تصورات کی اصلاح کے حوالے سے سب سے بنیادی کام یہ کیا گیا کہ بطور صنف عورت کی تکریم و احترام کو اجاگر کیا گیااوربچیوں کی اچھی پرورش کرنے اور ان کے اور لڑکوں کے درمیان امتیاز نہ کرنے کو اعلیٰ اخلاقی رویے کے طور پر پیش کیا۔ اللہ کے مستند پیغمبروں کی دعوتی جدوجہد سے مذہب کا جو تصور سامنے آتا ہے، اس کا ایک بہت بنیادی جزو معاشرتی ناہمواریوں اور اخلاقی بگاڑ کی اصلاح ہے۔ مذہب انسان کے عقیدہ وایمان کے ساتھ ساتھ اس کے عمل کا بھی تزکیہ چاہتا ہے، چنانچہ یہ ناگزیر ہے کہ انسانی جبلت…
Author: عمار خان ناصر
جہاد سے کس مخصوص مقصد یا غایت کا حصول پیش نظر ہے اور شریعت کا یہ حکم کب فرضیت یا استحباب کے درجے میں انسانوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے؟ اس کا تمام تر دار ومدار عملی حالات پر ہے۔ جہاد انبیاء کی شریعتوں میں مقصد کے حصول کے ایک ذریعے کے طور پر شروع کیا گیا ہے اور اہل علم کی تصریح کے مطابق فی ذاتہ کوئی مطلوب یا مستحسن امر نہیں، کیونکہ اس میں انسانی جان ومال کا ضیاع ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر متبادل راستے موجود ہوں تو جنگ کے راستے سے گریز…
غیر مسلم معاشروں میں مسلمان کمیونٹیز کی جو عمومی نفسیات دیکھنے میں آ رہی ہے اس کا حل کردار ِیوسف ؑ میں ہے امریکا کے حالیہ مطالعاتی دورے کے دوران میں ڈریو یونیورسٹی (نیو جرسی) کے سنٹر فار ریلجن، کلچر اینڈ کانفلکٹ ریزولوشن کے زیر اہتمام ایک سمر انسٹی ٹیوٹ میں شرکت کے علاوہ مختلف احباب سے ملاقات اور بعض مقامات پر مسلم کمیونٹی کے اجتماعات سے گفتگو کا موقع بھی ملا۔ ان نشستوں میں راقم الحروف نے خاص طور پر سیدنا یوسف علیہ السلام کے واقعے کی روشنی میں چند اخلاقی اصولوں کو واضح کرنے کی کوشش کی جن…
معاشرے کو مریضانہ ڈانٹ ڈپٹ کی نہیں، ہمدردی اور خیر خواہی کی ضرورت ہے۔ اندھیرے ملامت گری کے بھڑکتے شعلوں سے نہیں، بلکہ کردار کی ٹھنڈی روشنی سے دور ہوں گے۔ احمد امین مصری کا شمار بیسویں صدی کے نصف اوّل میں عالم عرب کے ان ممتاز مفکرین اور رجحان ساز اہل قلم میں ہوتا ہے جنھوں نے بدلتے ہوئے حالات میں نئی نسل کی فکری تربیت کی اور عرب معاشرے میں جدید سیاسی ومعاشرتی تصورات کی تفہیم اور فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ ادبی اور ثقافتی تحریروں کے ایک بڑے ذخیرے کے علاوہ اسلامی تاریخ کے ابتدائی ادوار…
فیمنزم کے عنوان سے مرد اور عورت کے مابین منافرت کے رجحانات اور تصورات کا فروغ جو خواتین کو یہ باور کراتے ہیں کہ مرد دراصل ان کے ”زوج“ نہیں، بلکہ دشمن اور حریف ہیں۔ خواتین کے استحصال اور ان پر ظلم وستم کو عموماً روایتی معاشرے کا ایک مظہر تصور کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس صورت حال کا واحد ماخذ روایتی معاشرہ نہیں، جدید لبرل اور سرمایہ دارانہ معاشرت اس استحصال اور تذلیل کے شاید اس سے بھی سنگین مواقع اور صورتیں پیدا کر رہی ہے اور بدقسمتی سے ان کی طرف کسی کی توجہ نہیں۔…
شاطبی لکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پہلو سے صحابہ کو اس سے روک دیا تھا کہ وہ یہودیوں کے سامنے حضرت موسیٰ کے مقابلے میں آنحضرت کی فضیلت اس اسلوب میں بیان نہ کریں کہ اس سے حضرت موسیٰ کی کسر شان لازم آتی ہو ادبِ اختلاف مسلمانوں کی علمی روایت کی ایک بہت اہم بحث رہی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ میں مختلف دینی اور دنیاوی امور کے فہم کے ضمن میں اختلاف رائے واقع ہوا۔ بعض حساس دینی وسیاسی معاملات پر اختلاف رائے نے آگے چل کر…
مذہبی ذہن اپنی قوت اور اتھارٹی کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے مسلسل متبادل امکانات کی تلاش میں ہے جماعۃ الدعوۃ کی قائم کردہ ثالثی عدالتیں ان دنوں اخباری خبروں اور تبصروں کا موضوع ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق یہ ایک غیر رسمی ثالثی کا فورم ہے جس میں فریقین کی رضامندی سے باہمی تنازعات کا تصفیہ کیا جاتا ہے اور فیصلے کی ذمہ داری جماعۃ الدعوۃ کی طرف سے مقرر کیے گئے قاضی انجام دیتے ہیں۔ اس سے پہلے ستر کی دہائی میں جمعیۃ علمائے اسلام نے بھی اس نوعیت کی ایک مہم شروع کی تھی اور اس مقصد…
دینی تعلیم کے نصاب میں اصلاح کی بات کم وبیش ڈیڑھ صدی سے ہمارے ہاں چل رہی ہے اور کم سے کم اصولی طور پر نصاب میں تبدیلی کے مسئلے پر ارباب مدارس نے جمود کا مظاہرہ نہیں کیا ملک کے معروف غیر حکومتی ادارے پیس ایجوکیشن اینڈ ڈویلپمنٹ فاونڈیشن نے حال ہی میں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسف کے تعاون سے وفاق المدارس العربیہ کے نصاب کے تجزیے پر مبنی ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کی تیاری میں مولانا مفتی محمد زاہد، خورشید احمد ندیم اور راقم الحروف نے حصہ لیا۔ یہ رپورٹ 96 صفحات پر مشتمل…
دہشت گردی یا انتہا پسندی کی سوچ کو عمومی طور پر اس طرز فکر کے حامل عناصر کے بعض اقدامات مثلاً خود کش حملوں وغیرہ کے حوالے سے سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کسی بھی اوسط سطح کے باخبر آدمی سے دہشت گردی کی سوچ کے متعلق سوال کیا جائے تو غالباً اس کا جواب یہی ہوگا کہ یہ وہ سوچ ہے جو بے گناہ لوگوں کا خون بہانے اور لوگوں کے اموال واملاک کو تباہ کرنے کو نیکی کا کام سمجھتی ہے۔ تاہم فکری سطح پر اس سوچ کا تجزیہ کرنے کے لیے مذکورہ تعریف ناکافی ہے، کیونکہ…
عمار خان ناصر کا شمار اہلِ مذہب کی ان نئی اور توانا آوازوں میں ہوتا ہے جنھوں نے ان فکری موضوعات کو اپنی بحث کا موضوع بنایا ہے جنھوں نے عصر حاضر کی کوکھ سے جنم لیا ہے ۔ان کا زیر نظر مضمون بھی اسی پیرائے میں اس بات کا جائزہ لیتا ہے کے اہل مذہب کی مروجہ علوم و فکر پر دسترس کیوں ضروری ہے ؟ عمار خان ناصر ماہنامہ الشریعہ کے مدیر ہیں اور گفٹ یونیورسٹی میں عربی اور اسلامیات کے استاد ہیں ۔(مدیر) اہل دین کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ انبیاء کی نیابت کرتے ہوئے…
