Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»تما م آرٹیکلز»پانامہ لیکس سے چاہ بہار تک
    تما م آرٹیکلز

    پانامہ لیکس سے چاہ بہار تک

    راحت ملکBy راحت ملکجون 25, 2016کوئی تبصرہ نہیں ہے۔19 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    کئی حلقے حکومت کی رخصتی کی باتیں اور پیچیدہ معاملات کی خبریں سناتے رہے ہیں جو افواء سازی کا شاخسانہ لگتی تھیں مگر گزشتہ چند دنوں سے حالات و واقعات کی رفتار و نوعیت میں آنے والی تبدیلی نے مذکورہ افواہوں اور خدشات پر سنجیدگی سے توجہ مبذول کرائی ہے

    پانامہ کے عنوان سے دنیا بھر میں سیاسی ارتعاش پیدا ہوا تھا مگر کسی بھی ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا نہیں ہوا بیرونی دنیا کے چند برسراقتدار افراد نے اقتدار سے دست کش ہو کر مسئلہ کو بحران میں بدلنے سے روک لیا البتہ پاکستان کی مثال انتہائی استثنائی ہے یہاں وزیراعظم سے مستعفی ہونے یا احتساب کیلئے پیش کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جبکہ وزیراعظم میاں نواز شریف کا ذاتی طور پر پانامہ پیپرز میں نام موجود نہیں ان کے اہل و عیال کا نام ہے جو ملک سے باہر قیام گزین اور خود مختار تجارتی سرگرمی کے مالک ہیں نواز شریف پر اس پس منظر میں اخلاقی دباؤ موجود ہے جبکہ استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والے بیشتر افراد و جماعتیں وہ ہیں جن کا براہ راست نام پانامہ میں موجود ہے اور وہ اپنے عمل کا اقرار و جواز بھی تسلیم کرتے ہیں یا پھر ان کے رفقاء کے نام آف شور کمپنیوں کے حوالے سے موجود ہیں اس بحران کی گہرائی صرف آف شور کمپنیوں کے ذریعے سرمایہ کاری تک محدود نہیں بلکہ پس پردہ مقاصد و عوامل کی گہرائی و موجودگی کے مسئلہ کو بحران میں بدلنے کا سبب بن رہی ہے تکرار کی معذرت کے ساتھ سوال یہ ہے کہ پاکستان کے کس قانون کے تحت ملکی شہری پر پابندی عائد ہوتی ہے کہ وہ بے نامی سرمایہ کاری نہیں کر سکتا ؟ اس کا جواب ماہرین قانون نفی میں دیتے ہیں (اخلاقی تقاضے ایک سوال ہیں ) چنانچہ اب پیدا شدہ صورتحال پر اصل قابل غور نکتہ آف شور کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنے پر قانونی قدغن عائد کرنے کا ہے جسے ٹی او آرز کمیٹی پہلے تیرا پھر میرا کی معقول بحث میں التوائے عمل میں ڈال رہی ہے یہ بھی واضح رہے کہ آئین کے اعتبار سے اطلاق یہ ماضی قانون سازی نہیں ہو سکتی چنانچہ مسئلے کا حل یہی تھا کہ سب کا احتساب یکساں اوقات کار کے ساتھ نیز مستقبل میں آف شور کمپنیوں کے قیام یا اس میں شراکت داری یا ایسی کمپنیوں کو خریدنے پر پابندی کیلئے موثر قانون سازی کے مسودے پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے کم از کم سیاسی فارمولے کے طور پر آغاز کار کیلئے طے کیا جا سکتا ہے کہ جن جن سیاسی جماعتوں کے معززین کے نام پانامہ میں آئے ہیں ہر ایک جماعت سے (مسلم لیگ سے میاں صاحب کے خاندان کو شامل کر لیا جائے ) ایک مساوی التعداد گروپ بنایا جائے جس کا احتساب سے پہلے ہو تاکہ آغاز کار ہو سکے یہ اعتراض البتہ ملحوظ نظر رہنا چاہئے کہ پہلے اس کا بعد میں کسی اور کا’’ والا فارمولا‘‘ یا مطالبہ بذات خود قانون کے امتیازی نفاذ پر مبنی غیر قانونی عمل ہے ۔

    دوسرا نقطہ جسے گزشتہ تحریر میں بیان کر چکا ہوں اپنی معیشت میں بے نامی سرمایہ کاری ‘ سرمایہ دارانہ معاشی سانحے کا لازمی و ناگزیر مگر غیر اخلاقی حصہ تھے برسوں سے رائج ہے مگر اب جبکہ سرمایہ دارانہ معاشی سانحہ ‘ ارتکاز دولت کی وجہ سے مفلوج و ناکارہ ہوکر دھڑام سے گرنے والا ہے تو بے نامی سرمایہ کاری سمیت یورپ کے بینکوں میں جمع شدہ غیر فعال سرمائے کو مارکیٹ میں لانے کیلئے کارروائی کا ہیجانی آغاز کیا جا رہا ہے جس کے مابعد اثرات سرمائے کی قانونی حرکیات پر بھی مرتب ہونگے اور بلا آخر سرمائے کو قومی سرحدوں میں محدود کرنے کا رجحان توانا ہوگا یہ مرحلہ ان ممالک کیلئے خبر رساں ہوگا جو غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے ترقی کے خواب دیکھ رہے ہیں (سہانے یا ڈراؤنے کی بحث بعد میں )

    پانامہ پیپرز کا ملکی بحران اچانک نمودار نہیں ہوا یہ کشمکش دراصل 2013ء کے عام انتخابات کے نتائج سے ہی شروع ہوگئی تھی قومی اسمبلی حکومت سازی کیلئے درکار عددی اکثریت حاصل کرنے کے بعد مسلم لیگ(نون ) طاقتوروں کیلئے خطرے کی گھنٹی بن گئی اقتدار کے اولین ایام میں نواز شریف صاحب نے قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کے اختیارات پنڈی سے اسلام آباد منتقل کر لئے تھے جو طاقت کے مرکز کیلئے ناگوار تھی اور مستقبل کا منظر نامہ بھی پھر سابق آمر جنرل مشرف کے خلاف مقدمہ چلانے کا فیصلہ ان شکوک کو بھیانک بنا گیا جن کا خدشہ پنڈی والے محسوس کر رہے تھے دریں حالات عمران خان اپنے سیاسی کزن قادری کے ہمراہ اسلام آباد کی طرف چڑھ دوڑے پھر جو کچھ ہواسے بیان کرنا فضول ہے یوں پی ٹی وی کی عمارت میں (جس کی حفاظت فوج کے ذمہ تھی ) گھس جانے والے پلوائیوں کو جس پیار و شفقت سے باہر نکالا گیا وہ خونریزی سے بچنے والی ’’حکمت عملی ‘‘ سے مختلف اور آگے کی بات تھی واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ دھرنے والوں کے اسلام آباد پہنچنے سے پہلی ہی وزیراعظم قومی دفاع و سلامتی کے حاصل کردہ اختیارات واپس لوٹا دیئے تھے یہی سبب ہے کہ دھرنوں کے دوران ایمپائر کی انگلی نہ اٹھی باوجود یکہ کھلاڑی مسلسل دھائی دیتے رہے ۔

    کئی حلقے حکومت کی رخصتی کی باتیں اور پیچیدہ معاملات کی خبریں سناتے رہے ہیں جو افواء سازی کا شاخسانہ لگتی تھیں مگر گزشتہ چند دنوں سے حالات و واقعات کی رفتار و نوعیت میں آنے والی تبدیلی نے مذکورہ افواہوں اور خدشات پر سنجیدگی سے توجہ مبذول کرائی ہے پاکستانی سے باہر موجود کچھ دوستوں سے ہونے والی بات چیت کے پس پردہ اسباب کی صورت سامنے آتی ہے وزیراعظم کے غیر ملکی دوروں کے دوران طاقتور ترین دارالحکومتوں نے سنجیدہ خواہش ظاہر کی تھی کہ پاکستان افغان معاملات حل کیلئے یک رخی پالیسی و کردار اپنائے نیز بھارت سمیت ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری لائے اور متنازعہ مسائل کے حل کیلئے مثبت اقدام کرے وزیراعظم کا ذاتی رجحان بھی واضح اور مثبت تھا جس کا انہوں نے دوران بات چیت کھل کر اظہار کیا ذرائع کے مطابق بھارتی حکمرانوں کو کبھی پر امن ہمسائیگی کے قیام و مذاکرات کی بحالی کا پیغام دیا گیا یہی سبب تھا کہ نریندر مودی وزیراعظم بھارت نے کابل سے واپسی پر اچانک پاکستان میں کچھ دیر ٹھہرنے کا فیصلہ کیا اس مختصر قیام کیلئے میاں نواز شریف کی ذاتی رہائش گاہ رائے ونڈ جاتی امراء کا انتخاب کیا گیا نریندر مودی کی چھٹی کے روز جاتی امراء آمد پر پاکستانی دانشور حلقوں نے پذیرائی کی جبکہ روایتی سوچ والے اس پر تذبذب ہوئے حالات کو طے شدہ سمت رواں رکھنے اور کشیدگی کے عوامل کم کرنے کیلئے حکومت نے جنرل مشرف کی بیرون ملک روانگی ممکن و سہل بنائی مگر اس کے باوجود تعلقات میں اعتماد کا عنصر داخل نہ ہو سکا آپریشن ضرب عضب کے متعلق فوج کی وہ توقعات پوری نہ ہو پائیں جو امن کے قیام اور سول انتظامیہ کی بحالی کیلئے ضروری تھیں چنانچہ گڈ گورننس کے قیام اور کرپشن کے خاتمے کو آپریشن ضرب عضب کیلئے اہم سمجھنے یا تسلیم کرانے والا بیانیہ سامنے آیا تو اقتدار سنگھاسن کے بند کواڑوں کے پیچھے موجود کھیل کے سبھی پتے بکھر کے باہر آ گئے ۔
    صورتحال جیسی ہے اور جس سمت سرک رہی ہے وہ نوشتہ دیوار ہے تاہم مسئلہ یہ ہے کہ تناؤ اور اختلافات کی نوعیت واسباب کا جائزہ لیا جائے ۔

    کچھ باخبر حلقے گوادر بندرگاہ چلانے اور سی پیک کے متعلق سیاسی و عسکری قیادت کے نقطہ ہائے نظر میں اختلاف کی خبر دیتے ہیں سیاسی قیادت بندرگاہ کو خالصتاً تجارتی انداز میں وسیع البنیاد شراکت داری استفادہ و ترسیل کی بنیاد پر چلانے کے متمنی ہیں جبکہ اس کے برعکس طاقتور حلقے گوادر سی پیک کو پاک چین تعلقات پر مبنی دو طرفہ عمل تصور کرتے ہیں اور یوں گوادر خطے میں اہم عسکری اغراض سے وابستہ بندرگاہ کے طور پر دیکھتے ہیں جو جنوب ایشیائی وسطی ‘ مشرق وسطی و خلیج فارس کے دہانے پر طاقت و اہمیت کے عوامل کو بدلتی ہے

    کیا فی الواقع ہی گوادر کو عسکری رجحانات کے زیر سایہ پروان چڑھانے کی ضرورت ہے ؟ یا گوادر کو پورے خطے وسط ایشیائی جنوب اور مشرق کے درمیان اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز وسیع بنانے سے ملک کو معاشی سیاسی سطح پر مضبوط کیا جانا مناسب ہوگا ؟ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان اس سوال پر مباحثے کا فقدان ابہام و تناؤ کا باعث ہے ۔

    دوسری جانب ایک نکتہ پرویز مشرف کا مقدمہ ہے سنگین غداری کے مقدمے کو ختم کرنا اگر ممکن نہیں تو اسے بلامقصد جاری رکھنا سہل نہیں ۔
    بالخصوص جبکہ مقدمے کا مرکزی ’’ ملزم ‘‘ بیرون ملک ہو اور عدالتی کارروائی میں شرکت سے مکمل گریزاں ۔ کیا خصوصی عدالت مسلسل التواء کی متحمل ہو سکتی ہے ؟ اور قانون کے تقاضے کیا ہیں سیاسی طور پر مقدمے کا خاتمہ۔ حکومت کی سیاسی موت تو پھر امکانات کیا ہو سکتے ہیں میرے خیال میں ۔
    الف ۔ پرویز مشرف کسی بھی طور پر مقدمے کی کارروائی میں شامل نہیں ہونگے گویا وہ پاکستان نہیں آئیں گے ۔

    ب ۔ عدالت ملزم کی مسلسل غیر حاضری پر مقدمہ داخل دفتر کر سکتی ہے لیکن قانون ملزم کی عدم موجودگی میں سماعت جاری رکھنے کی اجازت دیتا ہے بالخصوص اس تناظر میں ملزم کی عدم موجودگی میں مقدمے کا منطقی انجام زیادہ مناسب ہوگا جبکہ عدالت ملزم کو کٹہرے میں لانے کی قوت اور اپنے فیصلے پر عملدرآمد کرنے سے عاجزی سے دیکھ رہی ہو ( جو دراصل حکومتی اتھارٹی کی تقریر موجودگی کا المیہ ہے ) چنانچہ امکان غالب یہی ہے کہ عدالت مقدمے کی سماعت جاری رکھے ملزم کی حاضری کیلئے ممکنہ ذرائع بروئے کار لائے ( اشتہاری قرار دینا اشتہارات چسپاں کرنا اور ضمانت ضبط کرنا ) یہ عمل جاری ہے چنانچہ ممکن ہے کہ عدالت یکطرفہ طور پر سماعت مکمل کرے اور فیصلہ سنا دے جس پر عملاً عملدرآمد نا ممکن ہو لیکن علامتی طور پر اس مقدمے کا فیصلہ دور رس اثرات مرتب کریگا بہت ممکن ہے کہ عسکری ادارہ مذکورہ صورتحال پیدا ہونے سے گریز کا متقافی ہو اور یہ بھی سیاسی حکومت و عسکری قیادت میں خلیج کا ایک سبب ہو ۔

    عمومی سوال یہ بھی زیر بحث آنا چاہئے کہ آئین کی موجودگی میں اس کی بالادستی اور حکمران میں رہنمائی حاصل کرنے کے معنی کیا ہوتے ہیں ؟ آئین ایک کتابچہ ہوتا ہے ؟ ریاست کے معاملات کا لائحہ عمل ؟ اور یہ بھی کہ کیا آئین کی تمام دفاعات قابل عمل و احترام ہوتی ہیں یا محض چند ایک اگر آئین کی بالادستی ہی جمہوری ریاست کا طرہ امتیاز ہوتا ہے تو پھر اس میں درجہ دفعہ 6کے عملی نفاذ میں رکاوٹ کے کیا معنی لئے جانے چاہئیں ؟
    اگر یہ قیاس آرائی درست ہے کہ جمہوری حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں تو یہ پوچھنا بھی درست ہوگا کہ اس مقصد کیلئے آئین کے اندر رہتے ہوئے کونسا طریقہ کار بروئے کار لایا جا سکتا ہے (ویسے اس مرحلے پر آئین کے اندر رہنے کا سوال بذات خود لطیفہ لگتا ہے ) کیونکہ صدر کے پاس حکومت اور اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اختیار نہیں ماسوائے وزیراعظم ‘ وزراء اعلیٰ کی ایڈوائس کی اسمبلیاں توڑنا ناممکن ہے ہاں اگر کثیر تعداد میں ارکان اسمبلی رضا کارانہ طور پر احتجاج کرتے ہوئے مستعفی ہو جائیں تو اسمبلیاں تحلیل کرانا سیاسی مجبوری بن جائے گی (آئینی نہیں ) حکومت کے خاتمے کا ایک پاکستانی طریقہ کار ہے جس پر اس وقت خصوصی عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے وہ ہے مارشل لاء کا نفاذ ‘ تسلط / مقدمے کی موجودگی اور طاقت کے عالمی مراکز کی جانب سے مارشل لاء کی مخالفت کا خدشہ یا امکان اس کے نفاذ کی اہم مزاحمت کرتا ہے تو حاصل بحث یہی ہے کہ پانامہ پیپرز پر ٹی او آرز کمیٹی ناکام ہو جائے جس کے بعد حزب مخالف سیاسی جماعتیں عوامی تحریک کا آغاز کر دیں اور یوں وزیراعظم کو قبل از وقت انتخابات منعقد کرانے پر مجبور کر دیا جائے ۔
    مجھے لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی ‘ پی ٹی آئی اور ہمنوا جماعتوں اور طاقتور حلقے کا اسی نقطے پر اتفاق ہو گیا ہے کیونکہ عام خیال یہ ہے کہ اگر نواز شریف کو مقررہ آئینی مدت تک حکومت کرنے کا موقع ملا کچھ مثبت اقدامات کی بنیا پر وہ دوبارہ واضح اکثریت سے انتخاب جیت سکتے ہیں اور یہی وہ پہلو ہے جسے پی پی پی ‘ پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ ناپسند کرتی ہے پانامہ بحران کے آغاز پر پیپلز پارٹی کا نقطہ نظر منقسم نظر آ رہا ہے ( ایک طرف زرداری کی خاموشی تھی اور دوسری جانب اعتزاز احسن کا جوشیلا پن جس میں بلاول زرداری کی تان بھی مل جاتی ہے ) چنانچہ گمان غالب یہی تھا کہ جناب زرداری کی خاموشی کو معاملات طے پانے کا عبوری عرصہ شمار کیا جائے مولانا فضل الرحمان نے لندن میں زرداری صاحب سے ملاقات کی جو نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکی کیونکہ زرداری صاحب کے مطالبات میاں نواز شریف کے حلقہ رسوخ سے باہر تھے چنانچہ وہ جن کے حلقہ اختیار رسوخ کی حدود غیر معینہ ہیں انہوں نے اپنی لمحوں میں زرداری سے معاملات طے کر لئے شنید ہے کہ ڈاکٹر عاصم عنقریب اپنی اہلیہ کے علاج ومعالجے کیلئے بیرون ملک چلے جائیں گے ان کی جائیداد منجمد ہو جائے گی کہ قانون کی اشک شونی کا اہتمام رہے باقی معاملات تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیئے جائیں گے احتجاجی تحریک میں اب کے نئے کھلاڑی نمایاں ہوں گے چنانچہ مخلوط حکومتیں نہیں جن سے حسب منشا کام لینا ممکن آسان ہو گا تو ملکی صورتحال جس سمت بڑھ رہی ہے اس کے تیور اب پوشیدہ نہیں رہے البتہ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس مرحلے پر مسلم لیگ کی اتحادی جماعتیں کیا رویہ اختیار کریں گی ؟
    باخبر حلقے مطلع کر رہے ہیں کہ مسلم لیگ کے اتحادیوں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ مسلم لیگ کا ساتھ چھوڑ دیں اس مقصد کیلئے مختلف حربے استعمال ہو رہے ہیں کچھ ذرائع کا کہنا تو یہ بھی ہے کہ بلوچستان میں محکمہ خزانہ میں بدعنوانی کا مقدمہ بھی اسی قبیل کی ایک مثال ہے اور نیشنل پارٹی کی قیادت کو دباؤ میں لانے کی کوششیں جاری ہیں میر خالد لانگو کے وکلاء بتاتے ہیں یہ مقدمہ نیب کی بجائے کوئی دوسرا ادارہ چلا رہا ہے جو کچھ نظر آ رہا ہے وہ غلط ہو سکتا ہے مگر اس کے درست ہونے کا امکان رد کرنا بھی ممکن نہیں تو پھر وہ تمام سیاسی قوتیں جو اس وقت اپنی حریف جماعتوں کو لتھاڑنے میں مصروف ہیں لیکن ان کا دعویٰ ہے کہ وہ ملک میں آئین و جمہوریت کی غیر متزلزل حامی ہیں انہیں ابھی سے اپنے طرز عمل سے غیر جمہوری خدشات کی روک تھام کیلئے صف آراء ہونا چاہئے بعد ازاں کا واویلا بے سود ہوگا کہ تب تو چڑیاں چگ کھیت چکی ہوں گی ۔
    ملک کو غیر مستحکم کرنے والے بیرونی عوامل بھی شدت اختیار کر رہے ہیں افغانستان الجھتا ہوا مسئلہ ہے جس کی نوعیت و اثرات سے پاکستان الگ نہیں افغانستان قیام پاکستان سے پیشتر کراچی کی بندرگاہ کے ذریعے تجارت کرتا چلا آ رہا ہے پاکستان سے افغانستان کو بحری تجارتی گزرگاہ کی سہولت مہیا کرنے کا باضابطہ معاہدہ کیا تھا جبکہ افغانستان اٹھارہویں صدی سے بلوچستان کی بندرگاہوں پر حق ملکیت و اختیار کا مدعی رہا ہے پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کی بنیا دپر تجارتی راہداری کی سہولت سے مستفید ہوتے افغانستان پر اسلام آباد کا تجارتی رسوخ مسلمہ تھا چاہ بہار کی بندرگاہ سے یہ اجارہ داری ختم ہونے جا رہی ہے افغانستان ایرانی بندرگاہ ‘ بندر عباس کے ذریعے بھی تجارت سے بوجوہ گریزاں رہا کیونکہ اس بندرگاہ پر وزنی تجارتی جہاز لنگر انداز نہیں ہو سکتے وہ پہلے دبئی کی بندرگاہ جاتے ہیں جہاں سے سامان چھوٹے بحری جہازوں پہ لاد کر بندرعباس پر لایا جاتا ہے یہ مہنگا اور زیادہ وقت خرچ کرنے والا رستہ تھا ایران نے چاہ بہار کی قدیم بندرگاہ کو از سر نو فعال اور جدید بنانے کا فیصلہ کیا تو وسط ایشیائی ممالک کیلئے ایک اور سمندری گیٹ کے امکانات روشن ہوئے مگر دقت یہ تھی کہ وسطی ایشیائی ریاستیں ایرانی کے داخلی سیاسی نظام اور پھر امریکی پابندیوں کی بناء پر ایران کے راستے تجارت سے اجتناب کرتے چلے آ رہے ہیں ایران میں اعتدال پسندوں کے برسراقتدار آنے اور امریکہ کے ساتھ ایرانی تعلقات کے احیاء سے وہ پابندیاں ہٹ گئی ہیں جو سدراہ تھیں۔
    بھارت نے زمینی راستوں سے وسط ایشیاء تک تجارتی رسائی کیلئے کوشاں رہا ہے مگر پاکستان کے پالیسی سازوں نے دور اندیشی کے برعکس کھوکھلی نعرہ بازی پہ استوار پالیسی پر کار بند رہنا پسند کیا حالانکہ سفارتی تعلقات کے ذریعے سے باہم مفادات اور رشتے قائم کئے جا سکتے تھے جو بھارت کو کسی بھی قسم کی مہم جوئی جارحانہ پن سے باز رکھ سکتے تھے واہگہ و طور خم کے ذریعے بھارتی رسائی کے عیوض پاکستان کلکتہ تک ریلوے ٹریک کے ذریعے رسائی لے کر ڈھاکہ کے ساتھ اپنے ٹوٹے ہوئے سیاسی بندھن کو تجارتی رشتوں میں پرو سکتا تھا مگر ہماری ہٹ دھرمی نے اس سے استفادے کی بجائے بھارت کو ایرانی بندرگاہ کے ذریعے وسط ایشیائی تجارتی راہداری کا متبادل نظام تشکیل دینے پر حائل کیا ہے اور اب جب افغانستان ایران و بھارت سے چاہ بہار کے ذریعے تجارتی راہداری منانے پر اتفاق و باہمی تعاون کا فیصلہ کیا ہے تو ہمارا سماجی رویہ اور حکومتی انداز بھی اپنی ناکامی کا اعتراف کرنے کی بجائے سہ فریقی اتحاد کو کوسنے دے رہا ہے اسے بھارتی سازش اور پاکستان کو گھیرنے کی کوشش سے تعبیر کیا جا رہا ہے میں سمجھتا ہوں کہ اگر بھارت ہماری تقبیر و تشریح کے مطابق ہمارا ازلی دشمن ہے تو پھر اس سے ایسے ہی اقدام کی توقع رکھتے ہوئے ہمیں بہتر قدم اور حکمت عملی کے ذریعے ایسی سازشوں کو ناکام بنانے پر توانائی صرف کرنے کی ضرورت تھی یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم خود بھی کچھ نہ کریں اور مخالفین سے بھی چاہیں کہ وہ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں بین الریاستی تعلقات ٹھوس نہیں ہوتے یہ لکچدار اور تغیر پذیر ہوتے ہیں باہمی دوطرفہ مفاد ریاستوں کو قرابتداری پر مجبور کرتا ہے لہذا ریاستی تعلقات کے سلیس معنی ہوں کے موقع پر سستی و مفادات پہ بنی رشتے ۔ چاہ بہار بندرگاہ مکمل طور پر فعال کئے جانے کیلئے فوری طور پر دستیاب نہیں تو دوسری گوادر بندرگاہ فعالیت کیلئے تیار مگر ذرائع رسل و رسائل سے محروم بندرگاہ ہے۔ جس کی اقتصادی منڈی سردست بندرگاہ کے قریب موجود نہیں جو اقتصادی منڈی میسر ہے وہ فاصلے پر ہے اور اس سے کراچی کی بندرگاہ فائدہ بخش ہے گوادر اپنی جغرافیائی و تجارتی ساخت کے اعتبار سے وسط ایشیائی ممالک کیلئے تجارتی گیٹ وے تھی جسے چین سی پیک کے ذریعے اپنی تجارتی توسیع و اقتصادی ترقی کیلئے استعمال کرنے کا فیصلہ کر کے اس کی افادی نوعیت بدل دی ہے سی پیک چترال کے بالائی علاقے پر جہاں حیرتان کی پٹی سے متصل ہو کر گزرتی ہے وہاں سے وسط ایشیاء میں کسی بھی رکاوٹ کے بغیر داخل ہو سکتی ہے اس کیلئے افغانستان کے ساتھ برادرانہ باہمی تعلقات میں پر اعتماد گرم جوشی درکار ہوگی اور یہ روٹ آنے والے سالوں میں بہت اہم دوررس سیاسی تقاضی و ریاستی تعلقات کی نوعیت پر اثر انداز ہوگا مگر شومئی قسمت ‘ گوادر بندرگاہ ‘ تجارتی منڈیوں تک رسائی سے محروم ہے اور چاہ بہارسے زاہدارن تک سڑک موجود ہے ریلوے ٹریک بچھایا جا رہا ہے زاہدان سے مشہد تک سڑک موجود ہے جو زرنج کے سرحدی مقام سے دلا آرام تک افغانستان میں تجارتی سامان پہنچا سکتی ہے جہاں سے حیرتان اور دریائے آموجد عبور کر کے وسطی ایشیاء میں داخل ہو سکتا ہے ۔
    گوادر کو ذیلی گزرگاہوں کی تعمیر تک فعالی میں دقت کا سامنا ہے اور وقت طلب یہ امر اس کیلئے بھی سنجیدہ غور کا طالب ہے کہ اس وقت تربت گوادر ہوشاب روڈ بنی ہے وہ وزنی مال بردار ٹرالروں کیلئے استعمال کیلئے مناسب نہیں بدامنی کے اسباب و خدشات اپنی جگہ ۔
    خضدار سے رتو ڈیرو جانے والی شہداد کوٹ شاہراہ پر پل نہیں بنے پہاڑی رستہ تاحال ناقابل استعمال ہے گویا ہنوز دلی دور است والی صورتحال ہے ۔
    چاہ بہار اور گوادر کے تاریخی تناظر کو ملحوظ رکھتے ہوئے پالیسی تشکیل دی جائے جو گوادر کے بلوچوں کیلئے سودمند اور ان کے حق ملکیت و تصرف کے سیاسی و قومی تقاضوں سے ہم آہنگ ہو تو عبوری عرصہ میں چاہ بہار کی فعالیت پر اثر انداز ہوا جا سکتا ہے دوسرا رستہ دہلی کے ساتھ نئے دور کے آغاز میں پوشیدہ اگر اسے زمینی رسائی کے حوالے سے مذاکرات کی دعوت دی جائے تو بھارت ایران گٹھ جوڑ توڑا جا سکتا ہے اس حوالے سے سعودی حکومت سے مشاورت و تعاون حاصل کیا جا سکتا ہے ۔
    افغانستان کو ہر حال میں پاکستانی بندرگاہوں کے ساتھ جوڑے رکھنا اشد ضروری ہے اور یہ کام افغانستان میں استحکام کیلئے تعاون کے ذریعے ممکن الحصول ہے پاکستان کو افغانستان کی داخلی سیاست اور مقامی سٹیک ہولڈر کی بجائے ریاست کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے یہ افغان کی سردردی ہے کہ وہ کسے مقامی سٹیک ہولڈر تسلیم کرتا ہے اور کس طرح اسے آمادہ تعاون کرے گا اس اہم تاریخی مرحلے پر امریکہ کے ساتھ اشتعال انگیزی کی بجائے دانشمندی کے ساتھ کام کیا جائے ماضی میں اس کا بغلی بچہ بننا جس طرح غلط اور نقصان دہ تھا آج کی دنیا میں اس سے فاصلہ اور دشمنی بھی ویسی خطرناک ہے سو احتیاط کا دامن تھامنے کی اشد ضرورت ہے یحییٰ خان کے کوسجین (روسی صدر ) کے خط کو ردی کی ٹوکری میں ڈال کر ماسکو کو دہلی کے پیچھے کھڑا کر دیا تھا سر تاج عزیز کو اشتعال انگیز مگر جذباتی تسکین والے بیانات سے بچنا چاہئے اسے خارجہ پالیسی نہیں کہتے بلکہ یہ خارج ہو جانے والی صحافت کہلاتی ہے ۔
    چاہ بہار بندرگاہ کی تعمیر و فعالیت میں چین کے کردار و دلچسپی کو نظروں سے اوجھل کر دینے سے منظرمہ دھندلا جاتا ہے شاید ہم اس وقت اسی کیفیت میں سہ فریقی اتحاد پر غصے کا اظہار کر رہے ہیں حالانکہ ایسے موقع پر اردو کا محاورہ ہے کھسیانی بلی کھمبا نوچے ۔
    پاکستان کو اپنے طرز عمل انداز فکر و نظر اور رویوں کو بدلنے کی ضرورت ہے ماضی کی کوتاہ اندیشیوں سے گلو خلاصی کی اشد ضرورت ہے نئے سرے سے خارجہ تعلقات اور دفاعی حکمت عملی پر غور کیا جائے ہم ایک مختلف بدلی ہوئی پرامن آسودہ دنیا میں داخل ہو سکتے ہیں ۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleامجدصابری کی شہادت اور چند سوالات
    Next Article اوریانیت
    راحت ملک

    Related Posts

    روداد: نوجوانوں کے لیے ورکشاپ

    اکتوبر 22, 2026

    زیدیہ شیعہ تحریک اور حوثی سعودی تنازع کا پس منظر

    اکتوبر 22, 2026

    مسلکِ نوربخشیہ: تعارف اور پاکستان میں ادارہ جاتی نمائندگی کا جائزہ

    اکتوبر 22, 2026

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by