Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»تما م آرٹیکلز»پاک افغان تعلقات:خطے کے بدلتے سیاسی و تذویراتی تناظر میں
    تما م آرٹیکلز

    پاک افغان تعلقات:خطے کے بدلتے سیاسی و تذویراتی تناظر میں

    صفدر سیالBy صفدر سیالمارچ 17, 2016کوئی تبصرہ نہیں ہے۔14 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    مئی2013 کے انتخابات کے بعد منتخب پاکستانی وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے متعدد بار ہمسایہ ممالک،بالخصوص افغانستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کے عزم کا اظہار کیا۔نومبر2013ء میں اپنے افغانستان کے دورے کے دوران وزیراعظم نواز شریف نے افغان حکومت کو وہاں امن کے قیام کیلئے پاکستان کے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اسی طرح دسمبر2013 میں وزیراعظم کی سربراہی میں منعقد ہونے والے نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے اجلاس میں افغانستان کے ساتھ تعلقات کا معاملہ بحث کے چند اہم امور میں شامل تھا۔
    ستمبر2014ء میں افغانستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں خاطر خواہ بہتری آنا شروع ہوئی۔نئے افغان صدر اشرف غنی نے29ستمبر2014 کو حلف اٹھایا جبکہ ان کے مقابل صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ کو نیا تخلیق کردہ چیف ایگزیکٹو آفیسر کا عہدہ دیا گیا۔اشرف غنی نے افغانستان میں سیاسی اور معاشی استحکام کیلئے امن کے قیام کو ایک ترجیحی امر قرار دیا جو کہ ان کے نزدیک پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کئے بغیر مشکل تھا۔غنی کے اس مفروضے کے پیچھے یہ تاثر کارفرما تھا کہ پاکستان افغان طالبان کی کوئٹہ شوریٰ اور حقانی نیٹ ورک پر اپنا اثر و رسوخ رکھتا ہے جسے وہ انہیں افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات پر قائل یا مجبور کرنے کیلئے استعمال کرسکتا ہے۔اس طرح اپنے پیش رو حامد کرزئی کے برعکس اشرف غنی نے پاکستان پر بھرپور اعتماد کرتے ہوئے اس کے ساتھ مل کر افغانستان میں امن کی بحالی کیلئے مل کر کام کرنے کا فیصلہ کیا اگرچہ اس کیلئے انہیں اپنے ملک میں بھرپور تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

    غنی کے پاکستان کی طرف جھکاؤ نے بظاہر موخرالذ کرکے انڈیا کے افغانستان میں بڑھتے اثر و رسوخ سے متعلق بہت سے خدشات کو کم کردیا۔صدر غنی نے نہ صرف افغانستان اور انڈیا کے درمیان2011 میں طے پانے والے تذویراتی شراکت کے معاہدے پر عمل موخر کردیا بلکہ سابق افغان صدر حامد کرزئی کے بھارت سے بھارتی اسلحہ خریدنے کے فیصلے پر عملدرآمد بھی روک دیا۔غنی نے پاکستان کے ساتھ سیکورٹی تعلقات بڑھانے کیلئے بھی کچھ عملی اقدامات کئے۔انہوں نے نومبر2014 میں پاکستان آرمی ہیڈ کوارٹر راولپنڈی کا دورہ کیا،شہداء کی قبروں پر پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی،جس کا بظاہر مقصد پاکستانی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کے دل جیتنا تھا۔جنوری2015 میں انہوں نے افغان نیشنل آرمی کے چھ کیڈٹ کو ایبٹ آباد ملٹری اکیڈمی میں اٹھارہ ماہ کی تعلیم کیلئے بھیجا۔اسی طرح افغان صدر نے پاکستان انٹر سروسز انٹیلی جنس(ISI) اور افغانستان نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکورٹی(NDS) کے درمیان ایک معاہدے کی بھی راہ ہموار کی جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دہشتگردی کیخلاف جنگ میں معلومات کا تبادلہ اور تعاون تھا۔دسمبر2014 میں پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر تحریک طالبان پاکستان(TTP) کے حملے کے بعد افغان سیکورٹی فورسز نے پاک،افغان سرحدی علاقوں میں محدود آپریشن بھی کئے جہاں مبینہ طور پر اس حملے کے منصوبہ ساز چھپے ہوئے تھے۔
    پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے افغان صدر اشرف غنی کی دوستانہ کاوشوں کا اسی گرم جوشی سے جواب دیا اور نہ صرف افغان مفاہمتی عمل اور امن کی بھرپور حمایت کی بلکہ افغان طالبان کو اس عمل میں شمولیت پر بھی راضی کیا ،جس کا عملی اظہار جولائی2015 میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان پاکستان کے شہر مری میں ہونیوالے مذاکرات تھے۔ان مذاکرات میں چین،امریکہ اور پاکستان کے نمائندے بھی شامل تھے۔پاکستان کی افغان مصالحتی عمل کی حمایت محض اس وجہ سے نہیں تھی کہ نئی افغان حکومت اس کیلئے سرگرم کوششیں کررہی تھی بلکہ پاکستانی پالیسی سازوں کا یہ بڑھتا ہوا احساس کہ عدم استحکام اور خانہ جنگی کا شکار افغانستان پاکستان کی دہشتگردی اور شدت پسندی کے خلاف جنگ کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ 2009ء کے سوات آپریشن کے وقت سے ٹی ٹی پی رہنما فضل اللہ اور اس کے ساتھی افغانستان میں روپوش ہیں۔
    ملٹری آپریشن ضرب عضب نے مزید پاکستانی طالبان اور ان کے اتحادی غیر ملکی جنگجوؤں کو سرحد کے اس پار دھکیل دیا ہے۔اس سے پاکستان کی سلامتی کو پاک افغان سرحد سے درپیش دہشتگردی کے خطرات بڑھ گئے ہیں جن کا سدباب افغانستان سے اچھے تعلقات اور وہاں امن قائم کئے بغیر بہت مشکل ہے۔پاکستان یہ بھی نہیں چاہے گا کہ افغانستان میں خانہ جنگی ہو یا کابل پر طالبان کا قبضہ ہو جائے کیونکہ اس سے پاکستان میں بھی طالبان طرز کی پرتشدد تحریکیں جنم لے سکتی ہیں۔

    پاکستان کیلئے افغانستان سے اچھے تعلقات قائم کرنے اور وہاں قیام امن کی کوششیں کرنے کی ایک اور ناگزیریت خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی و تذویراتی صورتحال ہے جس میں امریکہ اور نیٹو فورسز کے انخلاء سے پیدا ہونے والے خلئہ افغانستان کے ہمسائے اور خطے کے دوسرے ممالک پر کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔اس بدلتی صورتحال کا ایک اہم پہلو خطے کے ممالک کے درمیان باہمی یا کثیر الملکی اقتصادی و تجارتی شراکت داریاں ہیں جس کی ایک مثال چین پاکستان اکنامک کوریڈور ہے۔ چین افغانستان میں بھی بہت سے اقتصادی منصوبوں میں شریک ہے اور پاکستان اور چین دونوں چاہتے ہیں کہ افغانستان چین پاکستان کوریڈور سے بھی استفادہ کرے۔جس کیلئے اس کوریڈور میں افغانستان سے رابطے کے امکان رکھے گئے ہیں۔بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کی افغانستان کے مفاہمتی عمل اور امن کیلئے کی جانے والی کوششوں کا ایک محرک چین اور اکنامک کوریڈور بھی ہے۔اکنامک کوریڈور کے منصوبوں کی تکمیل کیلئے ضروری ہے کہ پاکستان اندرونی اور علاقائی امن اور استحکام کیلئے اپنی کوششیں تیز کردے۔اسی طرح ترکمانستان،افغانستان،پاکستان،انڈیا(تاپی)گیس پائپ لائن کا افتتاح13دسمبر2015 ہو چکا ہے اور یہ پائپ لائن 10 بلین امریکی ڈالر کی لاگت سے2018 کے اختتام تک مکمل کئے جانے کا امکان ہے۔تاپی جیسے منصوبوں سے افغانستان اور انڈیا کے درمیان پاکستان کے ذریعے ٹرانزٹ ٹریڈ جیسے منصوبے بھی بحال ہوسکتے ہیں۔امن اور سیکورٹی کے بغیر خطے کے ممالک ایسے منصوبوں کو نہ تو پایہ تکمیل تک پہنچا سکتے ہیں اور نہ ان سے بھرپور استفادہ کرسکتے ہیں۔

    پاکستان کیلئے یہ بہت اہم ہے کہ وہ افغانستان کے امن و استحکام کیلئے بھرپور تعاون کے ساتھ ساتھ، افغانستان سے کثیر الجہتی تعلقات استوار کرے۔

    جولائی2015ء کے مری مذاکرات سے کئی ہفتے پہلے سے پاکستان نے افغان طالبان کو افغان مفاہمتی عمل میں شرکت پر آمادہ کرنے کی کوششیں شروع کی ہوئی تھیں۔مئی2015 میں کابل میں افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ اپنی مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران پاکستانی وزیراعظم نے افغان طالبان کے موسم گرما کے روائتی آپریشن یا حملوں کو دہشتگردی سے تعبیر کیا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغانستان کے دشمن پاکستان کے دشمن ہیں یہ افغان طالبان کیلئے ایک طرح سے واضح پیغام تھا کہ وہ افغانستان میں عسکری کارروائیوں کی بجائے امن مذاکرات پر توجہ دیں۔ مری مذاکرات اس لحاظ سے اہم تھے کہ اس میں افغان حکومت اور طالبان کے نمائندوں نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ پاکستان کے علاوہ چین اور امریکہ کے نمائندے بھی ان مذاکرات میں موجود تھے جو کہ ایک اہم پیش رفت تھی جس کا مطلب یہ تھا کہ امریکہ اور چین افغان طالبان کو افغانستان کی سیاسی مفاہمت کے عمل میں ایک فریق کے طور پر تسلیم کر چکے تھے۔

    اس وقت ملا اختر منصور کی مخالفت میں کم و بیش چار طالبان کیمپ موجود ہیں لیکن کسی کے پاس بھی جنگجوؤں کی اتنی بڑی تعداد نہیں کہ اختر منصور کے مرکزی طالبان گروہ کیلئے خطرہ بن سکیں

    پینٹاگون ترجمان جیف ڈیوس نے4نومبر2015 کو واشنگٹن میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ امریکہ اب افغانستان میں طالبان کے خلاف کاؤنٹر ٹیرر ازم آپریشن نہیں کررہا اور وہ انہیں افغان مفاہمتی عمل میں ایک اہم فریق سمجھتا ہے۔ اس کے کچھ دن بعد افغانستان میں چین کے خصوصی سفیر (Deng Xiguan)نے افغان طالبان کو افغانستان کی سیاسی طاقتوں میں سے ایک قرار دیا۔
    مری مذاکرات کے چند ہفتے بعد افغان طالبان کے امیر ملا محمد عمر کی وفات2013 کی خبر نے نہ صرف افغان مفاہمتی عمل کو سبوتاژ کردیا بلکہ پاک افغان تعلقات بھی قبل از غنی دور کی طرف جاتے دکھائی دیئے جب دونوں ملکوں میں شدید عدم اعتماد پایا جاتا تھا۔اس پیش رفت نے غنی حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے وعدوں اور معاہدوں پر عملدرآمد کو بھی پوری طرح متاثر کیا۔ اس کی دو اور وجوہات بھی تھیں۔اول،غنی کے پاکستان سے متعلق اعلیٰ سطح کے فیصلوں کو افغان سیاسی،عسکری مقتدرہ اور عوام کی مکمل تائید و حمایت حاصل نہ تھی۔دوم، ملا عمر کی وفات کی خبر کے بعد افغان طالبان نے افغانستان میں اپنی کارروائیوں اور حملوں میں یکدم اضافہ کردیا جس سے صدر غنی پر شدید اندرونی دباؤ آگیا کہ وہ پاکستان کی طرف اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں۔(افغانستان میں اکثریت کا خیال ہے کہ وہاں ہونے والے اکثر حملوں کے پیچھے پاکستان میں موجود افغان طالبان کرتے ہیں)۔7 اگست2015 کے کابل حملوں کے بعد جن میں50سے زائد لوگ جاں بحق ہوگئے تھے،افغان صدر اشرف غنی نے بھی پاکستان مخالف بیانات دینا شروع کردیئے۔کابل حملوں کے کچھ دن بعد افغان میڈیا میں اشرف غنی کا ایک بیان جاری ہوا کہ وہ مزید نہیں چاہتے کہ پاکستان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لائے بلکہ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان اپنی سرزمین سے طالبان کی پناہ گاہیں ختم کرے۔

    بہت سے طالبان رہنماؤں نے اس انتخاب پر اعتراض کیا تھا جن میں ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب کے حمایتی عبدالقیوم ذاکر سمیت اہم طالبان رہنما حسن رحمانی،عبدالرزاق اور محمد رسول شامل تھے ان کے اعتراضات یہ تھے کہ ملا اختر منصور نے اپنا انتخاب جلد بازی میں کروایا اور انتخابی عمل پر بھی اثر انداز ہوئے۔

    تاہم پانچویں ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس(اسلام آباد، 6دسمبر2015) کے انعقاد سے افغان امن مذاکرات اور پاک افغان تعاون کے امکانات از سر نو روشن ہونا شروع ہوئے۔کانفرنس میں پاکستان اور بھارت نے بھی باہمی مذاکرات کی بحالی کیلئے کوششوں کا اعادہ کیا جسے بہت سے ماہرین نے پاک افغان تعلقات کیلئے بھی ایک اچھا شگون قرار دیا۔کانفرنس کے دوران افغانستان،پاکستان،امریکہ اور چین پر مشتمل ایک چار فریقی رابطہ گروپ کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا جس کا مقصد افغان مفاہمتی عمل کیلئے رابطہ کاری بیان کیا گیا اب تک اس چار فریقی رابطہ گروپ کے چار اجلاس ہو چکے ہیں، دو افغانستان میں اور دو پاکستان میں۔ ان اجلاس میں شریک چاروں ممالک کے نمائندوں نے افغان مفاہمتی عمل اور افغانستان میں امن کی بحالی کومشترکہ ذمہ داری قرار دیا ہے۔ جو کہ ایک انتہائی خوش آئند امر ہے لیکن گروپ ممبران کی طرف سے بار بار ظاہر کی جانے والی امید کہ امن مذاکرات جلد شروع ہو جائیں گے ابھی تک ایک یکطرفہ امید یا خواہش نظر آتی ہے۔درحقیقت طالبان کا رویہ اور رد عمل ہی افغان مفاہمتی عمل کی کامیابی یا ناکامی کی اساس بنے گا اور تاحال ملا اختر منصور نے مذاکرات میں شمولیت سے انکار ہی کیا ہے۔طالبان کے انکار کو کچھ لوگ سنجیدہ لے رہے ہیں اور کچھ محض سیاسی بیان بازی قرار دے رہے ہیں۔
    ہوسکتا ہے مذاکرات کی بحالی امید سے زیادہ وقت لے لے ،کیونکہ افغان طالبان کو اس وقت اندرونی چیلنجز کا سامنا ہے۔طالبان کی راہبری شوریٰ نے ملا عمر کے ڈپٹی ملا اختر منصور کو جولائی2015 میں نیا امیر چنا تھا۔بہت سے طالبان رہنماؤں نے اس انتخاب پر اعتراض کیا تھا جن میں ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب کے حمایتی عبدالقیوم ذاکر سمیت اہم طالبان رہنما حسن رحمانی،عبدالرزاق اور محمد رسول شامل تھے ان کے اعتراضات یہ تھے کہ ملا اختر منصور نے اپنا انتخاب جلد بازی میں کروایا اور انتخابی عمل پر بھی اثر انداز ہوئے۔ملا اختر منصور پر اقرباء پروری کا بھی الزام ہے اور یہ بھی کہ ماضی میں انہوں نے کچھ طالبان رہنماؤں کو ناحق ان کے عہدوں سے ہٹایا یا تبدیل کیا،مثلاً معتصم آغا جان،مرحوم عبدالرؤف خادم( جو بعد میں داعش میں شامل ہوگئے) اور عبدالقیوم ذاکر، جس کا مقصد طالبان تحریک کو اپنے تابع کرنا تھا۔
    اس وقت ملا اختر منصور کی مخالفت میں کم و بیش چار طالبان کیمپ موجود ہیں لیکن کسی کے پاس بھی جنگجوؤں کی اتنی بڑی تعداد نہیں کہ اختر منصور کے مرکزی طالبان گروہ کیلئے خطرہ بن سکیں۔دوسرے یہ کہ یہ تقسیم ذاتی اور سیاسی طاقت کیلئے ہے نہ کہ نظریاتی۔ملا اختر منصور کی مخالفت میں سرگرم بڑا طالبان گروہ صرف محمد رسول کا ہے جس نے نومبر2015 میں فرح صوبے میں مرکزی گروپ سے علیحدگی کا،یا ملا اختر منصور کی اجازت نہ ماننے کا،اعلان کیا۔محمد رسول بعد میں ہرات منتقل ہوگئے جہاں پچھلے کچھ ہفتوں(مارچ2016) سے ان کے جنگجو ملا اختر منصور کے جنگجوؤں سے برسر پیکار ہیں۔ افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق اس لڑائی میں تقریباً150 جنگجو مارے جا چکے ہیں جن میں اکثریت رسول کے حمایتیوں کی ہے۔محمد رسول کی اہم عسکری طاقت ان کا ڈپٹی ملا منصور داد اللہ تھا جو12نومبر2015کو ذابل میں اختر منصور کے جنگجوؤں سے لڑائی میں مارا گیا تھا۔محمد رسول کے حمایتی زیادہ تر زابل،فرح اور ہرات میں سرگرم ہیں۔
    افغان تجزیہ کار برہان عثمان کے مطابق(برہان افغانستان انالسٹس نیٹ ورک Afghanistan Analysts Network کیلئے لکھتے ہیں)ملا اختر منصور کا مخالف دوسرا طالبان کیمپ ملا عبدالرزاق،ملا حسن رحمانی اور ملا عبدالجلیل جیسے رہنماؤں پر مشتمل ہے۔جس نے ابھی تک نہ تو ملا اختر منصور کی حمایت کی ہے اور نہ محمد رسول۔اختر منصور کو مشرقی افغانستان میں انوار الحق مجاہد کی مخالفت کا بھی سامنا ہے، جو کہ مولوی یونس خالص کے بیٹے ہیں۔ اسی طرح طالبان پولیٹیکل کمیشن سے مستعفی ہونے والے رہنما طیب آغا،نیک محمد اور عزیز رحمانی بھی اختر منصور سے نالاں ہیں اگرچہ انہوں نے عوامی سطح پر اپنی ناراضگی کا کبھی اظہار نہیں کیا۔
    ملا اختر منصور نے اپنی عسکری کارروائیوں اور کامیابیوں کے ذریعے(جن میں قندوز پر عارضی قبضہ بھی شامل تھا) طالبان جنگجوؤں میں اپنی ساکھ کافی حد تک بحال کرلی ہے۔ان کارروائیوں کا ایک مقصد اندرونی دباؤ کو کم کرنا اور اس تاثر کو زائل کرنا بھی تھا کہ ملا عمر کی وفات کی خبر طالبان کمزور یا تقسیم ہوگئے ہیں۔دوسرے،جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے،ملا اختر منصور کے مخالفین ابھی تک عددی اور تنظیمی طور پر طالبان حلقوں میں قابل ذکر حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

    افغان صدر نے پاکستان انٹر سروسز انٹیلی جنس(ISI) اور افغانستان نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکورٹی(NDS) کے درمیان ایک معاہدے کی بھی راہ ہموار کی جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دہشتگردی کیخلاف جنگ میں معلومات کا تبادلہ اور تعاون تھا

    اگرچہ چار فریقی رابطہ گروپ کے ممبر ممالک پرامید ہیں کہ طالبان سے مذاکرات جلد شروع ہو جائیں گے لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں کہ کس گروپ کو دعوت دی گئی ہے یا کون شامل ہوگا جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ملا اختر منصور گروپ ابھی تک انکاری ہے۔حقانی چونکہ اب ضابطہ طور پر اختر منصور گروپ کا حصہ ہیں ان کا اپنے طور پر مذاکرات میں شامل ہونا مشکل لگتا ہے۔رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق(مہرین زہرہ ملک اور جبران احمد،14مارچ2016) طالبان سپریم کونسل نے افغان امن مذاکرات میں شمولیت کیلئے پاکستانی دباؤ ماننے سے انکار کردیا ہے۔
    چار فریقی رابطہ گروپ کو افغان مفاہمتی عمل کیلئے کوششیں تیز کرنی ہوں گی اورصبر کا مظاہرہ کرنا ہوگا لیکن افغانستان،خطے کے دیگر ممالک(بالخصوص پاکستان،چین،بھارت اور ایران) اور امریکہ کو اس بارے میں بھی سوچنا ہوگا کہ اگر طالبان مذاکرات پر آمادہ نہیں ہوتے یا مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے افغانستان میں امن و استحکام لانے کا متبادل لائحہ عمل کیا ہوگا۔
    بالخصوص پاکستان کیلئے یہ بہت اہم ہے کہ وہ افغانستان کے امن و استحکام کیلئے بھرپور تعاون کے ساتھ ساتھ، افغانستان سے کثیر الجہتی تعلقات استوار کرے۔پاک افغان سرحد کو مضبوط بنانا اس وقت پاکستان کی ایک اہم ترجیح ہے جو مشترکہ خطرات کا ادراک اور احساس اور باہمی اعتماد بحال کئے بغیر بہت مشکل ہے۔پاکستان کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ افغانستان میں موجود اپنا منفی تاثر زائل کرنے کی کوشش کرے ۔جس کو بھارت وہاں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے میں استعمال کرتا ہے۔اقتصادی اور تجارتی تعلقات میں اضافہ(دو ملکی یا کثیر ملکی) بھی خطے کے ممالک کو باہمی مفادات میں باندھ سکتا ہے جو ان ممالک کو امن کے حصول اور دہشتگردی کے خاتمے جیسے مقاصد میں ہم آواز بنا سکتا ہے۔

    درحقیقت طالبان کا رویہ اور رد عمل ہی افغان مفاہمتی عمل کی کامیابی یا ناکامی کی اساس بنے گا 

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleکراچی کی سیاست کے بدلتے تیور, تقسیم ہو تی ایم کیو ایم اور اسٹیبلشمنٹ کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ
    Next Article اہل مذہب اور نفرت واحتجاج کی نفسیات
    صفدر سیال

    Related Posts

    روداد: نوجوانوں کے لیے ورکشاپ

    اکتوبر 22, 2026

    زیدیہ شیعہ تحریک اور حوثی سعودی تنازع کا پس منظر

    اکتوبر 22, 2026

    مسلکِ نوربخشیہ: تعارف اور پاکستان میں ادارہ جاتی نمائندگی کا جائزہ

    اکتوبر 22, 2026

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by