Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»بلوچ شورش، مصنوعی بیانیے اور ریاست کے تجربات
    کالم

    بلوچ شورش، مصنوعی بیانیے اور ریاست کے تجربات

    اسداللہ بلوچBy اسداللہ بلوچمئی 7, 2022کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    مصنوعی بیانیوں اور نعروں کو کچھ دیر کے لیے ایک طرف رکھتے ہوئے بلوچستان کے مسئلے کو سنجیدگی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب تک بلوچستان کے قضیے کو زمینی حقائق کے تناظر میں نہیں سمجھا جائے گا، تب تک اسے پائیدار حل کی طرف لے جانے کی صلاحیت پیدا ہوگی، نہ کوئی کوشش بارآور ثابت ہوسکتی ہے۔

    بلوچ مسئلے کے بارے میں مقتدرہ کی طرف سے اب تک جو اندازے لگائے گئے وہ غلط ثابت ہوئے اور جتنی کوششیں کی گئیں سب بے نتیجہ اور غیرمؤثر رہیں۔ اگر اسی نہج پہ آگے بڑھتے رہے تو آنے والے دنوں میں نتیجہ اِس سے بھی برا اور خراب نکلے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ اب ذرا سنجیدگی کے ساتھ کچھ ملکی مفاد میں ٹھوس اقدامات کیے جائیں، ورنہ ہر گزرتا لمحہ افسوس اور پچھتاوے کا سبب بنے گا۔ کوئی ایک ادارہ ہی نہیں بلکہ سیاسی قیادت، میڈیا اور عوام کی اکثریت بھی بلوچستان کے معاملات کو صرف رپورٹ ہوجانے والے جزوی واقعات کے آئینے سے دیکھتے اور رائے تشکیل دیتے ہیں۔ ملک کے عوام بلوچوں کے حقیقی مسائل سے بے بہرہ ہیں، وہ اس پروپیگنڈے سے متأثر ہیں جو بتاتا ہے کہ بلوچ شورش بیرونی فنڈڈ ہے، اور یہ سارے کے سارے را، موساد، کے جی بی اور پتہ نہیں کس کس کے ایجنٹ ہیں۔

    بلوچستان کے ضمن میں سب سے پہلی چیز تو یہ ہے کہ آپ یہ تسلیم کیجیے کہ بلوچ شورش ایک مسلمہ حقیقت ہے، یہ جس حالت میں بھی ہے، بہرحال وجود رکھتی ہے، اس تحریک کی بنیادوں میں قوم پرستی کا ایک پر کشش نظریہ ہے، جسے محض مصنوعی نعروں یا بیانیوں سے کچلا نہیں جاسکتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ جزوی واقعات کی اساس پہ رائے تشکیل نہ دی جائے، منفی پروپیگنڈے اور ملک دشمنی کے مصنوعی بیانیوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے مسئلے کی درست تفہیم اور اس کے تجزیے کی صلاحیت پیدا کی جائے۔

    تیسرا یہ کہ بلوچستان کی حالیہ شورش پہلے جیسی نہیں رہی، یہ شورش کا پانچواں پڑاؤ ہے جو دیرپا، منظم اور سیاسی نوعیت کا بھی ہے۔ چوتھی بات یہ تسلیم کیجے کہ حالیہ شورش کسی ایک فرد، ایک شخصیت، ایک گروہ، کسی سردار، نواب یا قبائلی سربراہ کی نہیں ہے، بلکہ اس میں عام بلوچ شامل ہیں اور اس کی قیادت عام بلوچ کررہے ہیں۔ لہذا اس مسئلے کا واحد حل مزاکرات اور مکالمہ ہے، کوئی تیسرا چوتھا یا پانچویں آپشن مؤثر نہیں ہوگا۔ مذاکرات ومکالمے کے علاوہ کسی اور آپشن کا انتخاب پورے ملک کو مزید خطرناک صورتحال سے دوچار کرتا جائے گا۔

    اگر بلوچ قضیے کو اِس نہج پہ دیکھا پرکھا جائے تو امید کی جاسکتی ہے کہ بے چینی اور شورش پر قابو پایا جاسکے گا۔

    حقیقی سیاسی نمائندوں کو دیوار سے لگا کر سماج کے ناکارہ افراد کو سیاست کے نام پر مسلط نہ کیا جائے

    اگر ریاست کی گزشتہ بیس بائیس سالوں کی کارکردگی، طریقہ کار اور حکمت عملی کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ طاقت کے استعمال، مراعات کے حصول اور لالچ کی وجہ سے کبھی سیاسی مکالمہ کی فضا پیدا کرنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ سیاسی قیادت، دانشور حلقے، میڈیا اور عوام نے مصنوعی بیانیوں کو ہی حقیقت سمجھا اور اس کی بنیاد پہ رائے بنائی۔

    لوگوں کو جذباتی بناکر بلوچ تحریک کے متعلق منفی پروپیگنڈے کا سہارا لیا گیا، بلوچ شورش سے نمٹنے کے لیے متعلقہ ذرائع و افراد کے ساتھ بات چیت کے بجائے اربوں روپے خرچ کرکے مسلح جھتے بنائے گئے، مکالمہ کرنے کے بجائے مسلح تنظیموں کے ذریعے جنگجوؤں کو سرنڈر کرانے کی کوششیں کی گئیں اور ان جتھوں کو مراعات سے نوازا گیا۔ معاشرے کے غیرمؤثر اور کم مرتبہ لوگوں کو بلا وجہ طاقتور بناکر صوبے کے عوام پر مسلط کیا گیا۔ اس سارے منظرنامے سے برآمد کیا ہوا؟ صرف نفرت اور بے اعتمادی پھیلی۔

    پاکستان کے اکثریتی عوام کو جان بوجھ کر بلوچ شورش کے عوامل سے بے خبر رکھا گیا ہے۔ میڈیا کو بلوچستان کی خبریں نہ دینے کا پابند بنایا گیا۔ مسلح گروہوں کے بیانات کی اشاعت پر عدلیہ کے ذریعے پابندی لگا دی گئی۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ مسلح تنظیموں نے اس خلا کو نہ صرف سوشل میڈیا کے ذریعے پُر کیا، بلکہ اپنا پروپیگنڈہ مزید مضبوط بنایا۔

    بلوچستان میں ان سیاسی جماعتوں کو بھی دیوار سے لگا دیا گیا جو ملکی استحکام اور آئین پر یقین رکھتی ہیں، جو پارلیمنٹ اور سیاست کے راستے ریاست کی بالادستی کے لیے جدوجہد کررہے ہیں، ان حقیقی عوامی نمائندوں کو پیچھے دھکیل کر نئی جماعت ’باپ‘ تشکیل دی گئی اور ان پڑھ، غیرمہذب اور انتہائی حد تک غیر سیاسی لوگوں کو پارلیمنٹ میں پہنچا دیا گیا۔ ان عناصر کو عوام کا نمائندہ بناکر پیش کیا گیا جو لکیر کے فقیرتھے، جنہیں سیاست سے کبھی واسطہ تھا اور نہ ہی سماج اور عوام سے کوئی ربط و تعلق۔ نتیجہ سیاسی انتشار اور بے چینی کی شکل میں نکلا۔ پرامن، جمہوری اور پارلیمانی سیاست سے عوام کا یقین اُٹھ ہی گیا۔

    گزشتہ بیس بائیس سالوں میں بلوچ شورش سے نمٹنے کے لیے غداری اور ملک دشمنی کے مصنوعی بیانیوں کے بل بوتے سینکڑوں افراد کو اغوا اور جبری گمشدگی کا شکار بنایا گیا، کتنی ہی مسخ لاشیں ملیں، بولنے پر پابندی لگی، احتجاج، جلسہ، جلوس اور ریلیاں ممنوع قرار دی گئیں۔ ان سب طریقوں سے شورش بے اثر نہیں ہوئی بلکہ اسے مزید طاقت ملی، اور عام لوگ ریاست سے دور ہوتے گئے۔

    اب بھی وقت ہے کہ سیاسی معاملات کو سیاسی انداز میں حل کیا جائے۔ سابقہ غلطیوں کو تسلیم کرکے انہیں دوبارہ نہ دہرانے کا عزم کیا جائے۔ حقیقی سیاسی نمائندوں کو دیوار سے لگا کر سماج کے ناکارہ افراد کو سیاست کے نام پر مسلط نہ کیا جائے۔ شورش کو ختم کرنے کی غرض سے متبادل مسلح جھتوں کی تشکیل، یا بلوچ باغی تنظیموں کو لالچ و مراعات کے ذریعے سرنڈر کرانے اور ان کو دوبارہ مسلح کرانے جیسی حکمت عملیوں سے اجتناب کیا جائے، کیونکہ تجربات نے ثابت کیا ہے کہ یہ ایک لاحاصل کوشش ہے۔

    شورش سے نمٹنے کے لیے طاقت کے استعمال سے حتی الامکان گریز کیا جائے۔ تعلیمی اداروں میں بلوچ طلبہ کی پروفائلنگ روک دی جائے، جبری گمشدگی کا سلسلہ فی الفور ختم کیا جائے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔

    یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بلوچستان سری لنکا ہے اور نہ ہی بلوچ شورش تامل تحریک جیسی کوئی تحریک ہے، اسے طاقت کے استعمال، جبری گمشدگیوں، متبادل مسلح جتھوں کی تشکیل یا سرنڈر کرنے والے افراد کو مسلح بنانے سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ریاست نے بیس برس تک ایسے تجربات کرکے دیکھ لیے ہیں۔ بلوچ شورش سے نمٹنے سے پہلے اسے تسلیم کیا جائے اور پھر براہ راست یا بالواسطہ گفت و شنید کی کوشش شروع کی جائے۔

    بلوچ شورش جس قدر طول پکڑے گی اس کا نقصان کسی اور کو نہیں صرف ملکِ پاکستان کو ہوگا، اس ملک کی معیشت کو ہوگا، اس کی خارجہ پالیسی کو ہوگا، اس کی سیاحت کو ہوگا۔ طاقت کا استعمال نفرتوں کو جنم دینے اور نوجوانوں کو شورش کا حصہ بننے کی جانب راغب کرنے کا سبب بنے گا۔ غداری کے نام پر آواز دبانے اور میڈیا بلیک آؤٹ سے کم از کم اب تک بلوچ شورش کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکا، نہ ہی آئندہ ہوگا۔

    یہ بلوچستان کے اصل مسائل ہیں جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ عام بلوچ نوجوان سیاسی طور پہ باشعور ہے۔ اسے مسلح شورش کا حصہ بننے میں دلچسپی نہیں، اگر ریاست اس کی بات سنے اور اسے اس کے بنیادی حقوق سے محروم نہ کرے۔

    بلوچ بلوچ شورش بلوچستان ریاست شورش
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleسی پیک اور بلوچستان کو درپیش خطرات
    Next Article سیاسی جماعتیں اور توہینِ مذہب کے مقدمات: چند غورطلب پہلو
    اسداللہ بلوچ

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by