Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»لاپتہ بلوچستان کی بازیابی: نئی حکومت سے کچھ گزارشات اور اُمیدیں
    کالم

    لاپتہ بلوچستان کی بازیابی: نئی حکومت سے کچھ گزارشات اور اُمیدیں

    اسداللہ بلوچBy اسداللہ بلوچاپریل 25, 2022کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read4 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    پاکستان میں بظاہر ایک جمہوری عمل کے تحت حکومت کی باگ ڈورتحریکِ انصاف سے پاکستان مسلم لیگ نواز کو منتقل ہوگئی ہے۔ اس عمل کو تمام سیاسی جماعتیں جمہوریت کے لیے ایک طویل سیاسی لڑائی کے بعد حاصل ہونے والی اپنی سب سے بڑی کامیابی سمجھ رہی ہیں۔ وہ سیاسی جماعتیں جو تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف ایک محاذ بناکر انتقالِ اقتدار کی خاطر متحد ہوئی تھیں وہ بھی اسے جمہوریت کی کامیابی سے تعبیر کر رہی ہیں۔ گوکہ ایک اقلیتی حلقے کا یہ خیال  ہے کہ اس ساری تبدیلی کے عمل کے پس منظرمیں کچھ اور عوامل کارفرما رہے ہیں۔ بہرحال حقیقت جو بھی ہو، بظاہر ایک جمہوری طریقہ کار کے تحت اقتدار عمران خان سے شہباز شریف کو منتقل کیا گیا ہے۔ اس کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما تھے، یہ ایک الگ بحث ہے۔ تاہم اس موضوع پر بات چلتی رہنی چاہیے کہ یہی جمہوریت کا حسن اور تقاضا ہے۔

    اب جبکہ حکمران جماعت  مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتیں اتفاقِ رائے کے ساتھ آگے بڑھی ہیں تو اب یہ توقع بے محل نہیں کہ اس نئی تبدیلی کا مثبت اثر محروم کیے گئے بلوچستان پر بھی پڑے گا اور اس پسماندہ صوبے کے لوگوں کے لیے کچھ ثمرآور اقدامات کیے جائیں گے۔

    بلوچستان کاالمیہ اگرچہ کافی پرانا ہے، تاہم دوعشرے قبل بلوچستان کے اندر حالات زیادہ سنگین ہونا شروع ہوئے اور انسانی وشہری حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس دوران بعض ایسی لکیریں کھینچ دی گئیں جن کی بنیاد پر بعض لوگوں کو غدار تک کہہ دیا گیا۔  بلوچستان میں اس دوران بہت سے نوجوان ہلاک اور بہت سارے لاپتہ ہوئے۔ بلوچستان میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے سرگرم تنظیم ’وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز‘ کا قیام ایک دہائی قبل عمل میں لایا گیا جس کے سربراہ نصراللہ بلوچ ہیں۔ نصراللہ بلوچ کے ماموں علی اصغر بنگلزئی کو سال 2000ء میں لاپتہ کیا گیا تھا جس کے بعد ان کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔ ’وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز‘ کے روح رواں 75 سالہ ماما قدیر ہیں جو سابق بینکر ہیں، ان کے جواں سال بیٹے جلیل ریکی کو جبری لاپتہ کیا گیا اوراڑھائی سال بعد ان کی مسخ شدہ لاش ملی۔ اس تنظیم کے پلیٹ فارم سے فرزانہ مجید، سمی دین اور دس سالہ علی حیدر نے ماما قدیر کے ہمراہ کوئٹہ سے کراچی اور کراچی سے طاقت کے مرکز اسلام آباد تک پیدل لانگ مارچ کیا اور اپنے لاپتگان کی باحفاظت بازیابی کا لاحاصل مطالبہ کیا۔

    بلوچستان کو قومی منظرنامے سے لاپتہ کرکے نظرانداز نہ کیا جائے

    رواں سال 27 فروری سے تربت سے کوئٹہ تک سماجی کارکن کامریڈ گلزار دوست نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے پاکستان اور بلوچستان کی تاریخ کا دوسرا بڑا پیدل لانگ مارچ کیا، لیکن یہ لانگ مارچ بھی نتیجہ خیز ثابت نہ ہوا۔ حتی کہ اس لانگ مارچ کو میڈیا کوریج بھی نہ مل سکی۔ یوں پاکستان کے سیاسی جھمیلوں میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے 24 دن پا پیادہ سفر کے بعد یہ لانگ مارچ بھی ماما قدیر کے مارچ کی طرح بے نام رہا۔

    بلوچستان دو دہائیوں سے احساس محرومی یا عدم خودمختاری کے نام پر سراپا احتجاج ہے۔ ہر جگہ سے بلوچ نوجوانوں کو لاپتہ کرانے کی خبریں سننے کو ملتی  ہیں۔ اسلام آباد میں زیر تعلیم ایم فل فزکس کے آخری سسمٹر کے طالب علم حفیظ بلوچ کو خضدار سے لاپتہ کیا گیا اور اس کی نصیر آباد میں دھماکہ خیز مواد کے ساتھ گرفتاری ظاہر کی گئی۔ مستقبل کے بلوچ سائنسدان کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگی دو سپاہیوں کے ہمراہ سوشل میڈیا پرگردش کرنے والی  تصویریں یہی پیغام دیتی ہیں کہ بلوچستان کا مستقبل لاپتہ ہے۔ تربت یونیورسٹی کے طالب علم نعیم رحمت کو 18 مارچ کی صبح یونیورسٹی کی بس سے اتار کر لاپتہ کیا گیا اور وہ ابھی تک لاپتہ ہیں، ان کی بازیابی کے لیے تربت یونیورسٹی میں ان کے ساتھی طالب علموں نے دو مرتبہ کلاس بائیکاٹ کی صورت میں احتجاج کیا ہے مگرصوبے میں کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ 28 مارچ کو تربت ہی سے لاپتہ تین افراد کی گرفتاری نصیر آباد میں دھماکہ خیر مواد کے ساتھ ظاہر کی گئی ہے۔

    پچھلے دنوں پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کے وقت کافی گہماگہمی رہی، مگر ان معاملات سے بلوچستان کا نوجوان یکسر لا تعلق رہا۔ جہاں ملک کے دیگر خطوں میں اس حوالے سے ایک دلچسپی دکھائی دی، بلوچستان کے اندرسوشل میڈیا پر مگر اس بارے کوئی بازگشت سنائی نہیں دی۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ بلوچستان پاکستان کے تمام معاملات میں لاپتہ ہے۔ بلوچستان کے سب سے بڑے قبائلی سیاسی سردار اختر مینگل نے جب تحریک انصاف حکومت کی تبدیلی کے بعد مسلم لیگ (ن) کے وزیراعظم  میاں شہباز شریف کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ ’’آئین ِپاکستان ہی ملک کو جوڑنے کا ضامن ہے‘‘ تو سوشل میڈیا پہ بلوچستان کے نوجوانوں نے ان کی بات کو سنجیدہ نہیں لیا۔ کیونکہ بلوچستان کو جان بوجھ کر لکیر کے اُس پار کردیا گیا ہے جہاں پر بلوچستان کا نوجوان ہی نہیں پورا بلوچستان لاپتہ ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف بلوچستان کو بازیاب کرائیں تو یہ جمہوریت کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی اور اگر یہ ہوجائے توشاید آئندہ سردار اختر مینگل کی ایسی باتوں پر لوگ سنجیدہ بھی نظر آئیں۔

    ایک دن قبل ہی وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان کا دورہ کیا ہے اور وہاں انہوں نے لاپتہ افراد کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس حوالے سے متعلقہ اداروں سے بات کریں گے۔ بلوچستان کے عوام کو ایک عرصے سے یہی کہا جا رہا ہے کہ اس پر پیش رفت کی جائے گی، تاہم ضروری یہ ہے کہ اس کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔ ہمارا مقتدرہ سے بھی یہی کہنا ہے کہ بلوچ کسی کے مخالف نہیں ہیں، بس ان کی بات سنی جائے، ان کے مسائل کو توجہ دی جائے، انہیں زندگی کے بنیادی حقوق سے محروم نہ رکھا جائے اور بلوچستان کو قومی منظرنامے سے لاپتہ کرکے نظرانداز نہ کیا جائے۔

    بلوچ بلوچستان حکومت لاپتہ افراد نوجوان
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپاکستان میں مذہبی طبقے کا بدلتا سخت گیر تحریکی چہرہ
    Next Article پولیو کا دھچکا، 15 ماہ بعد وائرس کی دوبارہ تشخیص
    اسداللہ بلوچ

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by