Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»دہشت گردی کی لہر اور متوقع نئی گروہ بندیاں
    رواں تبصرے

    دہشت گردی کی لہر اور متوقع نئی گروہ بندیاں

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتجولائی 31, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read4 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    گزشتہ روز بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں ایک بم دھماکے کے نتیجہ میں 4 افراد جاں بحق ہوگئے اور 32 کے قریب لوگ زخمی ہوئے۔ اس سے قبل ہفتے کے دن وزیرستان اور بلوچستان میں شدت پسند کاروائیوں کے دوران 10 سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ 23 جولائی کو کوئٹہ میں دہشت گردی کی ایک کاروائی میں 4 شہری قتل اور 10 زخمی ہوئے۔ اس کےعلاوہ 21 جولائی کو ڈیرہ اسماعیل خان میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت 9 افراد موت کے گھاٹ اتاردیے گئے۔

    دس دنوں کے اندر دہشت گردی کی چار کاروائیوں میں 27 شہری شہید اور 42 سے زائد زخمی ہوگئے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ دہشت گردی ایک بار پھر زور پکڑ رہی ہے۔ پچھلے عرصے میں مختلف آپریشنز کے بعد ملک میں امن امان کی صورتحال بہتر ہوئی تھی اور ریاستی اداروں کی جانب سے متعد د بار یہ دہرایا گیا کہ دہشت گردی اپنے انجام کو پہنچ گئی ہے۔ یہ یقیناََ بہت بڑی کامیابی اور حوصلہ افزا نتائج تھے لیکن ایسے وقت میں دہشت گردی کے واقعات ایک بار پھر تسلسل سے رُونما ہو رہے ہیں جب اس کی بنا پر پاکستان کو پہلے ہی  کئی طرح سے مشکلات کا سامنا ہے۔

    ریاستی ادارے شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے اصلاحات اور کاروائیوں کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن اس پیش رفت کو درست طور مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اٹھائے جانے والے اقدامات کی شفافیت کو پارلیمنٹ کے ذریعے یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ نئے ترتیب پانے والے حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں۔ افغانستان میں امریکی انخلا کے پاکستانی طالبان پر بھی اثرات پڑیں گے جو افغانستان میں مراکز رکھتے ہیں۔ طالبان کی سیاسی دھارے میں شمولیت کے بعد دونوں ممالک کے شدت پسندعناصر میں نئی گرہ بندیاں متوقع ہیں جو پہلے سے زیادہ خطرناک اور وسیع اثرات کی حامل ہوسکتی ہیں۔ افغان طالبان کی سیاسی دھارے میں شمولیت ان کی نظریاتی بنیادوں کو تحلیل نہیں کرے گی۔ وہ بہرطور اس کی فعالیت کے خواہش مند رہیں گے، چاہے افغانستان کے اندر یا اس سے باہر۔ اگرچہ یہ بعد میں واضح ہوگا کہ وہ پاکستانی طالبان کے بارے میں کیا رویہ اپناتے ہیں لیکن  بظاہر ان کی مخالفت آسان نہیں ہوگی۔ اس سے پاکستانی انتہاپسند عناصر زیادہ پراعتماد اور مضبوط ہوں گے جو ملک کے لیے بہت زیادہ نقصان دہ ثابت ہوگا۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپلاسٹک، بم اور مریخ
    Next Article ’دوٹوک‘ سابق آئی جی ذوالفقار چیمہ کی بے لاگ تبصروں پر مشتمل کتاب
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by