تحریک انصاف کی حکومت نے بعض دوسرے اہم قومی ایشوز کے ساتھ ساتھ دینی مدارس کے حوالے سے یکساں نصاب تعلیم کی ترویج کا سوال بھی اٹھایا ہے۔ یہ اندازہ کرنا مشکل ہے کہ اس حوالے سے حکمران جماعت کے ہوم ورک کی نوعیت کیا ہے اور مسئلے کی پیچیدگی کو کتنی گہرائی میں سمجھنے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے۔ بظاہر زیادہ خوش گمانی کی گنجائش دکھائی نہیں دیتی۔ اس پوری بحث میں بعض بہت بنیادی ابہامات بھی پائے جاتے ہیں جن پر سردست فکری سطح پر زیادہ توجہ نہیں دی جا رہی۔ بہرحال مدارس کے نصاب ونظام اور…
Author: عمار خان ناصر
محمد عمار خان ناصر کا تعلق ایک علمی خانوادے سے ہے ۔ آپ دینی و دنیاوی موضوعات پر یکساں مہارت رکھتے ہیں ۔ آپ کی قلمی رائے اہل علم میں ایک علیحدہ شناخت کی حامل ہے ۔ آپ مکالمے کے داعی ہیں اور اختلاف رائے کو تمام مسائل کے حل کی جانب پہلا قدم سمجھتے ہیں ۔ ریاست پاکستان کے مقاصد کی تشریح کے لئے مذہب اور سیکولرازم کی بحث پر آپ کا مضمون سنجیدہ سماجی مکالے کی جانب ایک اہم قدم ہے جسے نہ صرف پڑھنے بلکہ سمجھ کر استفادہ کرنے کی ضرورت ہے ۔(ازطرف مدیر) مذہبی ریاست یا…
احمدیوں کی تکفیر اور ختم نبوت سے متعلق امت مسلمہ کے اجماعی عقیدے کے تحفظ کے ضمن میں ہمارے ہاں کی جانے والی قانون سازی گزشتہ دنوں بعض مبینہ قانونی ترمیمات کے تناظر میں ایک بار پھر زیر بحث آئی۔ اس تناظر میں والد گرامی مولانا زاہد الراشدی نے اپنی ایک حالیہ تحریر میں بعض توجہ طلب سوالات دینی حلقوں کے غور وفکر کے لیے اٹھائے۔ ان میں سے ایک نکتہ یہ ہے کہ "چوتھی بات اس مسئلہ کے حوالہ سے ان حلقوں کے بارے میں کرنا چاہتا ہوں جو 1974 کے بعد سے مسلسل مسئلہ ختم نبوت کے دستوری…
قومیت کا جدید سیاسی تصور مخصوص جغرافیائی خطوں میں بسنے والے انسانوں کے لیے اپنی سرزمین پر سیاسی خود مختاری کو ایک بنیادی حق قرار دیتا ہے اور بلاشبہ اس تصور نے دنیا میں قوموں اور ممالک کے مابین جارحیت پر مبنی تنازعات کے سدباب میں اہم کردار ادا کیا ہے، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر سیاسی یا نظریاتی تصور کی طرح اس کی عملی تنفیذ بھی بالادست سیاسی قوتوں کے ارادے اور طاقت کی وساطت سے ہی ممکن ہوئی ہے اور جہاں یہ ارادہ مفقود ہے، وہاں اس تصورکی عملی تنفیذ بھی نہیں ہو سکی۔ بدقسمتی سے…
طلاق سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے کئی پہلو ہیں اور ان سب پر الگ الگ غور کرنے کی ضرورت ہے۔اس کا نمایاں ترین پہلو تو "انسانی حقوق” کے اس بین الاقوامی تصور کی قوت کا اظہار ہے جسے اخلاقی، اقداری اور تہذیبی لحاظ سے ایک فیصلہ کن معیار کے طور پر پیش کیا جا رہا ہےاور دنیا کے ہر معاشرے اور قانونی نظام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس کے ساتھ مکمل ہم آہنگی پیدا کیے بغیر اخلاقی اور قانونی جواز حاصل نہیں کر سکتا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اس فیصلے میں بھی…
محمد عمار خان ناصر گفٹ یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر اور ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ کے مدیر ہیں ۔وہ نوجوان علماء کی ا س کڑی سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے بزرگوں کی روایت کو زندہ رکھتے ہوئے دور جدید کے مسائل پر اپنا ایک نقطہ نظر نہ صرف پیش کیا ہے بلکہ اپنے علمی استدلال سے ا س کو ثابت بھی کیا ہے ۔عمار خان ناصر آج کل ڈاکٹریٹ کر رہے ہیں ہم ان کی علمی و فکری کاوشوں کے اعتراف کے طور پر ان کے مرتبے میں اضافے کے دعا گو ہیں ۔(مدیر ) حزب اللہ اس وقت عالم عرب…
موجودہ مسلم حکمرانوں کی تکفیر کرنے والے گروہوں کی طرف سے ایک اہم دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ ان حکمرانوں نے بہت سی ایسی لڑائیوں میں کفار کے حلیف کا کردار ادا کیا ہے جو انھوں نے دنیا کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں کے خلاف شروع کی ہیں اور اسلامی شریعت کی رو سے یہ ایک ایسا گناہ ہے جس کا مرتکب کافر اور مرتد قرار پاتا ہے۔ عمار خان ناصر کا شمار دور جدید کیتوانا آوازوں میں ہوتا ہے جو اسلام اور شریعت سے جڑے وہ مسائل جنہوں نے جدیدیت کی کوکھ سے جنم لیا ہے انہیں…
دعوت دین کی ذمہ داری اور دیارِ مغرب میں اس کے لیے موجود وسیع میدان ہمیں دور جدید کی بعض ایسی اہم خصوصیات کی طرف متوجہ کرتے ہیں جو نہایت واضح اور بدیہی ہونے کے باوجود، غیر داعیانہ طرز فکر کی بدولت امت کی نگاہ سے اوجھل ہیں۔ امت مسلمہ میں مغرب کے سیاسی ومعاشی غلبے کا جو رد عمل پیدا ہوا، بڑی حد تک قابل فہم ہونے کے ساتھ ساتھ، اس لحاظ سے غیر متوازن ہے کہ اس ساری صورت حال میں امت مسلمہ کا داعیانہ کردار اور اس کے تقاضے ہماری نظروں سے بالکل اوجھل ہو گئے ہیں۔…
اسلام کی ابتدا ساتویں صدی عیسوی میں جزیرہ عرب میں ہوئی اور بہت جلد مسلمانوں کے سیاسی ومذہبی اقتدار نے ہمسایہ تہذیبوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا،اس توسیع سے سب سے زیادہ ایرانی تہذیب متاثر ہوئی۔ شرق اوسط میں عرب ایران تنازع کے جہاں سیاسی اور جغرافیائی پہلو اہم ہیں، وہاں اس کی حقیقی ماہیت کو سمجھنے کے لیے اس کا تاریخی وتہذیبی تناظر بھی پیش نظر رہنا بہت ضروری ہے۔ بطور ایک مشخص مذہبی روایت کے، اسلام کی ابتدا ساتویں صدی عیسوی میں جزیرہ عرب میں ہوئی اور بہت جلد مسلمانوں کے سیاسی ومذہبی اقتدار نے ہمسایہ تہذیبوں…
سماجی حرکیات کی رو سے فرقہ واریت، طاقت اور وسائل کے حصول اور اپنے دائرہ اثر کو بڑھانے کی جبلت کا مظہر ہوتی ہے۔ مذہب ہمیشہ سے انسانی معاشروں میں طاقت اور سیادت کے حصول کا موثر ترین ذریعہ رہا ہے۔ فرقہ واریت کی اصطلاح عموماً اس مذہبی تقسیم کے حوالے سے استعمال کی جاتی ہے جس کا اظہار مختلف گروہوں کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف تکفیر وتضلیل کے فتاویٰ اور اپنے اپنے وابستگان میں دوسروں کے خلاف مذہبی بنیاد پر منافرت پیدا کرنے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کے اسباب بنیادی طور پر دو ہیں۔ ایک…
