Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»تجزیہ»وارث علوی کا نئے نقاد کے نام نواں خط
    تجزیہ

    وارث علوی کا نئے نقاد کے نام نواں خط

    فیصل اقبال اعوانBy فیصل اقبال اعوانمئی 25, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔11 Mins Read25 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    عزیزی و محبی!
    چلو یہ بھی اچھا ہوا کہ بالآخر نقادِ ایذا پسند کے نئے نقاد کے نام خطوط کتاب میں حنوط کر دیے گئے اور میری ان ملفوظاتِ غلط انداز کا جواب دینے سے جان چھوٹی۔ اب فکر ہے تو فقط ان نہتے قارئین کی جو محض خوشنودیء اساتذہ یعنی قبولیتِ مقالہ جات کے لیے مجبوراً اپنے گلو ہائے فکر و نظر اس شمشیرِ صاعقہ خصال کی نذر کریں گے۔ رہی بات عام قارئین کی تو انھیں ہمارے ادیب اپنی بے نظیر فن کارانہ ہنر مندی سے بڑی قلیل مدت ہی میں کتاب خریدنے سے ہوشیار کر چکے ہیں۔ تجربہ کار قاری تو اعزازی کاپی دینے پر بھی بدکنے لگا ہے۔ اس کا تجربہ شاہد ہے کہ اس اعزاز سے آخرش اسے شرمندگی ہی ملنے والی ہے۔ بہ قول شخصے: بازار میں سونے کے بھاؤ بکنے والے کاغذ پر جب ایسی تحریریں چھپتی ہیں تو وہ ردی کے بھاؤ بھی نہیں بکتا۔ خیر موصوف ادب کی تاریخ میں یاد رکھے جائیں نہ جائیں ایذا رسانی کی تاریخ میں ضرور یاد رکھے جائیں گے۔

    آج سے ہم نجات یافتگانِ ملفوظاتِ نقادِ عجب گو، تنقیدی قاعدوں اور دیگر ادبی امور پر بات کیا کریں گے۔ میاں! پہلے تو یہ جان لو کہ کسی بھی ادب پارے کی حقیقی قدر و قیمت جانچنے کا ایسا جامد کلیہ آج تک ایجاد نہیں ہو سکا جو ہر دور اور ہر صنف پر یکساں لاگو ہو سکے۔ اور اس کی وجہ بہت سادہ ہے: ادب کی قدریں وقت، سماج، قاری اور ادبی رجحانات کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں لہذا ان پر سائنسی قطعیت کے ساتھ بات کرنا ممکن نہیں۔ لیکن ادب کی قدری تعیین کے اصولوں میں سائنسی قطعیت نہ ہونے کے باوجود ایک جامع اور متوازن طریقہ کچھ بنیادی ستونوں پر کھڑا کیا جا سکتا ہے، جو ادب پارے کے فنی اور فکری پہلوؤں کی جانچ کر سکے۔ فن پارے کو زبان و بیان، فکری و موضوعاتی گہرائی، سماجی معنویت اور استمرار و اثر پذیری کی کسوٹی پر چڑھا کر نقاد اپنی زمہ داری سے عہدہ برآں ہو سکتا ہے۔

    برخوردار! زبان و بیان کا شجر، لفظوں کے انتخاب، جملوں کی ساخت، بیانیے کی روانی، تحریر کے منطقی بہاؤ، علامت و استعارہ کے فنی استعمال اور معنوی تہہ داری کے برگ ہائے سبز سے مزین ہو تو اس کے سائے میں بیٹھ کر قاری متن کو نگاہِ تشکر سے دیکھتا ہے۔ کڈھب بیانی کے ٹنڈ منڈ پیڑ کے نیچے بیٹھے قاری پر فن کے گل ہائے لالہ نہیں صرف ابتذال کے پرندوں کی بیٹیں گرتی ہیں۔ اسی لیے وہ اگلی مرتبہ ہاتھ میں باجرہ نہیں غلیل لاتا ہے۔ اور اکثر تو:

    چلی سمتِ عیب سے وہ ہوا کہ متن کتاب کا جل گیا

    عزیزِ من! ادب پارہ فنی طور پر کمزور ہو، تو چاہے اس کا پیغام کتنا بھی بڑا ہو، وہ دیرپا اثر نہیں ڈال سکتا۔

    پیش کردہ خیالات کی وسعت و گہرائی محض الفاظ کی آرائش نہیں، بل کہ فکر کی پہنائی کا آئینہ ہوتی ہے۔ وہ تحریر ہی زندہ رہتی ہے جو حقیقت کی مٹی سے جڑی ہو اور انسانی تجربے کی دھوپ میں تپ کر نکھری ہو۔ ایسا بیان قاری کے ذہن پر دستک دیتا ہے، اسے سوال کرنے، ٹھہر کر سوچنے اور اپنے یقین کو نئے سرے سے پرکھنے پر آمادہ کرتا ہے۔

    ادب کی اصل قدر صرف خوش آہنگ الفاظ میں نہیں، بل کہ اس صلاحیت میں پوشیدہ ہے کہ وہ مانوس راستوں سے ہٹا کر نئے زاویے دکھائے، سوچ کے بند دریچوں کو وا کرے اور معنی کی نئی جہتیں روشن کرے۔ ادب کی اصل تاثیر اسی میں ہے کہ وہ شعور کی ایک نئی کرن جگائے، اور انسان کو اپنے اور اپنے گردوپیش کے بارے میں زیادہ حساس اور باخبر بنائے۔

    ادب پارہ اپنی قدر کا اعلان خود نہیں کرتا، وقت اس کا فیصلہ سناتا ہے۔ جو تحریر اپنے عہد کی قید میں رہ جائے، وہ لمحاتی تاثر تو چھوڑ سکتی ہے مگر دوام نہیں پاتی؛ اصل کسوٹی یہ ہے کہ وہ آنے والے زمانوں کی آنکھ میں بھی ٹھہر سکے۔ اور بڑے ادب میں یہ امکانات مضمر ہوتے ہے کہ وہ ہر دور میں نئے معنی کے ساتھ زندہ رہتا ہے، وہ صرف پڑھا نہیں جاتا بل کہ بار بار دریافت کیا جاتا ہے۔ اس کی بازگشت قاری کے ذہن میں دیر تک گونجتی ہے، اور ہر قرات پر وہ ایک نئی پرت، ایک نئی جہت اور نیا زاویہ آشکار کرتا ہے۔ یہی اس کی پہچان ہے، اور یہی اس کی برتری۔

    میاں! سچ پوچھو تو نقاد کا اصل فریضہ ادب کے قاری میں مطالعہ کے شوق اور صلاحیت کو ترقی دینا اور قاری کے شعور میں اپنی بصیرت اس خاموشی سے جذب کرنا ہے کہ اپنی موجودگی کا احساس دلائے بغیر نقاد قاری کے وجود کا حصہ بن جائے۔ نقاد کا منصب محض فیصلے صادر کرنا یا ادب پر حکم لگانا نہیں، بل کہ قاری کے دل میں مطالعے کی ایسی نرم آگ روشن کرنا ہے جو رفتہ رفتہ ذوق کو بصیرت اور شوق کو شعور میں ڈھال دے۔ ایک اچھا نقاد وہ نہیں جو اپنی دانش کا شور برپا کرے، بل کہ وہ ہے جو خاموشی سے قاری کی فکر میں یوں اتر جائے کہ اس کی راہ نمائی محسوس تو ہو مگر اس کی موجودگی نمایاں نہ ہو۔ یاد رہے! اچھا نقاد قاری کے ذہن پر اپنی رائے مسلط نہیں کرتا، بل کہ ادب کے بند دریچوں کو آہستگی سے وا کرتا ہے تاکہ معنی خود قاری کے اندر جنم لیں۔ گویا نقاد ایک ایسا خاموش رفیقِ سفر ہے جو لفظوں کی دھند میں راستہ بھی دکھاتا ہے اور اپنی انگلی بھی نمایاں نہیں ہونے دیتا۔ اور قاری کے دماغ میں یہ تاثر ایک پل کے لیے بھی نہیں ابھرنے دیتا کہ ادب کی تفہیم کے لیے وہ نقاد کا دستِ نگر ہے۔ بہترین تنقید وہی ہے جو قاری کے شعور میں اس طرح جذب ہو جائے جیسے خوشبو ہوا میں، بے صدا، بے نام، مگر دیرپا۔

    اے نویدِ صبحِ روشن! ایسی تنقید جو انسانی تجربات سے زیادہ تصورات و نظریات سے دل چسپی رکھتی ہو وہ انسان کے نظامِ احساس میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کر سکتی۔ دیر پا اور نظامِ احساس میں انقلاب وہی تنقید لا سکتی ہے جو اجتماعی تہذیب کی عام سرگرمی کا حصہ ہو۔ کسی ادب پارے کی تفہیم و تعبیر صرف تصورات و نظریات کے حوالے سے متعین کرنا تنقید کو قیدِ تنہائی میں رکھنے کے مترادف ہے۔

    اچھی تنقید لکھنا چاہتے ہو تو تنقید سے زیادہ ادب پڑھو۔ یاد رکھنا، ادب پڑھنے والے نقاد کے ذہن کو تنقید کبھی بگاڑ نہیں سکتی اور محض تنقید پڑھنے والے نقاد کے ذہن کو ادب کبھی سنوار نہیں سکتا۔ ادب کا دیانت دارانہ مطالعہ تمھیں متن پر من چاہےمعنی مسلط کرنے سے روکے گا اور کسی بھی فن کی گرفت میں آ کر دیگر افکار و علوم سے غیر متعلق ہونے سے باز رکھے گا۔ خاطر نشان رہے، عمدہ فن پارہ اپنی تفہیم، اپنا ادراک، اپنا اظہار اور اپنی تحویل کا پورا عمل اپنے ساتھ لے کر آتا ہے۔ بڑا ادب معنی کی ذہنی حدود کو توڑ کر معانی کی صورتِ مدرکہ کے نظام کو تہس نہس کر دیتا ہے۔ یعنی لفظ کی روایتِ اظہار کو دستِ حقارت سے جھٹک کر نئے معانی میں استعمال کرتا ہے اور الفاظ کی روایتی تخلیقی اور فنی کسی بندش کا قائل نہیں ہوتا۔ میرے عزیز! لفظ کی اس سے بڑھ کر کوئی حقیقت نہیں کہ یہ معانی کے تموج سے پیدا ہونے والے بلبلے ہیں۔

    نوجوان! نقاد کے اہم کاموں میں سے ایک فن کاروں کے شناختی کارڈوں کی پڑتال بھی ہے یعنی اصلی اور جعلی فن کاروں کی چھان بین کرنا۔ نقاد کی زمہ داری ہے کہ جعلی شناختی کارڈوں اور نقلی ادبی علامتوں کی نشان دہی کرے۔ جعلی شناختی کارڈ بنوانا اگر قانونی طور پر جرم ہے تو ادبی طور پر بھی ہرگز قابلِ معافی نہیں۔

    عزیز از جان! مشرقی تنقیدی روایت بضد ہے کہ خام فن کاروں پر تعریفی مضامین ان کی زندگی میں لکھے جائیں اور عمدہ فن کاروں کی توصیف بعد از مرگ ہو۔ اس روایت سے انحراف کی جرآت رکھتے ہو تو ٹھیک ورنہ حلقہ اربابِ ذوق، انجمن ترقی پسند مصنفین یا اسی نوع کی کسی بھی ادبی تنظیم کی فوری رکنیت حاصل کرکے اپنی دنیا سنوارنے اور آخرت برباد کرنے کا راستہ تو کھلا ہی ہے۔ اور اگر یہ بھی میسر نہ ہو تو اکادمی ادبیات میں نوکری کرکے دنیا و مافیہا سے دانستہ بے خبر رہ سکتے ہو۔

    خام ادیبوں کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ وہ اپنے پسندیدہ فن کار بھی خود ہی ہوتے ہیں۔ وہ جو ادبی شریعت لے کر آتے ہیں، اس کے واحد امتی ہونے کا اعزاز بھی انھیں ہی ملتا ہے۔ ایسے ادیب نما لکھاریوں کی مارکیٹ میں سپلائی دن بہ دن بڑھ رہی ہے جس سے ادبی طلب و رسد کا توازن خطرناک حد تک بگڑتا جا رہا ہے۔ کچھ سال پہلے مشہور تھا کہ اینٹ بھی اٹھاؤ تو اس کے نیچے سے ایک ناول نگار برآمد ہوتا ہے اور اب تو یہ حالت ہے کہ اس اینٹ پر بھی دو دو ناول نگار بیٹھے ہیں۔ ایسے “ نادرِ روزگار” ناول نگار اپنے ہر نئے ناول کے ساتھ دوسرے ادیبوں سے تو آگے خیر کیا نکلیں گے اپنے آپ ہی سے آگے نکل رہے ہیں۔ ان ناول نگاروں کا مستقبل ہو نہ ہو، حال کوئی نہیں ہے۔

    ایسے ادیب نما نوٹنکی زاتی مدحت میں جس چرب زبانی معاف کرنا طول بیانی سے کام لیتے ہیں، تمھیں ہرگز مواد اور مفاد کی کمی کا شکوہ نہ ہوگا۔ اس طرح تم مشرقی تنقیدی روایت کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ ردی کاغذ کی فراہمی میں بھی برابر کے حصہ دار بن سکتے ہو۔

    برخوردار! اگر تعلق، رشتے اور زاتی مفاد سے بلند ہو کر بے خوفی سے ادبی متن کی قدر متعین کرنے کی جرات رکھتے ہو تو تنقید لکھو اور اگر تحریر سے مقصود محض وقت اور کاغذ کا ضیاع ہے تو فی زمانہ ناول لکھنے سے بہتر اور کوئی کام نہیں۔

    ادیبوں سے محبت، احترام اور عقیدت بہت اچھی بات ہے لیکن ایسا نہ ہو کہ ان کے متون پر لکھتے ہوئے تمھاری تحریر میں محض یہ محبت، احترام اور عقیدت ہی نظر آئے اور ادیب کہیں گم ہو جائے۔

    عزیز از جان! اردو کے ادیب نما لکھاری آج کل اٹھتے بیٹھتے ایک ہی شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ ان کی نوبل، بُکر اور اسی نوع کے دیگر بین الااقوامی ادبی انعامات سے محرومی کی واحد وجہ ان کی تحریروں کا انگریزی زبان میں ترجمہ نہ ہونا ہے۔ ویسے تو کئی اردو ادیب پہلے ہی ایسا فکشن لکھ رہے ہیں جسے پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ یہ انگریزی فکشن کا ایسا ترجمہ ہے جسے اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں یکساں اناڑی شخص نے اپنے تمام تر اناڑی پن کو بروئے کار لاتے ہوئے کیا ہے۔ بہ ہر حال ان ادیب نما مخلوقات کی تحریروں کا ترجمہ ہو نہ ہو، ان کے خلاف مقدمہ ضرور درج ہونا چاہیے۔ اپنی تحریروں کے انگریزی میں تراجم کے خواہش مند مصنفین اصل میں شرمندگی کی بین الاقوامیت کے قائل ہیں یہ چاہتے ہیں کہ ان کی تحریریں پڑھ کر صرف اردو قارئین ہی شرم سار کیوں ہوں۔ گوروں کا بھی اس شرم ساری پر اتنا ہی حق ہے جتنا کہ ہم دیسی لوگوں کا۔

    نوجوان! آج کے لیے بس اتنا ہی۔ آج بہشت میں مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا ہے۔ جنت میں شعراء کی شدید قلت کے پیشِ نظر جہنم سے شاعروں کی کثیر تعداد کو پیرول پر رہائی ملی ہے۔ شاعروں کی دنیاوی عادات کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلے پہل تو آن لائن مشاعرہ کی تجویز پیش ہوئی لیکن پھران جنتیوں کے اصرار پر جنھوں نے بقول یوسفی صاحب اس سے قبل شاعر یا مشاعرہ نہ دیکھا تھا بالآخر دوزخ سے شعراء کی امپورٹ کا فیصلہ ہوا۔ بہشتِ بریں میں قدم رکھتے ہی شاعروں کو شعبۂ تطہیرِ شعراء کے حوالے کیا گیا جہاں تین چار روز سے ان کی دھلائی ہو رہی ہے۔ سنتے ہیں کہ جہنم کی گرمی کے عادی شاعر جنت کی ٹھنڈی ہواؤں میں آتے ہی چھینکیں مارنے لگے۔ سردی میں ٹھٹھرتے ہوئے ترقی پسند شاعروں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ انھیں انقلاب نہیں کمبل چاہئے۔ کچھ شاعر تو فرشتوں کو تحریری درخواستیں بھی دے چکے ہیں کہ یہ آنے جانے کا سلسلہ ہر سال چھ مہینے میں ایک بار ضرور ہونا چاہیئے۔ کیوں کہ وہ عمر بھر کرائے کے مکانوں سے ہر سال چھ مہینے بعد کرایہ کی عدم ادائیگی کی وجہ سے نکالے جاتے تھے سو جہنم کی مستقل رہائش سے ان کی طبیعت اوبنے لگی ہے۔ فرشتوں نے ان کے مطالبات یہ کہہ کر اپنی اپنی نوٹ بک میں لکھ لیے ہیں کہ فکر مت کرو واپسی پر ان تقاضوں کی سزا الگ سے ملے گی۔ خیر جتنے شاعر اتنی باتیں۔ لو میاں! ہم تو چلے۔ مشاعرہ شروع ہوا چاہتا ہے۔ پہلا شاعر بلوا لیا گیا ہے۔ اپنا اور اپنے قلم کا خیال رکھنا۔

    خیر اندیش
    وارث علوی

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleجدیدیت اور اس کی بے اطمنانیاں: ایران کے تناظر میں
    Next Article ایران جنگ شیعہ عسکریت پسندی اور عالمی جہاد کی نئی لہر
    Avatar photo
    فیصل اقبال اعوان

    Related Posts

    وارڈ نمبر 6: ایک نفسیاتی اور سیاسی تمثیل

    اکتوبر 13, 2026

    گلگت بلتستان اسمبلی الیکشن میں دوسری نسل بطور امیدوار اور منتخب ممبران

    ستمبر 9, 2026

    جدیدیت اور اس کی بے اطمنانیاں: ایران کے تناظر میں

    مئی 12, 2026

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by