حیرت، فنتاسیا اور خوف جیسے عناصر کو، جو کہانی میں دلچسپی کو مہمیز کرنے کی ضمانت دیتے ہیں،اردو کے سنجیدہ فکشن لکھنے والوں نے درخور اعتنا نہیں سمجھا۔ حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے کہانی کو دلچسپ بنانے کی ضرورت کو اہم سمجھنے کا تردد ہی سرے سے نہیں کیا یا اسے اپنی ذمہ داری سمجھنے سے اجتناب برتا کہ وہ قاری کی تفریح طبع کا بھی اہتمام کریں۔جرم کی آمیزش سے البتہ اداس نسلیں سے لے کر غلام باغ تک اردو کے چند لکھنے والوں نے دلچسپی کے اہتمام پر توجہ دی اور کہانیوں کو ان عناصر کے گرد…
Author: محمد عاصم بٹ
حکومتی ادارے جو کام کرتے ہیں‘ اس کا تو ٹھیک ٹھیک اندازہ لگانا آسان نہیں ہے‘ لیکن جس رفتار سے کرتے ہیں‘ اس سے ہم میں سے کم ہی نا واقف ہوں گے۔ سرکاری اداروں کی سست رفتاری اب ایک مثال کا درجہ حاصل کرچکی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ جاننے کے لیے یہ دو امور پیش نظر رکھے جا سکتے ہیں۔ 1۔ سٹرکچر کا پھیلاؤ 2۔ پوچھ پڑتیت کا فقدان ادارہ جب پھیلتا ہے تو اس کا نظام پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ یہ ایک ناگزیر بات ہے۔ دنیا بھر میں وسیع پھیلاؤ والے اداروں کے داخلی نظام کی سادگی…
امتیاز علی تاج کے ادبی کارناموں کی فہرست یوں تو خاصی طویل ہے لیکن ان کے تخلیق کردہ ڈرامے انارکلی کو بے پایاں شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی اور یہ آپ کی پہچان کا بنیادی حوالہ بن گیا۔یہ ڈرامہ اردو میں جدید کلاسیک کا درجہ حاصل کرچکا ہے۔ انارکلی حقیقت ہے یا ایک فرضی کردار۔ اس حوالے سے مختلف تحقیقات موجود ہیں جو بعض صورتوں میں متضاد نتائج پیش کرتی ہیں۔ کچھ بھی ہو، اس کردار نے چار سو سالوں سے انسانی تخیل کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے اور لوگ اس کردار سے خصوصی نسبت اور محبت محسوس…
ایک زمانہ تھا کہ امرتا پریتم کی نظم کا یہ مصرعہ "اج آکھاں وارث شاہ نوں” زبان زد خاص و عام تھا۔ اس مصرعے کی گونج ہم آج بھی سنتے ہیں۔یہ گونج اہل پنجاب کے دلوں کی پکار بن کر ابھری تھی۔اس نظم میں کیا ہے؟ ایک عورت کی پکار اور چیخ، ایک للکار اور بین۔ اس نظم میں پنجاب کی دہائی ہے، اس پر ہونے والے ظلم کے خلاف احتجاج ہے۔یہاں وارث شاہ وارث شاہ نہیں، اور نہ ہی پکارنے والی امرتا پرتیم ہے، یہاں پنجاب ہے، دہائی دیتا ہوا، جلتا ہوا اور خون کے آنسو روتا ہوا۔ پنجاب…
پنجابی زبان و ادب میں افضل احسن رندھاوا کی حیثیت وہی ہے جو ہسپانوی زبان میں لورکا اور عربی زبان میں فلسطینی شاعر محمود درویش کی، یا اردو میں فیض کی۔ تینوں کے ہاں انقلاب، احتجاج اور محبت کے مضبوط عناصر کا اشتراک پایا جاتا ہے۔ یہ عناصر اتنے گہرے ہیں کہ افضل احسن رندھاوا کی شاعری ہی نہیں، ان کی نثر بھی اس رنگ میں رنگی ہوئی ہے۔ یوں آپ نہ صرف پاکستانی ادب میں دور حاضر کے اہم ترین فکشن نگاروں اور شاعروں میں شامل ہیں بلکہ پنجابی ادب کی تاریخ میں سب سے اہم فکشن نگار اور…
یہ مٹے ہوئے عام لوگ رضا ربانی کی کہانیوں کے کردار ہیں۔ کوئی گداگر ہے، تو کوئی مزدور، کوئی عصمت فروش عورت ہے ،تو کوئی اغوا شدہ بچہ، کوئی بے روزگار ہے تو کوئی غربت کا مارا ہوا بے کس و مجبور۔لیکن یہ محض زندگی کی کٹھنائیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دینے والے کردار نہیں ہیں فی زمانہ سیاسی ایوانوں میں میاں رضا ربانی جیسے علم دوست اور باذوق شخصیات کی موجودگی دم غنیمت ہے وگرنہ عام تاثر یہی ہے کہ سیاست وڈیروں جاگیرداروں صنعت کاروں، تاجروں اور سرمایہ داروں کے کھیل کا میدان بن کر رہ گئی ہے جس…
تخلیقی عمل سے متعلق معروف ناول نگار فاروق خالد سے گفتگو فاروق خالد سے میرا اولین تعارف ان کے ناول سیاہ آئینے سے ہوا جیسا کہ کسی بھی اچھے قلم کار سے تعارف کی صورت ہوسکتی ہے۔ پرانی کتابوں کے بازار میں، جو انارکلی بازار میں ہر اتوار کو برپا ہوتا تھا، بائبل سوسائٹی کے سامنے فٹ پاتھ پر کوئی بیس ایک سال پہلے کتابوں کے ایک سٹال پر مجھے یہ ناول ملا۔ بلکہ سٹال کے مالک نے خصوصی طور پر اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ، کہ یہ پلاسٹک کے لفافے میں لپٹا ہوا تھا، کہا کہ اگر…
اس نے بتایا کہ کیسے دہشت گردوں نے خودآکر اسے دھمکی دی اور جب اس نے انھیں روکنے کی کوشش کی تو وہ فرار ہوگئے۔ پچیس پچیس تیس تیس سال کے دو نوجوان تھے، چہروں پر سبز چوکور خانوں والے سفید رومال ڈھاٹوں کی صور ت میں باندھے ہوئے کہ ان کی صورتیں پہچانی نہیں جاتی تھیں، موٹر سائیکل پر سوار وہاں آئے، چوکیدار کے پاس۔یکدم پوری قوت سے بریکیں لگا کر انھوں نے گھبرائے ہوئے انداز میں تیز تیز لہجے اور باہم الجھتے ہوئے الفاظ میں اسے بتایا کہ کالج میں ایک بم رکھا گیا ہے، جو بس کچھ…
ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ اور بالخصوص مسلم اشرافیہ کو غزل ہی موافق آئی جس کے موضوعات تب اور اب بھی بیشتر خاص طور پر سیاست اور مسلمانوں کی علمی، تہذیبی اور ذہنی پسماندگی سے غیر متعلق رہے۔ زبانیں اپنی بقا کے لیے تشکیلی عمل میں گرفتار رہتی ہیں اور یہی گرفتاری جسے ہم ارتقاء یا وسعت پذیری کا نام دے سکتے ہیں، ان کی اثرانگیزی اور تازہ کاری کی ضامن بھی ہوتی ہے۔ اردو میں وسعت پذیری کے رویے کے بجائے اس کے خالص پن پر اصرار کو معیار بنایا گیا اور اس کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ خالص پن سے کیا…
اردو کا پہلا قابل ذکر شاعر ولی دکنی اٹھارھویں صدی کے آغاز میں سامنے آتا ہے۔ یہ وہ دور ہے جب برصغیر میں مسلمانوں کے سیاسی تنزل کا آغاز ہوچکا تھا، ان کی حکومت کی جڑیں اکھڑ چکی تھیں . اردو ادب کی ابتداءالبتہ غزل سے ہوئی۔اس کی ایک وجہ تو یہ بھی تھی کہ برصغیر میں بیشتر مسلمان حملہ آوروں اور حکمرانوں کا تعلق ایران یا فارسی بولنے والے افغانی قبیلوں سے تھا۔ فارسی ادب میں قصیدے کا، جو ایک درباری صنف مانا جاتا ہے، ایک اہم جزو غزل ہے۔ سو برصغیر میں دربار نے قصیدے کے ساتھ ساتھ…
