بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں ایک بار پھر پانی کا شدید بحران پیدا ہوگیا ہے، جس نے شہریوں کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ پانی کی عدم دستیابی کے باعث گوادر کے شہریوں نے احتجاجاً گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے دھرنا دیا، انتظامیہ کی یقین دہانی کے بعد احتجاج موخر کیا گیا۔ مظاہرین نے خالی برتنوں اور آنڈھیوں کے ساتھ دھرنا دے رکھا تھا ان میں خواتین اور بچے بھی شریک تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ گوادر کے بیشتر علاقوں میں ہفتوں سے پانی کی فراہمی بند ہے مگر ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومت…
Author: اسداللہ بلوچ
مذہبی شدت پسندی پاکستان کا ایک ایسا دیرینہ مسئلہ ہے جو کم ہونے کے بجائے وقت کے ساتھ پھیلتا جارہا ہے۔ بلوچستان میں دیگر اکائیوں کی نسبت مذہبی شدت پسندی بالعموم بلوچ علاقوں میں نہ ہونے کے برابر دیکھی گئی ہے خصوصاً مکران بیلٹ میں اس کے آثار توانا صورت میں کبھی نظر نہیں آئے۔ تاہم ان علاقوں میں جہاں بلوچ قوم پرست سیاست کی اثر پزیری زیادہ ہے مذہبی ذہنیت کے حامل جمہوری سیاسی کارکنوں کی موجودگی رہی ہے۔ مکران میں ضلع پنجگور اور ضلع کیچ میں نائن الیون کے بعد جہاں مدارس کی تعداد میں اچانک خاطر خواہ…
16 مئی سے سی پیک شاہراہ M8 پر کئی لوگ دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ تربت میں درجہ حرارت اس وقت اوسطاً 45 سے 48 کے درمیان ہے۔ اس تپتی دھوپ میں جس مقام پر دھرنا دیا جارہا ہے وہ ضلع کیچ اور ضلع پنجگور کا درمیانی علاقہ ہوشاپ ہے۔ اس کا مقصد 16 مئی کی علی الصبح ہوشاپ میں سی ٹی ڈی اور حسّاس اداروں کا ایک گھر پر ریڈ اور وہاں سے بظاہر ایک گھریلو خاتون کی جبری گمشدگی ہے جس کا نام نورجان بنت واحد بخش اور شوہر کا نام فضل کریم بتایا گیا ہے۔ دھرنے کی وجہ…
مصنوعی بیانیوں اور نعروں کو کچھ دیر کے لیے ایک طرف رکھتے ہوئے بلوچستان کے مسئلے کو سنجیدگی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب تک بلوچستان کے قضیے کو زمینی حقائق کے تناظر میں نہیں سمجھا جائے گا، تب تک اسے پائیدار حل کی طرف لے جانے کی صلاحیت پیدا ہوگی، نہ کوئی کوشش بارآور ثابت ہوسکتی ہے۔ بلوچ مسئلے کے بارے میں مقتدرہ کی طرف سے اب تک جو اندازے لگائے گئے وہ غلط ثابت ہوئے اور جتنی کوششیں کی گئیں سب بے نتیجہ اور غیرمؤثر رہیں۔ اگر اسی نہج پہ آگے بڑھتے رہے تو آنے والے…
پاکستان میں بظاہر ایک جمہوری عمل کے تحت حکومت کی باگ ڈورتحریکِ انصاف سے پاکستان مسلم لیگ نواز کو منتقل ہوگئی ہے۔ اس عمل کو تمام سیاسی جماعتیں جمہوریت کے لیے ایک طویل سیاسی لڑائی کے بعد حاصل ہونے والی اپنی سب سے بڑی کامیابی سمجھ رہی ہیں۔ وہ سیاسی جماعتیں جو تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف ایک محاذ بناکر انتقالِ اقتدار کی خاطر متحد ہوئی تھیں وہ بھی اسے جمہوریت کی کامیابی سے تعبیر کر رہی ہیں۔ گوکہ ایک اقلیتی حلقے کا یہ خیال ہے کہ اس ساری تبدیلی کے عمل کے پس منظرمیں کچھ اور عوامل کارفرما…
بلوچستان سیاسی طور پر پاکستان کے دیگر اکائیوں کی نسبت ہمیشہ فکری و نظریاتی سیاست کے لحاظ سے مستحکم رہا ہے، بی ایس او نے بطور ایک کیڈر ساز سیاسی ادارہ بلوچستان کو عظیم رہبر عطا کیے جن کے نام، کام اور سیاسی آدرش محکوم اور مظلوم اقوام کی بقا اور تشخص کےلیے رہنمایانہ کردار کے حامل رہے ہیں۔ جب بلوچستان کی سیاست میں کمٹمنٹ، استقامت، صبر، استقلال اور مسلسل جدوجہد کا ذکر آئے گا تو ڈاکٹر حئی کا چہرہ تمام تر رعنائیوں کے ساتھ نمودار ہوگا۔ ڈاکٹر حئی بلوچستان کی نیم سیاسی قبائلی اور جاگیردارانہ سیاست کے اندر محکوم…
گوادر جسے بلوچی زبان میں گوات در یعنی ہوا کا دروازہ کہتے ہیں اس وقت نہ صرف پاکستان میں پاک چائنہ اقتصادی راہداری کے سبب بہت اہمیت کا حامل ہے وہیں گوادر اپنے گہرے سمندر ( ڈیپ سی) کی بنا پر دنیا کے ایک بڑے حصے کےلیے معاشی استحکام و اقتصادی ترقی کی وجہ ہے، سیاسی ماہرین کے مطابق جہاں پہ گوادر جیواسٹرٹیجیکل اہمیت ہونے کی وجہ سے پوری دنیا کی نگاہوں میں کھٹک رہا ہے وہاں تیسری عالمی جنگ کا ممکنہ مقام یہی خطہ بن سکتا ہے۔ گوات در یعنی گوادر جسے بگاڈ کر گاوادر بھی پکارا جاتا ہے…
