکی اور بے حسی کی طرف تو دلاتا ہی ہے لیکن اس کے ساتھ یہ ہمیں ایسے فن کاروں اور ادیبوں کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے جن کی فنی اور ادبی عظمت و رفعت کا اعتراف کرنے سے ہم اپنی روایتی بے اعتنائی کے باعث خود کو محروم کیے ہوئے ہیں۔ جن کی خدمات اور فن کا اعتراف فی الاصل ہمارے اپنے وجود کے اعتبار اور اعتراف کے لیے ضروری ہے اور جس اعتراف کے بغیر کوئی معاشرہ مہذب دنیا کا رکن بننے کے لائق نہیں ہوسکتا۔ الطاف فاطمہ اپنی زندگی اور ادبی رویے کے باعث ہمارے لیے ایک مثال کی حیثیت رکھتی ہیں جو نئے لکھنے والوں کے لیے ایک مینارہ نور ثابت ہوسکتا ہے۔ ایسی مثالیں کسی بھی معاشرے کے لیے ایک سرمایے کی حیثیت رکھتی ہیں جن کو ہم آئندہ نسلوں کے سامنے ایک رول ماڈل کے طورپر پیش کرنے میں بجا طورپر فخر محسوس کرسکتے ہیں۔ الطاف فاطمہ نے صلے اور انعام کی خواہش کے بغیر تمام عمر پرورش قلم و ادب میں صرف کی۔ نہ صرف یہ کہ اس خواہش سے تمام عمر خود کو پاک و صاف رکھا بلکہ ایسے ہر موقع پر جب انھیں کسی فرد یا ادارے کی طرف سے اعتراف فن کے طور پر اعزاز یا انعام دینے کی پیشکش ہوئی، انھوں نے اپنے مؤقف کے پائے استقلال میں لرزش نہیں آنے دی،اور ایسی ہر پیشکش کو رد کیا۔ آپ نے خود کو ادبی سماجی منظر نامے سے بھی دور رکھا۔ کسی ادبی گروہ بندی کا حصہ نہ بنیں اور نہ تعلقات عامہ یا اپنے فن کی تشہیر کے وسیلوں سے کوئی تعلق رکھا۔ زندگی کے آخری برسوں میں آپ کی گوشہ نشینی کئی چند ہوگئی۔ یوں آپ کے ہاں درویشی اور فقر کی صورت پیدا ہوئی جس کا باعث آپ کا اپنے فن اور ریاضت سے غیر معمولی لگاؤ اور لگن تھی۔ جب کہ یہی درویشانہ عزلت گزینی حقیقی ادبی رویہ ہے۔
    لیکن یہ محض ادبی فقر اور درویشی نہیں تھی۔ یہ فقر جلالی تھا کیوں کہ انھوں نے انعام و اعزاز کی ہرپیشکش پر انکار اور انحراف کا سخت رویہ اختیار کیا۔ ان کے فقر میں محض عزلت گزینی کی خواہش اور روش ہی شامل نہیں تھی بلکہ احتجاج، غصہ، انکار، اور بغاوت کی رمق اس میں شامل تھی۔ یہ ایک اعلی درجہ کا ادب تخلیق کرنے والے فن کار کی طرف سے معاشرے کے فن اور ادب کی طرف بے حسی کے رویے پر ردعمل تھا۔
    معاشرے کا چلن میکانکی اور مادہ پرستانہ ہے۔یہاں ادب اور فن کے لیے فضا غیر موافق ہے اور معاشرہ ایسے رویوں کی زد میں ہے جو غیر مہذبانہ،غیر علمی اور انتہا پسندانہ ہیں۔ ایسی فضا پیدا کرنے والوں نے گذشتہ دہائیوں میں اس حوالے سے سخت محنت کی ہے۔ یوں اس صورت حال کو ختم کرنے کے لیے ان سے کہیں زیادہ سخت اور ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہوگی۔ جن میں بلاشبہ سب سے اہم حصہ فروغ ادب و فن کی کاوشوں پر مشتمل ہونا چاہئے۔ کیوں کہ یہی وہ وسیلے اور ذرائع ہیں جن کے نحیف ہونے کے باعث منفی رویوں کو غالب آنے اور مضبوط ہونے کا موقع ملتا ہے۔
    ایسے میں ادب اور فن سے وابستہ ہستیاں، جو اعلی فنی ریاضت سے اپنے جوہر کو جلابخشنے میں مصروف رہتی ہیں اور عمر عزیز فن و ادب کی خدمت میں بسر کردیتی ہیں، ایسے نامساعد حالات میں یا تو عاجزانہ رویہ اختیار کرلیتی ہیں اور خاموشی کے ساتھ جو محنتوں اور جوہر کے صلے میں حاصل ہوتا ہے، اس پر قناعت کرکے خود کو طمع اور لالچ سے دور رکھنے کی کوشش کرتی ہیں یا پھر الطاف فاطمہ کی طرف نہ صرف وہ گوشہ نشینی اختیار کرتی ہیں بلکہ برہمی کے ساتھ ایسے معاشرے ہی کو ترک اور رد کردیتی ہیں۔ یہ ان کا انھیں آڑے ہاتھوں لینے ہی کا انداز ہے کہ وہ انھیں کسی بھی لائق نہ گردانتے ہوئے انھیں اپنی زندگیوں میں سے خارج کردیتی ہیں۔ الطاف فاطمہ نے یہی رویہ اختیار کیا۔ ان کا فقر جلالی تھا۔ انھوں نے حکومتی اداروں ہی کو نہیں نجی اداروں اور افراد کی ہر ایسے موقع پر حوصلہ شکنی کی جب انھوں نے ایک طویل وقت انھیں نظرانداز کرنے کے رویے کے بعد آگے بڑھ کر اعتراف فن کے طورپر انھیں انعام و اکرام سے نوازنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
    الطاف فاطمہ نے چار ناول لکھے، ان کے افسانوں کے چار مجموعے شائع ہوئے اور آپ کی اردو میں ترجمہ کردہ آٹھ کتابیں شائع ہوئیں۔ جن میں چار کتابیں مختلف زبانوں کے بہترین افسانوں کے تراجم پر بھی شامل ہیں۔آپ نے ریڈیو کے لیے بھی لکھا۔ اور عمر عزیز اردو زبان و ادب کی تدریس میں بسر کی۔
    آپ کا تعلق ایک علمی و ادبی خانوادے سے تھا۔ جس نے ماضی میں علمی و ادبی اداروں اور افراد کی نہ صرف ادبی اور فکری سرپرستی کا فریضہ انجام دیا بلکہ گاہے بگاہے ان کی مالی معاونت بھی کی۔ اس کے برعکس خود الطاف فاطمہ کی زندگی کا چلن نہایت سادہ رہا۔ آپ نے خود داری کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا اور چاہے زندگی مالی کسمپرسی میں بسر کی لیکن کبھی مدد کے لیے کسی سے رجوع نہیں کیا۔ حتی کہ عام زندگی میں بھی آپ کی خود داری نے کبھی بیماری کی حالت میں بھی آپ کو کسی کی مدد لینے سے روکے رکھا۔
    الطاف فاطمہ نے اپنے فکشن کے لیے عام انسانوں کو اپنے کرداروں کے طورپر منتخب کیا۔ آپ نے ان کے ساتھ زندگی کے دکھ بوگھے اور ان کی زندگیوں کی روداد کو اپنے قلم سے صفحہ قرطاس پر اتارا۔ آپ کا فکشن عام لوگوں کا فکشن ہے اور اسی لیے یہ عام سطح کا فکشن نہیں ہے۔ آپ نے زبان اور بیان کے رموزپر اپنی مسلسل ریاضت سے عبور حاصل کیا۔ اور اعلی سطح کے ادب سے اردو کے سرمائے میں اضافہ کیا۔
    الطاف فاطمہ کا ناول دستک نہ دو اردو کے چند نہایت قابل ذکر اور معروف ناولوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس ناول کا مرکزی کردار ایک عورت ہی ہے جو ایک روایتی اور بااختیار خاندان کا فرد ہونے کے باوجود اپنی زندگی گزارنے کے لیے اپنی مرضی سے فیصلہ کرنے کا حق استعمال کرتی ہے اور اپنی محبت پانے کے لیے پرانی فرسودہ اقدار کی محافظت پر فائز طبقے کی مخالفت مول لیتی ہے۔ اس ناول کا انگریزی ترجمہ بھی قسط وار شائع ہوا۔ جب کہ اسے ٹی وی کے لیے ڈرامائی صورت بھی دی گئی۔
    الطاف فاطمہ کا جلالی فقر ہماری توجہ ہمارے اپنے رویوں کی سفاکی اور بے حسی کی طرف تو دلاتا ہی ہے لیکن اس کے ساتھ یہ ہمیں ایسے فن کاروں اور ادیبوں کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے جن کی فنی اور ادبی عظمت و رفعت کا اعتراف کرنے سے ہم اپنی روایتی بے اعتنائی کے باعث خود کو محروم کیے ہوئے ہیں۔ جن کی خدمات اور فن کا اعتراف فی الاصل ہمارے اپنے وجود کے اعتبار اور اعتراف کے لیے ضروری ہے اور جس اعتراف کے بغیر کوئی معاشرہ مہذب دنیا کا رکن بننے کے لائق نہیں ہوسکتا۔ الطاف فاطمہ اپنی زندگی اور ادبی رویے کے باعث ہمارے لیے ایک مثال کی حیثیت رکھتی ہیں جو نئے لکھنے والوں کے لیے ایک مینارہ نور ثابت ہوسکتا ہے۔ ایسی مثالیں کسی بھی معاشرے کے لیے ایک سرمایے کی حیثیت رکھتی ہیں جن کو ہم آئندہ نسلوں کے سامنے ایک رول ماڈل کے طورپر پیش کرنے میں بجا طورپر فخر محسوس کرسکتے ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleتشکیلِ قوم میں مذہب کا کردار
    Next Article کیلاش قبیلے کی ثقافت و تاریخ
    محمد عاصم بٹ

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by