یه مکالمہ سندھ کے شہر حیدر آباد کے سماجی، لسانی اور مذہبی تناظر میں شناخت پر مبنی مسائل اور رجحانات پر ایک گہری گفتگو پیش کرتا ہے۔ عامر رانا نے امر سندھو، پروفیسر عرفانه ملاح اور پروفیسر ذکیه اعجاز سے حیدرآباد کے ثقافتی، سیاسی اور سماجی ڈھانچے، اس کے تنازعات اور ان سے نمٹنے کی کوششوں پر بات کی۔ امر سندھو جو ایک رائٹر اوروو من رائٹس ایکٹیوسٹ ہیں، پروفیسر عرفانہ ملاح، جو ایک متحرک سماجی کارکن ہیں، اور پروفیسر ذکیہ اعجاز جو وومن ایکشن فورم سے وابستہ ہیں، نے حیدر آبادکی تاریخی اور ثقافتی اہمیت، لسانی اور مذہبی تضادات اور سول سوسائٹی کے کردار پر روشنی ڈالی۔ یہ انٹرویو حیدر آباد کے سماجی تانے بانے، اس کے چیلنجز اور خواتین کی قائدانہ مزاحمت کی طاقت کو اجاگر کرتا ہے۔
سوال: ابھی ہم پروفیسر ذکیہ ، پروفیسر عرفانہ ملاح اور ہماری دل پسند امر سندھو کے ساتھ ہیں۔ ان سے پہلے چاہیں گے تھوڑا سا تفصیلی تعارف بھی کروادیں۔
پروفیسر ذکیہ : میں پروفیسر ذکیہ اعجاز ہیں سال سے میں کامرس بزنس سے affiliated ہوں، کالج میں پڑھاتی ہوں اور (WAF) Women Action Forum سے میر اپندرہ سالوں سے تعلق رہا ہے۔ اور میں ہوں، تھوڑا بہت میڈیا میں کام کیا ہوا ہے اور human rights activist ،ہوں women activist تھوڑا بہت لکھتی ہوں۔
سوال: چلیں زبر دست جی آپ !
عرفانہ ملاح: میرا نام عرفانہ ملاح ہے۔ پیشہ کے اعتبار سے میں کیمسٹری کی پروفیسر ہوں، سندھ یونیورسٹی میں۔ مجھے خود بھی معلوم نہیں کہ میرا کیا تعارف ہے۔ مگر ایک تعارف جسے میں بہت دل سے own کرتی ہوں۔ activism میںenvironment ،میں activism کرتی ہوں۔ میرا کلچر activist own میں خود کو ہے۔ Education کے حوالے سے ، woman کے حوالے سے activism ہے۔ اگر کوئی مجھے کہے کہ خود کو ایک لفظ میں define کرو تو میں بڑے پیار سے کہوں گی کہ I am an activist
سوال: تو شخصیت کا پھیلاؤ بہت زیادہ ہے آپ کا۔
امر سندھو : جی میرا نام امر سندھو ہے اور میری پہلی پہچان جو ہے وہ رہی ہے writer کے طور پر ۔ Writing سے پھر میں activism کی طرف گئی ہوں۔ اور activism میں بھی پہلے political activism انہوں نے بتایا کہ پہلے اس وقت جس طرح کی movements رہی ہیں جیسے nationalist تھے۔ ہم contradiction کی ہیں۔ جو یہ جو ہمارے سماج کے اندر left wing اورmovements سٹوڈنٹ لائف سے، کالج کے زمانے سے لے کر اس میں ایک directly involvement بھی رہی اور indirectly بھی رہی۔ پھر اس کے بعد جو ہے۔ میرا تعلق رہا women rights activism کے ساتھ۔ یہاں پر جو ہے پھر ہم نے Woman Action Forum Hyderabad کھولا۔ اس کی میں یہاں پر بانی ممبر ہوں۔ ویسے میں یونیورسٹی میں پڑھاتی ہوں۔
سوال: کیمسٹری کی بات ہو رہی ہے تو حیدر آباد کی chemistry بتائیں کہ یہاں conflicts کیا ہیں، تضادات کیا ہیں، crisis کیا ہیں؟ Crisis تو نہیں۔ تضادات کیا ہیں ؟
عرفانہ ملاح : اصل میں حیدر آباد بہت مختلف شہر رہا ہے۔ Partition سے پہلے لاہور کی طرح سمجھا جاتا تھا سندھ کا اگر ہم اس کو cultural center اگر کہیں۔ تو ایک attraction ، ایک romance ہے Hyderabad کا۔ اگر آپ پوری سندھ دیکھ لیں۔ یہاں کے لوگوں کے اندر کراچی کے لیے romance نہیں ہو گا۔ حیدر آباد کے لیے ہو گا۔ آپ کے پورے سندھ کے لوگ آپ کو حیدر آباد میں ملیں گے۔ ان کے گھر ہوں گے یہاں۔ سٹوڈنٹس پڑھ رہے ہوں گے۔ حیدر آباد میں جام شورو کے قریب تقریباً چھ public sector universities ہیں۔ تو لاکھوں کی تعداد میں نوجوان آتے ہیں۔ اور پورے سندھ سے آتے ہیں۔ تو
حیدر آباد نوجوانوں کے خوابوں کا جس کو کہا جائے شہر ہے۔ ایک تو romance Sindhi nationalism کا ہے اور پھر حیدر آباد میں after partition جو migration ہوئی۔ وہ تو ہسٹری آپ سب کو پتا ہے۔ بہت بڑی migration ہوئی۔ تو 805 کے دور میں۔ 705 تک حیدر آباد میں کوئی conflict نہیں تھا۔ تھوڑا بہت conflict رہا۔ خاص طور پر میرا تعلق یونیورسٹی آف سندھ سے ہے تو Institute of Sindhology کے میوزیم کو جب 71-1972 میں جب ذوالفقار علی بھٹو نے سندھی زبان کو سندھ کی قومی زبان کا درجہ دیا تو جو language riots ہوئے۔ اس میں حیدر آباد کے اندر Sindhology museum کو آگ لگادی گئی تھی۔ پورے archives جلا دیے گئے تھے۔ Sindhology museum کو shift کرنا پڑا یونیورسٹی آف سندھ میں۔ کیونکہ کراچی تو 1971 تک capital بن گیا تھا اور اس طرح سندھ کا حصہ بھی نہیں تھا۔ تو حید ر آباد . as a cultural capital تو ساری movements یہاں سے چلی ہیں۔ MRD ہوں۔ اور اس کے علاوہ یہ students movements ہوں یا Language movements کی تحریک ہوں۔ تو حیدر آباد اس کا گڑ رہا ہے۔ خاص طور پر MRD کی تحریک کے اندر سب سے زیادہ جو گرفتاریاں پیش ہوئیں، وہ حیدر آباد شہر کے اندر خواتین نے پیش کیں۔ تو حیدر آباد اس کا مرکز رہا ہے۔ اس لیے حیدر آباد کے اندر آپ کو بہت زیادہ cultural ، political اور student activism آپ کو نظر آئے گا۔ سندھ میں جتنی اخباریں نکلتی ہیں وہ ان کے headquarter حیدر آباد ہیں۔ جتنے بھی publishing houses میں وہ سارے کے سارے حیدر آباد based ہیں۔ تو اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حیدر آباد کے ساتھ جو سندھی speaker ہیں۔ ان کا کیا لگاؤ ہے۔ کیا محبت ہے۔ کیا association ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ migration میں جو اردو speaker آئے۔ Post MRD میں جو چھوٹے چھوٹے conflict تھے وہ بڑے ہوئے۔ اور حیدر آباد کا لسانی بنیاد پر جسے ہم کہیں، وہ بٹوارہ ہوا۔ وہ جب ہم 905 میں یونیورسٹیوں میں آئے تو marked areas ہوتے تھے کہ یہ اردو speaker کے ایریا ہیں اور یہ سندھی speaker کے ایریا ہیں۔ اور یہ بہت بڑا tension تھا۔ اور یونیورسٹیوں کے اندر ہم نے یہ conflict بہت کم دیکھا۔ مگر حیدر آباد شہر کے اندر یہ تضاد بہت زیادہ تھا جب 905 میں MQM کی جماعت تشکیل پائی تھی۔ مگر اب میں حیدر آباد میں نظر ڈالوں تو conflict بہت زیادہ dilute ہو گیا ہے۔ جو اسانی conflict تھا۔ شہر میں کیونکہ اب اتنے زیادہ politicize نہ سندھی speaker رہے ہیں اور نہ اردو speaker رہے ہیں۔ اور ایک broad consensus develop ہو گیا ہے۔ دونوں ہم in last 20 years کرنا ہے۔ تو ہمیں بہت زیادہ exist کے اندر کہ ہمیں مل کر communities نے دیکھا ہے کہ جو conflict تھا وہ کم ہوا ہے۔ اور ایک دوسرے کے ساتھ جڑنے والا جو sentiment ہے وہ زیادہ آیا ہے۔
سوال: تو religious حوالے سے ہم اس کو کیسے دیکھیں؟
عرفانہ ملاح: اب religious حوالے سے میں next stage پر آرہی ہوں۔ اب ہوا یہ ہے کہ جب سے MQM کا role کم ہوا ہے تو آہستہ آہستہ وہ stage پہلے JUI کے پاس آیا اور اب وہ سنی تحریک جو TLP ہے۔ وہ ہے تو کم ہے، کیونکہ حیدر آباد زیادہ اہل تشیع کا علاقہ ہے۔ مگر اب اگر میں division بتارہی ہوں۔
جو سندھی ہیں وہ زیادہ تو JUI میں، F-JUI میں۔ جو مہاجر ہیں وہ زیادہ سنی تحریک میں ہیں۔ سندھی آپ کے دیوبندی school کو follow کر رہے اور مہاجر آپ کے بریلوی school کو follow کر رہے ہیں۔ تو اب جو ان کے
سوال: اچھا! یہ interesting ہے۔ کہ سندھ کو کہتے ہیں کہ یہ اولیاء کرام کی سر زمین ہے۔ لیکن یہاں جو traditional followers، جو مدرسہ یا مسجد جو ہے وہ دیوبندی کے پاس رہی ہے۔ مزار بریلوی کے پاس رہا ہے اور مسجد دیوبندی کے پاس یہ کیسے دیکھتے ہیں؟
عرفانہ ملاح: دیکھیں میں اس کو دیکھتی ہوں کہ اس کی وجہ ہے کہ مدرسے کو یہاں خود establish کیا گیا ہے۔ اس کو political purposes کے ساتھ یہاں لایا گیا۔ جس طرح افغان war کے ساتھ پورے کا پورا کلچر آیا جو یہاں مدرسے کا تو اس کو باقاعدہ خود لایا گیا یہاں۔ میرے علاقے میں مساجد کی خرید و فروخت ہم نے خود دیکھی ہے۔ خود مساجد بیچی گئی ہیں۔ خود خریدی گئی۔ تو religion کو politically استعمال میں لایا گیا ہے۔ آپ دیکھیں سندھ کے لوگ بہت زیادہ مذہبی طور پر extremists نہیں ہیں۔ Problem یہ ہے کہ JUI کو بہت زیادہ space دی گئی ہے۔ ایک alternative approach کو بہت زیادہ promote کیا گیا ہے اور اتنے زیادہ مدارس اب بن گئے ہیں JUIF کے۔ آپ یہاں سے نکل کر دائیں جائیں یا بائیں جانب جائیں۔ آپ کو ہر دو کلو میٹر کے فاصلے پر مدارس آپ کو ملیں گے JUIF کے جن میں تقریب دو سو بچے ہوں گے۔ ابھی تک JUIF ہوں یا TLP ہوں۔ یہ ایک ہی پرچم تلے جڑے ہوئے ہیں جو کبھی conflict میں نہیں آتے۔
سوال: یہ آپ نے بتایا کہ سنی تحریک کے ساتھ زیادہ ہیں مہاجر کیوں؟
عرفانہ ملاح: جی JUIF کے ساتھ کم ہیں۔ کیونکہ شاید اس کی leadership پختون کے پاس ہے۔ یا سندھیوں کے پاس ہے۔ خالد محمود اس کے head رہے ہیں۔ اور JUI ہمیشہ national مسائل پر کھڑا رہا ہے۔ جیسے ابھی جو مسئلہ تھا۔ پھر JUI کالا باغ والے مسئلے میں آگے تھا۔ جبکہ TLP ، جماعت اسلامی یا سنی تحریک جماعت اسلامی والوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔ تو ایک یہ واضح division ہے۔
سوال: تو یہ بتائیں کہ conflict میں یہ کیسے contribute کرتے ہیں۔ ان کی وجہ سے کون سے کرتے ہیں؟ conflicts trigger
forced – religious conflicts کرتے ہیں trigger عرفانہ ملاح یہ بس زیادہ conversions ہو جائے۔ آپ کے جو minorities کے اوپر جو attack ہو جائے۔ ایسے معاملات میں ہوا ہے۔ اس میں یہ weaponize جو blasphemy کرتی ہیں۔ جیسے ابھی contribute یہ مل کر نہیں رہتا۔ sectarian divide کرتی ہیں۔ تب کوئی collective contribution
سوال: یہاں ہم کچھ journalists سے ملے۔ ہمیں بہت حیرت ہوئی کہ بہت سے ایسے واقعات انہوں نے بتائے جو کبھی report ہی نہیں ہوئے کہ ایک lynching ہوئی تھی۔ ایک اسماعیلی کا مسئلہ ہوا تھا۔ اس کے علاوہ مارکیٹ میں کیس ایسے ہوتے رہتے۔ اس کا مطلب ہے کہ حیدر آباد میں اس طرح کے مسائل ہوتے رہتے۔ یہ مسئلہ سنجیدہ ہے۔
عرفانہ ملاح : ابھی یہ ہے کہ لوگ نکلتے ہیں۔ حیدر آباد کے اندر تو یہ مسئلہ اتنا نہیں ہے۔ میرے پر خود الزام کیا تھا۔ اور district administration نے ہاتھ اٹھا لیے تھے کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ اپنی جان بچانے کو جہاں نکلنا ہے جو کرنا ہے خود کر لیں۔ باقاعدہ سنی تحریک نے اجلاس بلایا تھا۔ دس پندرہ ہزار لوگ آئے تھے۔ ان کا lynching کا پرو گرام ہی تھا۔ اگر مل جاتے تو lynching کر بھی لیتے اور نہیں ملے تو بس بچ گئے۔ مگر یہ حیدر آباد کے ساتھ ہی یہ کوٹری ہے۔ یہاں ہوئی lynching ۔ اور پندرہ سال پہلے میرے اپنے گاؤں جس کا نام سیتا ہے۔ وہاں ایک معذور شخص کو مارا گیا۔ میر پور خاص میں یہ احمدیوں کی بہت بڑے پیمانے پر prosecution اور lynching ہو رہی ہے۔ سانگھڑ میں ہوا ہے incident ۔ میں آپ کو بتا نہیں سکتی کہ کتنے ایسے کیس ہم نے خود اٹھائے ہیں اور ہم خود ان کی وجہ سے زد میں آئے ہیں۔ تو ہم اس خام خیالی میں نہیں ہیں کہ سندھ immune ہے extremism ہے۔ Extremists کی جڑیں بہت زیادہ مضبوط ہو رہی ہیں سوسائٹی کے اندر اور progressive لوگ minority میں ہیں۔ ہر چھوٹے سے چھوٹے شہر میں یہ مسئلہ ہے۔ باقی بہت اس طرح کے واقعات ہوئے ہیں۔ سندھو کو یاد ہوں گے۔
امر سندھو : بہت سے ایسے واقعات ہیں۔ سانگھڑ میں ایک خاتون کا واقعہ تھا اس کو پھر پولیس نے بچایا۔ پھر ایک واقعہ ہے مروہ، میر پور خاص میں ایک واقعہ ہوا۔ پھر یہ خاتون کا جو واقعہ ہوا وہ سانگھڑ میں پانچ دس ہزار کے قرضے پر تھا۔ اس خاتون پر blasphemy کا الزام لگا دیا۔ مگر پولیس نے اس میں بہت کردار ادا کیا۔ ہمارے کو فون IG ہے۔ وہاں انہوں نے فور اپولیس اور active اس معاملے میں بہت civil society سندھ میں کیا۔ پھر عوامی مرکز پارٹی کے عسکری صاحب تھے۔ اب ان کا انتقال ہو گیا۔ وہ خاتون کو تھانے سے گھر لے گئے۔ تھانے پر attack ہو اگر ہوا مگر وہ خاتون بچ گئیں۔ اور دوسرا یہ ہیں۔ اور دوسرایہ attack ہو امر وہ میں۔ وہاں ایک چھوٹے لڑکے پر کیس بنا۔ اس پر ہم نے mobilization کی بہت۔ ایک جو ہری رام جی ہے۔ ان کو ہم نے کہا کہ اوپر تک بات کرو۔ اوپر تک بات کرنے سے مراد یہ تھی کہ بلاول ہاؤس تک بات کرو۔ پھر وہ لڑکا بچ گیا۔ تیسرا یہ ہوا تھا میر پور خاص میں۔ میر پور خاص میرا اپنا شہر ہے جہاں میں رہتی ہوں۔ میر پور خاص میں یہ ہوا تھا کہ وہاں گھر ہے یہ ہندو لوئر کالم کے۔ تو وہاں سڑک پر کچھ لکھ دیا گیا تھا۔ تو پھر وہ ان کے گھر پر attack کرنا شروع ہوئے۔ ان تمام واقعات میں یہ ہوا کہ لوگوں نے جان لیا۔ اور ایک بڑا واقعہ مجھے یاد ہے حیدر آباد کا، دو تین سال پہلے۔ اتنا ایک positive change کی نظر سے بھی اس کو دیکھ سکتے ہیں۔ میں میر پور سے آرہی تھی تو میری بہن کی مجھے کال آئی کہ شاہ مت جائیے گا۔ میں نے پوچھا کہ کیا ہوا۔ تو وہ کہنے لگی کہ اتنے یہ لوگ نکلے ہوئے ہیں۔ کوئی blasphemy کا کیس ہو گیا ہے۔ میں یہاں آئی تو اتنے بائیک تھے۔ وہ پیٹرول بھروا کے جارہے ہیں یا مار نے جارہے ہیں۔ پولیس کھڑی ہو گئی۔ اس فلیٹس کے اندر اردو speaking فیملی تھی۔ انہوں نے پہلے اس ہند و فیملی کو اپنے گھر پر چھپایا پھر وہ لوگ پیچھے بالکونی سے آنے لگے۔ پولیس وہاں کھڑی ہو گئی۔ اور ہر طریقے سے firing ، shelling سے پولیس نے ان کو روکا۔ یہ کچھ واقعات ہیں جن میں پولیس پارٹی نہیں بنی۔ پھر یہ جو سیتا کا واقعہ ہوا۔ اس میں خود گئی، fact-finding کرنے۔ اور وہ واقعہ سنا تھا وہ اتنا درد ناک تھا۔ وہ پاگل سا بندہ تھا۔ اور مسافر بندہ تھا۔ اور مسافر کا یہ ہوتا ہے کہ کہیں سے بھی آجائے۔ اب وہ پاگل بندہ تھا۔ مسجد میں وہ چلا جاتا ہے۔ اور اس کو سردی کے دن تھے۔ کوئی شاید 30 دسمبر تاریخ تھی۔ تو اس کو اتنا پتا نہیں چلتا۔ وہ قرآن پاک کے اوراق جلا لیتا ہے۔ جب یہ ہمارے مولوی صاحبان پہنچے۔ پھر شور بنا۔
پولیس پہنچی۔ اور اس کو لے کر چلی گئی۔ اب وہ گونگا نا سمجھ تھا اس سے کیا پوچھتے۔ اب دو پہر تک مسجد سے اعلان ہوا کہ ایسے blasphemy کا کیس ہوا ہے اور پولیس اس کو لے کر چلی گئی ہے۔ اب گاؤں والوں نے کیا کیا کہ پولیس پر حملہ کر دیا۔ اب پولیس نے گولیاں چلائیں۔ یہاں تک کہ گولیاں ختم ہو گئیں۔ پھر اسے چھت پر رکھا ہوا تھا۔ وہاں سے اس کو پھینکا۔ پھر اس کو گھسیٹ کر لے گئے۔ پھر اس کو جلا دیا۔ ہم وہاں گئے تو اس کی راکھ راکھ تھی۔ ہم نے جب بات کی جاکر ۔ جب کہا اندر جا کر دیکھتے ہیں۔ گھروں میں۔ اچھا مردوں کا تو کم نے سنا تھا۔ عورتوں کے ساتھ سلوک ان کا پہلی دفعہ دیکھا۔ میرا اندر سے دل کانپ گیا۔ اور یہ کوئی چھ سات سال پرانی بات ہے۔
عرفانہ ملاح : دس سال پرانی بات ہے یہ ۔
امر سندھو : ہاں کیونکہ اس پر میرا ایک article بھی چھپا تھا ۔ DAWN پر تو نہیں مگر ایک آن لائن vlog پر آیا تھا۔ خیر وہ ہم لوگوں سے ملے اور یہ کوئی ان کا موقف تھا کہ اگر زنا کرتا، قتل کرتا یا کوئی اور گناہ ہم چھوڑ دیتے۔ مگر اس نے قرآن کے ساتھ ایسا کیا۔ ہماری عزت کیسے گوارا کرتی۔ اور سب کے سب اس بات پر متفق تھے۔ اور جیسے ہم گئے امر جلیل کے خلاف بھی وہ بولنا شروع ہو گئے۔ امر جلیل نے کوئی بیان دیا تھا کہ سندھ ایسا نہیں کر سکتا۔ سندھ میں ایسا نہیں ہو سکتا۔ تو وہ سارے امر جلیل کے خلاف ہوئے تھے۔ جیسے ہی ہم مسجد میں گئے تو وہ سب لوگ ایسے کھڑے تھے کہ اس کو نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اس کو تو نہیں چھوڑنا چاہیے۔ تو سارے لوگ گھبرا گئے کہ مجھے تو نہیں کہنے لگے ۔ اب ان لوگوں کو بہت غصہ تھا۔ اور ان کو غصہ اس بات کا تھا کہ انہوں نے مار تو دیا تھا۔ ان کو یہ تھا کہ ہم کچھ اب کوئی ہاتھ نہیں لگائے گا۔ تو وہاں پر کچھ لوگ، یہ وڈیرا۔ اب دیکھیں ناں۔ باہر کہ سارے سندھی وڈیروں کے غلام ہیں۔ یہ وڈیرا مولوی کے مقابلے میں progressive ہوتا ہے۔ اس نے کیا کیا کہ سب کا۔ اپنا گاؤں ، اپنے voter ۔ بڑا مشکل ہوتا ہے۔ پیپلز پارٹی کا دور ہے۔ اپنے voter ، اپنے گاؤں والوں پر دہشت گردی کا پرچہ کاٹا۔ نہ صرف یہ بلکہ جیسے لوگ چھپ جاتے ہیں۔ Rangers نے گھروں پر چھاپے مارے۔ اور وہ مجھے پتار ہے کہ اس طرح جو ہمارے ساتھ ان لوگوں نے کیا۔ اس طرح کا تو ہمارے ساتھ MRD میں فوج نے بھی سلوک نہیں کیا۔ ہم خوش ہو گئے کہ چلو اب اس جگہ پر دوبارہ ایسا واقعہ نہیں ہو گا۔ ان کو اچھا خاصا سبق سکھایا۔ تو میں یہاں پر کہہ رہی ہوں واقعات کیا۔ role play نے Civil society کیا۔ role play بہت ہوئے مگر اس پر پولیس نے بہت اچھا
سوال: یہی میں چاہ رہا ہوں کہ آپ لوگوں سے مزید اس پر پوچھوں کہ یہ جو resistance آتی ہے ایسے واقعات کے خلاف جو organized mut peace makers ہیں یا نہیں ہیں ؟
عرفانہ ملاح : اصل میں پتا نہیں اب یہ اپنے منہ میاں مٹھو بننا۔ مگر پچھلے سالوں میں جتنے blasphemy کے کیس ہوئے ہیں۔ تو سب سے پہلے Women Action Forum Hyderabad ہی آتا ہے۔ ہمیں کے HRCP ۔ حیدر آباد میں HRCP کو کرتے ہیں most of the time کرتے ہیں approach لوگ بھی ہمارے ساتھ ہی کام کرتے ہیں۔ وہ بھی ہمیں involve کرتے ہیں۔ امر جلیل کا واقعہ ہوا تھا۔ ان مسائل میں جو lead کرتی ہے۔ وہ حیدر آباد کی civil society ہوتی ہے۔ Front پر عور تیں ہوتی ہیں۔ ہمارے ساتھ جو یہاں کے intelligentsia ہے یا جو left کے پرانے لوگ ہیں۔ جو جیلوں میں گئے۔ تحریکوں میں رہے۔ وہ پیچھے کھڑے ہوتے ہیں۔ Political parties جو ہیں۔ وہ بھی پیچھے کھڑی ہوتی ہیں۔ change ، peace makers آئے ہیں۔ تو سامنے جو آپ کو incidents پر جب بھی ایسے front لیکن makers نظر آئے۔ جب بھی خطرے کی گھنٹی بھی ہے تو سامنے جو کھڑی ہوتی ہیں وہ عور تیں ہی ہیں۔ سیتا کا incident ہوا ہم گئے۔ گھوٹکی پر ایک مندر پر attack ہو ا ہم گئے۔ ہم نے کال دی۔ ہم بس arrange کرتے ہیں۔ ہم کال دیتے ہیں اور لوگوں کو بلاتے ہیں۔ کہ چلنا چاہیے ، چلنا چاہیے۔ ایک ہمارا گروپ ہے۔ میں پچھیں لوگوں کا۔ جس میں ہمارے اچھے دوست ہیں۔ ہمیں پتا ہوتا ہے کہ یہ ہمارے ساتھ چلیں گے کچھ journalists ،ہیں۔ جیسے جامی چانڈیو صاحب ہیں ، امداد چانڈیو ہیں، کچھ پر وفیسر ہیں activists writers ہیں۔ جیسے اقبال ملاح ہیں، لالا رحمان سمو ہیں۔ کچھ ایسے نام ہیں جن کے ساتھ میں پچیس کے ساتھ ہم مشورے کر لیتے ہیں۔ کہ ہم کال دے رہے ہیں۔ کہ consultations کر لیتے ہیں۔ جیسے میرا ہوا۔ issue کا blasphemy
امر سندھو وہ بڑا famous ہوا تھا۔
عرفانہ ملاح: کیونکہ کال ہم دیتے ہیں۔ گھر ہمارے ہوتے ہیں۔ ہر چیز ہماری ہوتی ہے۔ تو جب میرا Not a single ملی۔ اور کوئی تیار نہیں تھا کہ اپنا گھر دے۔ civil society ہوا۔ ساریincident person was ready۔ پریس کا نفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ وکلاء نے جواب دے دیا کہ ہم اپنا آفس نہیں استعمال کرنے دیں گے۔ اس وقت ہمیں احساس ہوا کہ ہم تو آگ سے کھیلتے ہیں۔ ہم تو ہر جگہ پر کھڑے ہیں۔ اپنا گھر، اپنا cafe ، اپنے آفس دیتے ہیں۔ جب قلندر پر suicide attack ہوا تو Teachers Club ہے ایک۔ یونیورسٹی میں۔ اس وقت میں اس کی صدر تھی۔ میں نے اپنا کلب لیا۔ اور ساری سندھ کی civil society کو invite کیا۔ کہ دھمال ڈالنے جارہے ہیں۔ اور وہاں سے ہی ہم بس لے کر گئے۔ اور آپ سمجھ ہواتو incident ہوتا ہے۔ اور جب میرا pressure پر یونیورسٹی کا کتنا Teachers Club سکتے ہیں کہ کسی کے پاس space نہیں تھی کہ مل کے بیٹھ سکے۔ کوئی statement نکالے۔ کوئی مزاحمتی بیان دے۔ تو اس کے بعد ہمیں یہ لگا کہ یہ جو گروپ ہے حیدر آباد میں تو اس کو lead عور تیں کرتی ہیں۔ Stand عور تیں لیتی ہیں۔ آپ کے minorities کے against forced conversions ہوں۔ میاں مٹھو کا ہوں۔ رینکل کماری کا ہوں، بس یہاں سے نکلتی ہے۔ اب lawyers movement میں lawyers بیٹھے تھے۔ سب سے پہلی بس ہماری گئی۔
امر سندھو : یہاں سے سب سے پہلے intellectuals کی بس ، ہم گئے۔ ہم دو دفعہ گئے۔
عرفانہ ملاح : پہلی دفعہ ہم گئے۔ پھر وہ بیٹھے ہوئے تھے بہت کم لوگ بیٹھے ہوئے تھے تو ان پر جب attack ہوا۔ پھر ہم نے کال دی کہ
امر سندھو : پھر ہم نے دوسری بار کال دی کہ ہم دوبارہ جا رہے ہیں۔
عرفانہ ملاح: پھر دوسرے دن ہر شہر سے بس نکلی۔ تو lead ہمیشہ حیدر آباد کرتا ہے۔
سوال: اور پھر حیدر آباد میں خواتین
عرفانه ملاح: بالکل خواتین کرتی ہیں۔ ابھی آپ سال کا اخبار اٹھا کر دیکھ لیں۔ خود آپ دیکھ لیں گے۔
امر سندھو : اس بار جو پہلی دفعہ ابھی جو ہوا ہے۔ اس بار پہلا message جو تھا وہ جامی چانڈیو نے کیا۔
عرفانہ ملاح : اس بار پہلا initiative چانڈیو نے لیا۔ پھر جامی نے کہا کہ ان سے رابطہ کریں۔ یہ بس وغیرہ کرتی ہیں۔ arrange
پروفیسر ذکیہ : خواتین سماری امر سندھو کی وجہ سے آجاتی ہیں۔
سوال: اس کے ساتھ ایک بڑا سوال ہے۔ کہ آپ نے بتایا کہ یہ social cohesion کا جو کام ہے اس
میں عورتیں زیادہ آگے آتی ہیں۔ اس میں challenges کیا ہیں؟
عرفانہ ملاح: دیکھیں challenge تو آپ دیکھ رہے ہیں کہ جو آپ کے side پر human right activist ہیں وہ بہت vulnerable ہیں اور ہو بھی گئے ہیں۔
پروفیسر ذکیہ : ایک اس میں تھوڑی چیز ایڈ کرنا چاہوں گی۔ کہ پہلا جو challenge ہے وہ گھر سے ہے۔ جو بھی کوئی واقعہ ایسا ہوتا ہے سندھ میں تو فون آجاتا ہے گھر سے۔ ہمارے جو بھائی ہیں وہ army officers ہیں۔ اور وہ typical army officers ہیں، اور دو ایسے جیسے حافظ کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ تو ہمارے اوپر اتنا pressure ہوتا ہے۔ پہلا ہی کال آتا ہے کہ عرفانہ کدھر ہے۔ تو وہ میٹنگ۔ بس پہلے ہی پتا تھا اب یہ lead کرے گی۔ مطلب سب سے پہلے یہ pressure –
عرفانہ ملاح: ظاہر سی بات ہے جب ایسا مسئلہ آتا ہے تو ایک پریشانی ہوتی ہے گھر والوں کو۔ جو میرا blasphemy کا جب مسئلہ بنا تو جس ایریا میں حیدر آباد کے ہم رہتے تھے۔ اس کالونی میں چار ہمارے گھر تھے بہنوں کے۔ پچیس سال سے ہم وہاں رہتے تھے۔ سارے کے سارے چھتیں لوگ displace ہوئے -because of me
امر سندھو : اور وہ جگہ لی بھی انہوں نے جنہوں نے الزام لگایا۔
عرفانہ ملاح: وہ گھر ہم نے sell کر کے چھوڑ کے جانے پڑے۔ مجھے اپنی گاڑی sell کرنی پڑی۔ مجھے آیا کہ اگر آپ at a moment ہو جائے گا۔ تو suicide attack میں ہے۔ آپ پر radar آپ کی گاڑی کی فیملی کے چھتیس ممبرز displace ہو چاہیں۔ تو ظاہری بات ہے وہ چاہیں گے کہ میرے activism کے consequence وہ فیس کریں۔ اور یہی مسئلہ ان سب خواتین کا ہے جو ہمارے ساتھ کھڑی ہیں۔ salaried Middle class کلاس سے ہیں۔ اپنے بچے بھی پالتی ہیں۔ Activism بھی کرتی ہیں۔ تو آپ کو سب سے بڑا challenge جو عورتوں کو آتا ہے۔ وہ فیملی ہے۔ فیملی کے بعد
پروفیسر ذکیہ : آپ کی اتنی زیادہ character assassination اور Defamation ہوتی ہے۔
امر سندھو : ابھی میرے پر اور عرفانہ پر FIA کا کیس لگا ہوا ہے۔
عرفانہ ملاح: چودہ میرے اوپر کیسز بنے ہوئے ہیں۔ 502 کے دفعات بھی میرے اوپر لگے ہیں۔ دہشت گردی ہے۔ میرے اوپر یہ بھی کیس لگا کہ میں نے کسی کو دھمکی دی ہے۔ قتل کرنے کی۔ جسٹس منیب اختر کے سامنے میں پیش ہوئی اور انہوں نے SSP کو کہا۔ شرم آنی چاہیے تمہیں یہ دہشت گرد لگتی ہیں۔ پروفیسر ہیں۔ تو چودہ FIR میں نے face کی ہیں۔ ایک دفعہ میرے اور امر کے اوپر قاتلانہ حملہ ہوا۔ گولی لگی امر کو۔ اور یہ survive کر گئی۔ امر سندھو: وہ تھوڑی سی لگی تھی۔
عرفانہ ملاح: وہ تھوڑی تھی مگر ہماری FIR نہیں لے رہے تھے۔ ہمارے اوپر قاتلانہ حملہ ہوا مگر ہماری FIR نہیں کاٹ رہے تھے۔ پھر بڑی مشکل سے medical legal ہوئے تو ہماری FIR کائی۔ لیکن اس کے بعد کچھ نہیں ہوا۔ بہت سے . مقدمات کو face کیا ہے۔ ابھی بھی جو امر سندھو کی اتنی character ہوتی ہے۔ assassination
امر سندھو : اور وہ اس لیے کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ جو خواتین جڑتی ہیں۔ ان کا ٹارگٹ کرنے کا مقصد یہ ہوتا کہ وہ لوگ چاہتے ہیں خاص طور پر خواتین ہمارے ساتھ نہ جڑیں۔
عرفانہ ملاح: ہم دونوں کی services terminate ہوئی۔ ہمیں جاب سے نکال دیا گیا۔ تو means جو ہیں۔ آپ کے life threats ہیں۔ اس میں اپنی Challenges ہو سکتے ہیں۔ consequences بھی ہیں۔ challenges سے بہت زیادہ religious forces ،فیملی سے
امر سندھو : ایجنسیوں سے۔
عرفانہ ملاح : وہ تو پورے پاکستان میں ہے۔ وہ تو اب ایک common factor ہو گیا ہے ناں۔ کہ یہ نہیں کہ سکتے۔ وہ نہیں کر سکتے۔ اب یہ جو religious forces ہیں مثال کے طور پر ہم پورے پاکستان میں جو فیسٹیول کرتے ہیں۔ تو اس پر attack ہوئے۔ ہمارے اسٹال جلا دیے گئے۔ یہ multiple challenges ہیں جو ہم face کرتے ہیں۔ اور کیا بتائیں۔ بہت سے لوگ اب ہمارے ساتھ کھڑا ہونا بھی پسند نہیں کرتے۔ بہت سے لوگ ہمیں support کرتے ہیں۔ Ifs اور buts کے ساتھ۔ کوئی ہمارے consequences کو share نہیں کرنا چاہتا۔ اور ہمارا جو گروپ ہے وہ shrink ہوتا جارہا ہے۔ ہم جو پہلے بیٹھتے تھے تو کوئی تین سو خواتین ہمارے ساتھ ہوتی تھیں۔ اب پچھلے ہیں سال سے اتنا۔ کبھی ہمارے خلاف …کیس ہو جاتا ہے۔ کبھی ہمار ابیٹا نکل آتا ہے۔ کبھی شوہر تو
سندھو : پہلی دفعہ یہ ہوا کہ ہر سال ہم ایاز میلو کرتے ہیں۔ یہ بڑا : امر : اور لوگ اور Cultural ہوتا ہے۔ event آتے ہیں پورے ملک سے۔ اور writer آتے ہیں۔ اور وہ دسمبر میں ہم کرتے ہیں۔ اب ہم یہ کرتے ہیں۔ دسمبر آنے سے دو مہینے پہلے اور ایک مہینہ بعد ۔ اب اسے ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری بڑی movement چلتی ہے۔ Social media پر ہر طرف ہمارے پوسٹر ہوتے ہیں۔ یہ ہوا کہ یہ پیچھے کون ہوتا ہے جو کرتا ہے ؟
کوئی پارٹی۔ یا کون؟ religious ہوتے ہیں یا state actors مطلب
عرفانہ ملاح: میں آپ کو بتاتی ہوں۔ یہ سب اپنے آپ کو الگ نہیں سمجھتے state ہے۔ ایک دفعہ میں DIG آفس گئی تو جو بندہ، جس نے مجھ پر blasphemy کا الزام لگایا تھا وہ مجھے وہاں ملا۔ اور کہنے لگا کہ ڈاکٹر صاحبہ آپ ابھی بھی یہاں ہیں۔ میں نے کہا کہ جی یہاں پر اور زندہ بھی۔ تو وہ وہاں DIG کے آفس میں مجھے threat کرنے لگا۔
امر سندھو : اور دوسرا یہ کہ مجھ پر جو لگا کہ ہم دونوں تھے اور ہم چلے گئے تھر ۔ وہاں ایک مندر تھا۔ ہم ایسے ہی چلے گئے۔ جنوری کے دن تھے۔ انہیں کال آرہی تھی اور انہوں نے ignore کردی۔ Unknown نمبر تھا۔ وہاں ہمیں انہوں نے پہچان لیا۔ پوچھنے لگے کہ آپ فلاں ہیں، فلاں۔ ہمیں کسی کا فون آیا ہے۔ ایک journalist کا۔ وہ کہہ رہا ہے کہ ایک ویڈیو چل رہی ہے۔ ایک لڑکا ہے کوئی ستر و سال کا۔ چہرہ پر نقاب ہے۔ اور وہ کہہ رہا ہے کہ میں اپر سندھ کا بیٹا ہوں اور یہ کیسی ماں ہے مجھے own نہیں کر رہی۔ مجھے ایسے ہی پھینک دیا ہے۔ اب اس نے وہ جنسی میں بات ٹال دی۔ اب ظاہر وہ ایسا کیسا۔ مگر میں نے اس وقت یہ notice لیا۔ کہ ہر media outlet سے مجھے کال آنے لگی۔ آپ سمجھتے ہیں کہ spontaneous ہر جگہ سے کال آئے تو وہ ٹھیک نہیں ہوتی۔ یہ کہا جاتا ہے، بولا جاتا ہے، pressure ڈالا جاتا۔ اب سب کہیں تردید کرو۔ میں نے کہا اب کوئی بھی ایسے اٹھا کر الزام لگا دے تو کیا کریں۔ جن کو پتا ہے بس ٹھیک ہے۔ باقی اب میں کیا وضاحت دیتی جاؤں۔ پھر انہوں نے مجھے ایک بات بتائی۔ جو سب خواتین تھیں۔ Women Action Forum کی۔ انہوں نے کہا کہ آپ report کریں FIA میں۔ میں نے کہا میں کیوں کروں۔
تو مجھے یہ عرفانہ نے سمجھایا۔ کہ تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تمہاری فیملی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کل اٹھا کوئی ہمارے ساتھ جو عورتیں جڑی ہوتی ہیں۔ جو شادی شدہ ہیں۔ اگر کل کو ان کا کوئی شوہر نکل آیا۔ ان کا ایسے کوئی بچہ نکل آیا۔ تو ان کی زندگی تو خطرے میں پڑ جائے گی۔ تو چلو جی ہم تیار ہو گئے کہ چلو جی FIA میں جاکر اس کو ہم 1 report کریں۔ جنوری کو یہ ہوا ۔ 2 جنوری کو ہم نے report کیا۔ اور evidence کے ساتھ۔ یہ فلاں بندہ آیا۔ اس نے فلاں بندے کو بھیجا۔ جو journalists ہمارے جاننے والے تھے۔ ان سے ہم نے پوچھا کہ آپ کو کس نے message بھیجا۔ دو تین بندوں کے انہوں نے نام دیے۔ میں نے تو کوئی نام نہیں آگے دیے۔ بس FIR کی۔ اس کا تو کوئی پتا نہیں چلا۔ الٹے سے یہ ہوا کہ جن بندوں کو nominate کیا۔ ہم نے نام نہیں دیے تھے۔ اندازہ میں بس کہا کہ فلاں فلاں ہو سکتا۔ جو defamation کر رہے۔ اوپر سے ہمیں کال آئی کہ آپ hearing پر نہیں آئے۔ اب اگر ہمارے پر FIR ہوتی ہو ہم پر کر سکتے تھے۔ مگر جب ہم نے ایک ڈالی ہوئی ہے اس کا کوئی آتا پتا نہیں۔ اس پر ہمیں defamation کے کیس ڈال رہے۔ اب یہ بات ہم media پر دے سکتے تھے ہم نے دی نہیں۔ کہ عرفانہ اس طرح سے victimize ہو رہی ہے۔ امر سندھو یہ ہے۔ تو پھر میں اس قابل کیسے ہوں گی کہ ذکیہ کو بولوں کہ تمہارے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے تم جاکر FIR کرواؤ۔ وہ تو یہ بولیں گے کہ ہم خواتین کو جو blackmail ہوتی ہیں کہتے ہیں اور خود blackmail ہو رہے ہیں۔ اس پر بھی ہم پھنتے ہیں۔ ہمارا activism ۔ اتنی ایسی چیزیں ہوتی ہیں ہم چھپاتے ہیں۔ کہ کون کھڑا ہو گا پھر ۔
عرفانہ ملاح: ہم بات کرتے ہیں minorities کی تو religious forces آتی ہیں۔ ہم بات کرتے ہیں forced conversions کی تو state institutions کہتے ہیں اس سے ہماراملک بد نام ہوتا ہے۔ آپ یہ بات نہ کریں۔ ان کو سمجھا لیتے ہیں کہ آپ روکیں۔ آپ left parties کے ساتھ ان کو propagate آپ nationalist کے لیے آواز نہ اٹھائیں۔ پھر یہ speaker کو۔ یار دو Red agenda نہیں کرتے۔ کو target کرتے ہیں۔ اور وہ بھی آپ کے خلاف بولتے ہیں۔ کیونکہ nationalist ہمارے بہت خلاف ہوتے ہیں۔ ہم politics of division کی بات نہیں کرتے۔ ہم سندھ کے rights کے لیے کھڑے ہیں۔ مگر اس کی حد ہے۔ جیسے آج نعرے لگارہے تھے پنجاب کے خلاف۔ تو میں وہاں گئی۔ میں نے کہا۔ دیکھو پنجاب کی عوام کے ساتھ تو ہمارا کوئی issue نہیں ہے۔ ہمارا مسئلہ سیاست دانوں سے ، وفاق سے۔ تو پھر وہ ہمارے خلاف ہو جاتے ہیں۔ Society میں اتنی division ہے کہ ہر گروپ اپنی بات کرتا ہے۔ اور ہم ہر کسی کی بات کرتے ہیں۔ میرا ایک دوسرا تعارف بھی ہے۔ میں یونیورسٹی آف سندھ میں پروفیسر ہوں۔ اور میرا وہاں بھی ایک activism رہا ہے۔ میں وہاں چار دفعہ ممبر رہی ہوں elected syndicate کی اور دس مرتبه Teachers Association کی صدر رہی ہوں۔ تو یونیورسٹی بھی ایک گڑ ہے۔ وہاں ایک پورا نظام ہے۔ اور سندھ کی یہ یونیورسٹی واحد ہو گی میرے خیال سے۔ جہاں ایک عورت جیت کے آتی ہے۔ وہاں بہت سے مسائل ہوتے ہیں۔ اب سٹوڈنٹس کے اوپر دہشت گردی کی FIR ہو جائے تو میں کھڑی ہو جاتی ہوں۔ ٹیچرز کے اوپر ہو جائے تو میں کھڑی ہوتی ہوں۔ Super highway میں نے بلاک کر دیا تھا۔ میرے اپنے اوپر بہت کیسی ہوئے۔ بہت لوگوں کو یہ مسئلہ ہے۔ ہر بار ایک نیا challenge سامنے آتا ہے۔ مگر حیدر آباد کے اندر بات اچھی یہ ہے کہ میں لوگ تو ایسے مل جاتے ہیں جو آپ کے ساتھ کھڑے ہوں۔ مزاحمت کریں۔ اب blasphemy میں بھی لوگ میرے ساتھ کھڑے تھے۔ Disconnect نہیں ہوئے تھے۔ عورتیں جو ہمارے forum کی خصوصی طور پر وہ تو یہ ایک positive چیز ہے جو آپ کو strength دیتی ہے۔
پروفیسر ذکیہ : مگر گروپ وہی کے وہی ہیں لوگ ہیں۔ اکیس نہیں ہو رہے۔
سوال: اس کی کیا وجہ ہے۔ لوگ multiply کیوں نہیں ہو رہے؟
عرفانہ ملاح: میں نے آپ کو یہ سارے challenge بتائے ہیں۔ پہلے تھے۔ بہت سے youngsters ہمارے ساتھ تھے۔ بہت سے لوگ۔ مگر جب سے یہ میرا blasphemy والا مسئلہ ہوا۔ اور ہم نے یہ blasphemy کے کیس اٹھائے۔ اور میں ایک example بن گئی۔ لوگوں میں ایک fear ہو گیا۔ ابھی تو پیپلز پارٹی بھی میرے اوپر ۔ مراد علی شاہ کو غصہ آیا ہوا ہے۔
امر سندھو : بہت غصہ آیا ہوا ہے۔ یہ جو act آیا تھا کہ کوئی بھی retired bureaucrat ہو وہ VC بن سکتا ہے۔ اس پر انہوں نے موقف اٹھایا۔ Criticism آیا۔ تو دو دفعہ انہوں نے بھیجا کہ بی بی یہ آپ کروارہی ہیں۔
عرفانہ ملاح: ہم protest کر رہے تھے۔ ہم ایک true sense میں سوسائٹی میں ایک opinion رکھتے ہیں۔ ہم کوئی بات کرتے ہیں تو لوگ اس بات کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ اس کو subscribe بھی کرتے ہیں۔ تو ایک influence ہوتا ہے۔ Opinion making میں ہوتا ہے۔ اس لیے target بھی ہوتے ہیں۔ اگر حامد میر کوئی بات کر دے تو شاید سندھ میں اتنا influence نہ آئے۔ کیونکہ لوکل مسائل کو لوکل approach چاہیے ہوتی۔ اور سندھ کی سوسائٹی کو اتنا influence سندھ کے سیاست دان نہیں کرتے جتنا narrative یہ لوگ بناتے ہیں۔ یہ Narrative کرتے ہیں۔ writers ،کرتے ہیں journalists یا جو ہم کہتے activists ، intellectual بناتا ہے Narrative نہیں بناتا۔ politician ہمارے ہاں کا
civil society
ہے۔ establishment government political جو بھی ہے narrative امر سندھو اب اچھا یا جو یہاں کی چھوٹی سی national پارٹی
ہے ، عوامی نیشنل پارٹی ہے۔ Narrative کوئی pro یا for نہیں ہوتا۔ تو کبھی پیپلز پارٹی ہمارے خلاف کھڑی ہوئی ہوتی ہے۔ کبھی national پارٹی۔
civil کر رہی تھی زرداری کو۔ تو وہ ساری criticize پچھلے دنوں civil society عرفانہ ملاح: اچھا society کے خلاف تھے۔ Civil society میں صرف عور تیں کم نہیں ہوئی ہیں۔ مرد بھی کم ہوئے ہیں۔
سوال: یہ تو مایوسی کی بات ہے۔ آخر میں کوئی امید کی بات بتائیں جو ہم سندھ سے لے کر جائیں۔
عرفانہ ملاح : دیکھیں ! میں سمجھتی ہوں کہ یہ مایوسی کی بات نہیں ہے۔ سندھ کے اندر اتنی hope ہے، اتنی vigilance ہے، اتنی resistance ہے۔ کی یہ سب باتیں ہم نے normalize ہی کر دی ہیں۔ ہم ان کو challenge ہی نہیں سمجھتے۔ آپ نے پوچھا ہم نے بتا دیا۔ کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ جب آپ کوئی movement، کوئی تحریک چلائیں گے ۔ تو اب کوئی consequences face بھی کریں گے۔ جو لوگ part and parcel کیا ہیں۔ کیونکہ یہ future challenges جہاں ہر کھڑے ہیں۔ ان کو پتا ہے کہ ہیں اور ان کو کیسے navigate کرنا ہے۔ وہ اپنے stance پر کھڑے ہیں۔ ہم کھڑے ہیں اپنے human ہے۔ darity نہیں ہیں۔ ان پر compromises کے لیے۔ ان پر کوئی women rights rights سندھ جب کھڑا ہوتا ہے تو اپنا حق منوا کے رہتا ہے۔ زرداری صاحب سندھ کے اندر dual municipal system لے کے آئے تھے۔ اس پر ہم کھڑے ہوئے۔ وہ بل اسمبلی سے reverse ہوا۔ تو یہ کہ ہمیں ایک hope ہوتی ہے۔ لوگوں پر ۔ کہ وہ کھڑے ہوں گے۔
سوال: اور جو یہ forced conversions والا بل تھا اس کا کیا اثر ہوا ؟
عرفانہ ملاح : اس میں اتنی کمی آئی ہے۔ آپ statistic اٹھا کر دیکھ لیں۔ اب وہ کیس جو ہزاروں کی تعداد میں تھے۔ ان میں بڑی کمی آئی ہے۔ State آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔ اب پولیس آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔ بہت ہے جہاں connectivity میں ایک تو civil society یہ ہے کہ positive ختم نہیں ہے۔ اور بھی ہو ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ اور پر امن ہے۔ عدم تشدد، ہم یہ bellieve نہیں کرتے کہ بندوں کو اٹھائیں۔ اس کو کہیں بھی support نہیں ملتی۔ جیسے بلوچستان کا scenario ہے۔ کے پی کے کا ہے۔ تو سندھ میں آپ کو یہ نظر نہیں آئے گا۔
امر سندھو : even اب آپ کو یہ بھی بتادوں کہ الطاف حسین بھی model تھا۔ خان صاحب اب ہمارے model ہیں۔ پاکستان کے popular جو ہیں۔ اس طرح کسی زمانے میں الطاف حسین model تھا۔ کچھ ہمارے جو لوگ adventurist تھے ان کو یہ تھا۔ جب بات کرتے تھے تو کہتے تھے۔ ایسا بنا چاہیے۔ ایسا بالکل ایسا بندہ چاہیے۔ ایسی بن بھی گئے۔ قادر مگسی صاحب جو تھے۔ پارٹی تو اس کی آپ دیکھ لیں۔ دکان جو کھولے گا۔ اس کی چلے گی۔ بند تو کسی کی نہیں ہو رہی۔ دکان سب کی چلے گی۔ بات یہ ہے کہ اس کو اس وقت بھی criticise کیا جارہا تھا۔ آج بھی۔ کچھ لوگ ہوں گے، مجھے بالکل یاد ہے اس نے یہ جو حیدر آباد والا کیا تھا۔ اس وقت بھی سندھ کے اندر سے criticism تھے۔ اتنا ہمیں criticism کہیں نظر نہیں آیا۔ MQM پر بھی نہیں۔
عرفانہ ملاح Even : بلوچ بھی نہیں۔ ہم لوگ کالج سٹوڈنٹ تھے اس ٹائم جب اتنے لوگ مارے گئے۔ مہاجر مارے گئے۔ ہم لوگ اٹھ کے کھڑے ہوئے کہ عام مہاجر کو کیوں مار رہے ہو۔ اس کا کیا قصور ہے۔ اس کے بعد کبھی ایسا ہوا۔
امر سندھو : ابھی بھی یہ ایسا ہے کہ ہمیں پتا چلا تھا یہ یونیورسٹی ہے پاس میں کچھ اس وقت کوئی ذوالفقار مرزاوالی
امر سندھو : ابھی بھی یہ ایسا ہے کہ ہمیں پتا چلا تھا یہ یونیورسٹی ہے پاس میں کچھ اس وقت کوئی ذوالفقار مرزا والی چیز چل رہی تھی۔ کچھ اس طرح کی کوئی چیز چل رہی تھی۔ کسی نے کہہ دیا کہ مہاجر لڑکے لڑکیاں نہ آئیں ورنہ وہ خود ذمہ دار ہوں گے۔ یونیورسٹی میں۔ اب ہمارا کیا جاتا تھا۔ مگر ہم نے پوچھ گچھ کی کہ کس پارٹی نے کہا ہے۔ پتا چلا کہ قادر مگسی کے student wing نے کہا ہے ۔ ہم نے اسی وقت ان کو کام کیا۔ کہ اگر کسی مہاجر لڑکے یا لڑکی کو تھپڑ بھی لگتا ہے۔ آپ believe کریں کچھ بھی نہیں ہوا۔ مطلب یہ کہ بندہ کوئی اتنا easy بھی نہیں ہے۔ مگر یہ کہ آپ کو لینا پڑتا ہے۔ مطلب یہ کہ اس وقت resistance سامنے آتی ہے۔ سندھ ہے۔ tradition میں یہ
پروفیسر ذکیہ : میں اگر آپ کو دو لوگ ملیں گے جو extremist ہوں گے۔ تو چار لوگ ایسے ملیں گے جو liberate کر رہے ہوں گے اس وقت ہم
بیٹھتے ہیں۔ میں بھی کالج میں پروفیسر ہوں اور دو سو تین سو پروفیسرز کے ساتھ میں بیٹھتی ہوں۔ اور پانچ ، چھ ہزار لڑکیاں ہیں۔ Adult ages ۔
ان کے ساتھ interactionہوتا ہے۔ تو بہت چھوٹے پیمانے پر میں دیکھتی ہوں۔ اگر دس ایسی extremist سوچ رکھتی ہوں۔ تو سو آپ کو جوان سارے ideas کو negate کرتی ہیں کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ چند لوگ ہیں سندھ میں جو کافی extreme سطح پر چلے جاتے ہیں۔ لیکن ابھی بھی سندھ میں کہیں بھی extreme نہیں کرتا۔ narrative dominate
امر سندھو : اچھا یہ تھوڑا سا میں آپ کو پتا دوں ذکیہ کا۔ پروفیسر ذکیہ بھی عرفانہ کی طرح جو ہماری کالج میں active role کرتی ہے۔ عرفانہ بھی active role play ہے اس میں Teachers Association play کرتی ہے۔ تو ہم جہاں جہاں بھی ہیں اور جہاں جہاں بھی کر سکتے ہیں۔ Role play کرتے ہیں۔
پروفیسر ذکیہ : ہمارا کافی interaction ہوتا ہے لاڑکانہ، گھوٹکی، کراچی۔ تو پورے سندھ کا feedback ملتا ہے۔ کہ کیا ہیں یہ لوگ۔ Liberal ہیں، extremistہیں، nationalist ہیں۔ تو وہاں سے یہ مجھے feel ہوتا ہے۔ کہ سندھ کے لوگ ابھی بھی اس طرح کے extremist نہیں ہیں۔ جس طرح کے پنجاب میں یا کے پی۔
عرفانہ ملاح: یہاں کے مولوی بھی even – شغل چلتا ہے۔ تو ا بھی even – شغل چلتا ہے۔ تو ابھی جلسہ ہو رہا تھا۔ ناچ واچ رہے تھے۔ تو political ایک وہ ہے کہ ان کو مخصوص طرح کا دکھنا چاہیے۔ ایک fault line ابھی بن رہی ہے۔ ہم اسے دیکھ رہے ہیں۔ اگر اسے روکا نہ گیا۔ کیونکہ ہم تو ابھی culture activism ، اپنے دیکھا ہو گا سندھ میں بہت dance Musicہوتے ہیں۔ cultural Not like literature ہوتے ہیں۔ festivals زیادہ عور تیں اور مرد ایک ساتھ۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ آتے ہیں۔ جو ہمارے ایاز میلو جو ہم کرتے ہیں۔ جو پانچ دن چلتا ہے۔ اس میں لاکھوں کے قریب لوگ آتے ہیں۔
امر سندھو : صرف سندھ سے نہیں اس میں پورے پاکستان سے لوگ آتے ہیں۔ سب آتے ہیں۔ یہ اس لیے ہے کہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ۔ بات یہ ہے کہ سندھ کا بہت rich culture ہے۔ بھٹائی کی، پچل سرمت کی۔ تو اگر ہم گائیں، ان کو promote کریں۔ تو somehow ہم extremism کو resist کر سکتے ہیں۔ جیسے کہتے ہیں: چلو چلو سچل کی طرف تمہارے مولوی اور میرا بس ایک کچل۔ تو اتنی powerful مولوی کو للکار نے والی شاعری ہے۔ جس طرح ایرانی سرکس لگتے تھے ناں، اسی طرح یہ عوامی میلے ہیں۔ یہ سندھ میں آپ کو بتاؤں کہ سندھ میں کیوں ہو رہا ہے باقی جگہوں پر کیوں نہیں ہو سکا۔ زبان۔ سندھی زبان۔ باقی جگہوں پر زبان اس طرح سندھ میں بھی اب جو urbanized ہو رہے ہیں وہ اپنی زبان سے دوری اختیار کر رہے ہیں۔ لیکن اس زبان سے جو جوڑا ہوا ہے۔ مثال کے طور پر میں اب پروفیسر ہوں۔ میں بات کر رہی ہوں اپنے lower strata سے بات کریں۔ تو زبان کی وجہ سے ان کو بہت سی چیزیں ہیں، ان کو alienation نہیں feel ہوتی۔ پنجاب کے اندر یہ ہے کہ class تو ہے مگر class کی اپنی زبان ہے۔ یہ آپ کے پی میں جائیں گے۔ Activist تو بہت ہم سے ؟ سے بھی زیادہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ مگر activist یہ لوگوں کے ساتھ جڑتا یہ نہیں کہ ان کے اندر جذبہ نہیں ہے۔ ان کا یہ جو ایک communication کا ایک medium ہے۔ ہمارے پاس یہ زبان medium ہے، دوسرا medium یہ culture ہمارے پاس medium ہے۔ ٹھیک ہے۔ تیسرا یہ جے آپ یہ literature ، fine arts اور arts ۔ تینوں جب چیزیں ملتی ہیں۔ تو یہاں کا جو بھی intellectual ہے، activist ہے۔ صرف ہم نہیں۔ وہ ان تینوں چیزوں سے جڑا ہوا ہے۔ وہ لوگوں کے ساتھ جڑا ہوا ہو گا۔ وہ زبان سے، art میں جڑا ہو گا، culture میں بھی۔ یہ ہمیں
ہے۔ plus point
عامر رانا: یہ آپ کا آخری پوائنٹ ہم تفصیل سے سے record کریں گے۔ بہت شکریہ آپ کا۔ اور اجازت ہمیں چاہیے۔ آپ کا انٹرویو ہمارا ایک تجزیہ ہے۔ اس میں as it is پبلش کریں گے۔ عرفانہ ملاح : جی جی بالکل۔

