Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»پلاسٹک، بم اور مریخ
    کالم

    پلاسٹک، بم اور مریخ

    علی بابا تاجBy علی بابا تاججولائی 31, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    شاپر ڈبل کردیں بھائی!۔۔۔ یہ جملہ ہم میں سے ہر شخص شعوری و لاشعوری طور پر کوئی بھی سودا سلف لیتے وقت ادا کرتا ہے۔ اب آتے ہیں کہ اس کا بعد ہم کرتے کیا ہیں ان ڈبل شاپروں کا۔۔۔ گھر آتے ہی ایک آدھ شاپر کی گرہیں کھولتے ہوئے انہیں پھاڑ ڈالتے ہیں اور ڈسٹ بن میں ڈال لیتے ہیں۔ ساتھ ہی ہر گھر میں ایک ایسا شاپنگ بیگ بھی ہوتا ہے جس میں انواع و اقسام کے چھوٹے بڑے شاپنگ بیگ پڑے ہوتے ہیں وہ بھی اس امید پہ کہ یہ کسی دن تو کام آئیں گے۔

    پاکستان میں اس وقت ہزاروں رجسٹرڈ اور نان رجسٹرڈ کارخانے ایسے ہیں جو صرف پولی تھین بیگز المعروف شاپرز بنار ہے ہیں۔ کوالٹی اور ری سائیکل کے قابل ہونے اور نہ ہونے پر بات نہیں کریں گے لیکن ٹنوں کے حساب سے یہ پیداوار اس امپورٹ کے علاوہ ہے جو دیگر ممالک با لخصوص چائنا سے ہو رہا ہے۔ یہی پلاسٹک بیگز ماحول کو آلودہ کرنے کا سب سے بڑا سبب بن رہا ہے۔ غور کریں تو پاکستان میں کچرے کو ٹھکانے لگانے کا نظام پیچیدہ ہوتا جارہا ہے۔ روز بہ روز اس کے حجم میں اضافہ بی دیکھنے میں آرہا ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ گھر، دفتر، دکان، کارخانوں، ریستورانوں اور ہسپتالوں کا کچرا آخر جاتا کہاں ہے؟ یقینا آپ اس کے تعاقب میں جب بھی نکلیں گے تو اپنے اپنے شہروں کے مضافات میں کچروں سے بنے چھوٹے بڑے پہاڑوں کو ضرور دیکھیں گے جو صرف چند برس میں زمین اور زمین کے نیچے کے تمام ماحول کو تہنس نہس کرلیں گے۔

    پلاسٹک کا کچرا جسے ماہرین پلاسٹک بم کا نام بھی دے چکے ہیں ان تمام آلودگی کے ذرائع سے زیادہ خطرناک اور تیز ہے جو انسان کے پیدا کردہ ہیں

    پلاسٹک کا استعمال ہماری روزمرہ زندگی کا ایک ایسا لازمی جزو بن گیا ہے کہ اس کا وجود ہر جگہ ظاہر و باطن میں موجود ہے۔ پلاسٹک بظاہر سستی، مضبوط اور نہایت کارآمد چیز ہے لیکن تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ یہ سیارۂ زمین کا ایک انتہائی خطرناک دشمن بھی ہے۔ وجہ اس کی ناحل پذیر خصوصیت ہے۔ پلاسٹک کا ایک ٹکڑا کم سے کم 300 سال سے 1000سال تک ذروں میں تقسیم ہوکر فنا کی جانب (شاید) اپنا سفر شروع کرتا ہے۔ روئے زمین پر اربوں انسان اگر روزانہ ایک گرام پلاسٹک مصنوعات کا بالواسطہ اور بلا واسطہ استعمال بھی کرتا ہے تو چند سالوں میں اس کے جو اثرات سامنے آنا شروع ہوں گے اور زمیں تا بہ فلک پلاسٹک کا غبار ہی ہوگا اور ہم اس میں ندامت سے رینگ رہے ہوں گے۔ آج اگر یہ پلاسٹک ہمارے ہاتھوں اور پیروں میں ہے تو کل یہ ہمارے جسموں اور سیارے کے اندرونی نظام میں ہوگی۔ آلودگی اتنا بڑا بحران ثابت ہورہی ہے کہ زمان حال اور مستقبل قریب کی بے لگام اور نام نہاد صنعتی ترقی میں سب بڑا نظریہ ساز ماحولیاتی آلودگی کا حل و فصل پیش کرنے والا ہوگا۔

    ترقی و خوش حالی کے نام پرتاریخ انسانی کا گراف آسودگی سے آلودگی کی طرف سرعت سے جارہا ہے۔ اسے قابو کرنے میں لامحالہ ہمارا ذہن ترقی یافتہ اور طاقتور ملکوں کی پالیسی سازی کی طرف جاتا ہے کہ یہی آئیں گے تو یہ مسائل ان کے عملی اور علمی وسائل سے حل ہوں گے، تو اس بابت عرض ہے کہ حالیہ صرف کچھ عرصہ میں انڈونیشیا، ملائشیا، فلپائن اور کمبوڈیا میں ری سائیکلنگ کے نام پر ہزاروں میڑک ٹن کچرا دنیا کے خوش حال اور صاف ستھرے ممالک سے ہی بھیجا گیا ہے۔ مذکورہ ممالک کا کہنا ہے کہ یہ کچرا نہ صرف ری سائیکل کے قابل نہیں بلکہ اس کا وجود ہی نہایت ہی خطرناک ہے اور اسے ان ممالک میں دھوکے سے بھیجا گیا ہے۔

    اپنا کچرا دیگر ممالک کو بھیجنے والوں میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، ہانگ کانگ، جاپان اور سعودی عرب شامل ہیں۔ انڈونیشیا، ملائشیا، فلپائن اور کمبوڈیا کی طرف سے شدید مزاحمت کے بعد کچرے پر عالمی ریاست کا رخ بھی تبدیل ہوسکتا ہے۔ ایک جاپانی کہاوت کہیں پڑھی تھی کہ ایک جگہ کی صفائی کا مطلب ہے دوسری جگہ پر اس کی گندگی ڈالنا۔ مطلب یہ کہ آلودگی خود ایک بڑا موضوع ہے اور اسے ختم کرنا اس سے بھی بڑا موضوع ہے۔ اب بھی انسان نہیں سنبھلا تو اسے قابو میں لانا ممکن نہیں رہے گا اور یہ جس طرح سے یہ ایک عالمی تنازعہ بھی بننا شروع ہوا ہے تو اس میں کمزور ترین ممالک کو ری سائکلنگ، پلاسٹک بینک اور ایسے ہی دیگر نوعیت کے آئیڈیاز سے مرعوب کرکے کچرا دان میں تبدیل کردیا جائے گا۔

    پلاسٹک کا کچرا جسے ماہرین پلاسٹک بم کا نام بھی دے چکے ہیں ان تمام آلودگی کے ذرائع سے زیادہ خطرناک اور تیز ہے جو انسان کا پیدا کردہ ہیں۔ پلاسٹک کا المیہ یہ ہے کہ یہ ہماری زندگی میں نا گزیر حد تک داخل ہوچکی ہے اور یہ استعمال کے بعدبھی ٹھوس، مائع اور گیس شکل میں ا نسان، چرند، پرند، اشجار اور تمام سمندری مخلوق کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔ اس کا سد باب بہر طور انسانوں نے ہی کرنا ہے۔ اس کا استعمال ترک کرناہی ہوگا اور اس کے متبادل کے طرف جانا ہی ہوگا۔

    انسانی زندگی میں اس کے بقا کے علاوہ کوئی معاملہ اہم نہیں۔ آلودگی کا عفریت کسی بھی عالمی جنگ سے زیادہ خطرناک ہے۔ اس کے بارے میں شعور اور آگاہی پر کام کرنا ہی پڑے گا اور ہم میں سے ہر ایک اپنی اپنی سطح پر اپنے علم اور استعداد کو بڑھائے گا تو ارد گرد کا ماحول بہتر ہوگا اور اس کرما چکر سے ہم زیادہ سے زیادہ محفوظ رہیں گے۔ ظاہر ہے ہم اپنا کچرا میونسپل کمیٹی کے کوڑے دان تک تولے جا نہیں سکتے اسے مریخ پر لے جانے کے قابل تو بالکل بھی نہیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleجب عثمانی خلیفہ اور عوام سینما کے دیوانے ہوگئے
    Next Article دہشت گردی کی لہر اور متوقع نئی گروہ بندیاں
    علی بابا تاج

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by