Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»تما م آرٹیکلز»کائنات : ایک حیرت کدہ
    تما م آرٹیکلز

    کائنات : ایک حیرت کدہ

    ارشد رازیBy ارشد رازیاگست 8, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔16 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    اردو کے ساتھ کسی نہ کسی طرح کا تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ ہوں گے جنھوں نے سائنس کی کسی نہ کسی شاخ میں تحقیقی کام کیا ہوگا ، اپنا کام متعلقہ جریدوں اور مجلوں میں چھپوایا ہوگا اور وقیع کتب بھی لکھی ہوں گی۔ لیکن یہ سارا کام یقیناً انگریزی میں رہا ہوگا۔ ان میں سے بہت کم ہوں گے جنھوں نے کبھی اپنی تخصیص کے میدان میں ہونے والی تازہ کاریوں میں اردو دانوں کو شریک کرنے کا سوچا ہوگا۔ فزکس میں اپنی دلچسپی کے باعث میں نے مذکورہ بالا بات بالخصوص اس مضمون کے حوالے سے کی ہے۔ بوجوہ یہ ایک مشکل کام ہے اور کم از کم میری معلومات کی حد تک سہیل زبیری صاحب بین الاقوامی سطح پر مصروف پہلے سائنس دان ہیں جنھوں نے اپنی گوناگوں مصروفیات سے وقت نکالا اور ” کو انٹم میکینکس اور نظریہ اضافیت سے وابستہ قوانین فطرت کو عام فہم اردو میں اور عام قاری کے لیے بیان کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ اور کائنات : ایک حیرت کدہ وجود میں آئی۔ کوانٹم میکینکس پر ان کی کثیر الاشاعت کتب ان کی تدریسی صلاحیتوں کی مظہر سہی لیکن اردو میں اسی چیز کو بیان کرنے کے لیے زبان سے محبت اور قاری سے خلوص و محبت کا رشتہ لازم ہے۔

    تحیر ارفع ترین انسانی احساسات میں سے ایک ہے اور ” کائنات : ایک حیرت کدہ نے اس احساس کو تحریک دی ہے۔ اگر چہ یہ کتاب مختلف اوقات میں لکھے گئے مضامین کا مجموعہ ہے لیکن کائناتی رازوں اور اسراروں میں قاری کو شریک کرنے کی کاوش سب میں کار فرما ہے اور انھیں یکساں مزاج دیتی ہے۔ مزاج کے اسی اشتراک نے ان مضامین کو ایک متجانس کتاب میں ڈھال دیا ہے۔

    مصنف اپنے اس علمی کام کے لیے قارئین کا کا ایک حلقہ بنایا ہے اور پھر پوری کتاب میں اسے پیش نظر رکھا ہے۔ انھیں معلوم ہے کہ اس کے پیش نظر قاری کی عمومی اور سائنسی تعلیم کتنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نفس مضمون بڑی احتیاط سے طے کیا گیا ہے، صرف ناگزیر مواد لیا گیا ہے اور اس کی پیش کاری میں ہر اس چیز سے گریز کیا گیا ہے جس سے قاری کی توجہ ہٹ سکتی ہے یا وہ الجھ کر دستبردار ہو سکتا ہے۔ کتاب کے قاری سے ادق ریاضی سے واقفیت کی توقع نہیں کی گئی۔ بس آٹھویں تک کے حساب سے کام لیا گیا ہے۔ چنانچہ کتاب شروع کرنے سے پہلے کی ورق گردانی میں جب ریاضیاتی علامات سے واسطہ نہیں پڑتا تو خوشگوار حیرت ہوتی ہے اور کتاب کے ساتھ اپنائیت کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ وضاحتی اور معاون اشکال اور تصاویر بڑی بر محل ہیں اور بیان کو تقویت اور معاونت دیتی ہیں ۔ ان موضوعات پر دستیاب ہزاروں خوبصورت اور پر معنی اشکال میں سے مناسب حال معاون مواد کا انتساب بجائے خود داد کا مستحق ہے۔

    جہاں تک میں سمجھ پایا ہوں مصنف کے نزدیک اس کے قاری نے میٹرک اور انٹر تک کی فزکس پڑھی ہے لیکن وہ اس استفادے کی لازمی شرط نہیں بننے دیتا، کائنات کی ماہیت پر غور وفکر کا شائق کو بھی شخص اسے سمجھ سکتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ مصنف نے سہولت اور آسانی گمراہ کن سادگی (Oversimplification) کی قیمت پر حاصل کی ہے۔ مصنف اپنے قاری پر اعتماد کرتا ہے اور بیان کی سادگی اور معنی کی جست کے درمیان کامیاب توازن برقرار رکھتا ہے۔ انداز تحریر اور مواد کی پیش کاری ایسی ہے کہ ہر فکری اکائی تفہیم بجائے خود کسی تخلیقی تجربے میں شراکت بنتی چلی جاتی ہے۔

    کتاب مختلف طوالتوں کے تیس ابواب پر مشتمل ہے جنھیں پانچ حصوں میں رکھا گیا ہے۔ پہلے حصے کا عنوان ” پر اسرار قوانین فطرت ہے۔ یہاں فزکس کے بنیادی امور، حاصلات اور مسلمات مختصراً ، نکات وار اور جامعیت کے ساتھ بیان ملتے ہیں ۔ انہیں سترھویں صدی کے وسط سے انیسویں صدی کے آخر تک فزکس میں ہونے والی تحقیق کا عطر سمجھئے ۔ ان مسلمات کے بیان میں سادہ الفاظ کے انتساب اور سہل بیان پر خاص محنت کی گئی ہے۔ ایسی سادگی ، برجستگی اور سہل بیان مضمون پر مصنف کی گرفت پر دلالت کرتا ہے۔ کلاسیکی فزکس کے مسلمات کا ایسا جامع اور سادہ بیان بہت اچھی درستی کتب میں بھی موجود نہیں ۔ فزکس کے گریجویشن سطح کے طالب علم بھی اس صفحے ڈیڑھ صفحے کو غور سے پڑھ لیں تو انھیں اپنی معلومات وحدت سے مصنف علم بنتی نظر آئیں گی۔ یوں دیکھو تو کتاب کے متوقع قارئین اور مستفید ہونے والوں کا حلقہ زیادہ وسیع اور زیادہ متنوع ہو سکتا ہے۔

    مذکورہ بالا مسلمات کے فوراً بعد مصنف بتاتا ہے کہ یہ تمام سچائیاں بیسویں صدی کے آغاز میں شروع ہونے والے سائنسی انقلاب کے نتیجے میں متزلزل ہوئیں اور غلط ثابت ہو گئیں۔ پتہ چلا کہ مالیکیول ، ایٹم اور الیکٹران کا تو جہان ہی اور ہے اور یہاں ہمارے اس جانے پہچانے جہان کے قوانین لاگو نہیں ہوتے جہاں چیزیں براہ راست یا دستیاب ذرائع سے دیکھی جاسکتی ہیں اور ان کی پیمائش ہو سکتی ہے۔

    اس نئے جہان کے مظاہر کی وضاحت نے کوانٹم میکینکس اور نظریہ اضافیت کو جنم دیا اور فزکس کے نئے انقلاب طیز قوانین سامنے آئے اور مسلمات از سر نو طے ہوئے ۔ جدید یعنی ہماری آج کی فزکس اپنی دو نظریات کی توسیع ، ان کے مضمرات اور اطلاقات پر مشتمل ہے۔

    یہی وہ وجہ ہے جہاں مصنف جدید فزکس کے بنیادی امور اور مسلمات نکات دوار مختصراً جامع انداز میں بیان کرتا ہے۔ جب انھیں کلاسیکی فزکس کے تناظر میں پڑھا جاتا ہے تو ان کی ندرت چشم کشا ہو جاتی ہے۔ صفحہ انیس کے آخری پیرا گراف میں بتایا گیا ہے کہ کوانٹم میکینکس اور اضافت کو علمی تاریخ کے کامیاب ترین نظریات کیوں سمجھا جاتا ہے۔

    دوسرے باب کا آغاز کلاسیکی فزکس کے کچھ نظریات کے بیان سے ہوتا ہے۔ سب سے پہلے کو پر نیکس کے ہیلیو سنٹڑک نظریے کا بیان ہے جس نے یورپ میں مذہبی عقیدے کی حد تک مانے جانے والے اس نظریے کو حل دیا کہ سورج ، سیارے اور ستارے زمین کے گرد گھومتے ہیں۔ اگلا بیان اس امر کا ہے کہ کیپلر نے کیونکر سیاروں مداروں کا بیضوی ہونا اور ان کی رفتاروں کا سوچ سے فاصلے پر منحصر ہونا اخذ کیا۔ اگلا بیان گیلی لیلو کی کاوشوں کا ہے جن کے نتیجے میں ریاضی فزکس کی عالمگیر زبان ٹھہری یہ اب مصنف نیوٹن کے قانون تجاذب کو پیش کرتا ہے کہ وہ کیوں ان عبقری شخصیتوں کے کاموں کا امتزاج ہے اور کس طرح اپنے اطلاق میں عالمگیر ہے۔ اس مطالعے سے طالب علم کو احساس ہو گا کہ نظریات ایک دوسرے کو جنم دیتے ہیں اور علم آگے بڑھتا ہے۔ علم خلا میں پیدا نہیں ہوتا۔ یہ ضرورت سے وجود میں آتا ہے اور ہر لحظہ تغیر پذیر ہے۔ اسے جامد و ساکت رکھنا ممکن نہیں اور نہ ہی مناسب ہے۔

    یہیں نیوٹن کے قوانین حرکت بیان ہوتے ہیں۔ یہ بیان ایسا جامع اور موثر ہے کہ اس علم کے منتہین سے کم کے بس کی بات ہیں۔ میں سمجھا اس نوع کے بیان درسی کتب کے متعلقہ مندرجات کے پہلو بہ پہلو پڑھائے جانا ضروری ہیں۔ اب مصنف ایٹموں کی طرف آتا ہے اور بتاتا ہے کہ نیوٹنی فرکس کے قوانین ان سے روشنی کے اخراج کی وضاحت میں کیسے ناکام رہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مصنف جدید طبیعات کی طرف گریز کرتا ہے۔ فزکس کی تاریخ کا یہ دور تیزی سے بدلتے نقطہ ہائے نظر کا دور تھا۔ یہاں مصنف قاری کو دقیق اور پر پیچ بحث سے بچاتے ہوئے قاری کو صرف نتائج پہنچاتا ہے کہ چھوتی رفتار کے حامل بڑے اجسام کے لیے معقول تخمینہ فراہم کرنے والے نیوٹن قوانین کی جگہ روشنی کی سی رفتاروں پر حرکت کرتے ہوئے چھوٹے اجسام کو بیان کرنے والے قوانین نے لے لی جو نظریہ اضافیت اور کوانٹم میکینکس کا موضوع ہیں ۔

    اسی مقام پر مصنف نیوٹنی قوانین اور کوانٹم قوانین کے کیفتی (Qualitative) فرق کو جس طرحاجا گر کرتا ہے اپنے اختصار اور قطعیت میں بے مثل ہے۔ یہیں ایک بار پھر خیال آتا ہے کہ کاش ہمارے یہاں Sole Textbook کا قانون نہ بنتا۔ حدف سلیپس متعین ہوتا۔ بازار میں بھی اس سلیبس کا احاطہ کرتی ایک سے زیادہ کتابیں موجود ہوتیں۔ کسی کتاب میں قوانین کار یا ضیاتی اخذ بہتر ہوتا اور کسی میں Coxcepuation کا بہتر اہتمام ہوتا ۔ یوں یہ کتب ایک دوسرے کی معاونت کرتیں ، طالب علم مضمون کا بہتر ادراک سے کرتے۔ کاش ایسا ہو جاتا تو سوچنے کی ضرورت محسوس ہوتی اور اس کا ہنر پروان چڑھتا ۔ اسی سے مکالمے کا اکھوا پھوٹتا اور بردباری اور برداشت ہمارا مزاج بنتا۔

    تیسرا باب ان نئی دریافتوں کے بیان سے شروع ہوتا ہے جن کی وضاحت نئے قوانین کی متقاضی تھی ، اس باب کی بڑی خوبی مواد کا تاریخی تناظر ہے جسے بڑے دلچسپ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ تاریخی تناظر ہی بتاتا ہے کہ کسی مضمون میں فیصلہ کن موڑ کہاں آتا ہے اور ایک جینٹس کی جرات اندانہ اور ندرت خیال انسانی فکر کا دھارا کیسے بدلتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ نصابی کتب لکھنے والوں کو اس پیش کاری کا خیال رکھنا چاہیے۔ بالخصوص بالخصوص ہمارے ؟ جیسے نظام تعلیم میں جہاں Sole Textbook کی پابندی دیگر کتب سے استفادے کی حوصلہ شکنی کرتی ہے، تاریخی پس منظر کا اضافہ ضروری ہے ۔ مظاہر اور ان کے وضاحت کے لیے نئے نظریات کا ظہور کا طریقہ کار سمجھ کر ہی ذہنی افق کو وسعت دی جاسکتی ہے۔ بصورت دیگر مطالعہ محض ڈھانچہ رہ جاتا ہے اور علمی ارتقا کا حقیقی ادراک مشکل ہو جاتا ہے۔

    گرم رم اشیا سے نکلتی روشنی کا درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ رنگ بدلنے کے مظہر پر تحقیقی کاوشوں کے شفر اور پھر پلانک کے عہد ساز اور جرات آزما کوانٹم مفروضے کا بیان ادق اصطلاحات سے پاک اور مخاطب قارئین کے علمی پس منظر کے مطابق ہے۔ مصنف نے کوانٹم نظریے کی وضاحت کے لیے اس کے اولین اطلاق فوٹو الیکٹرک اثر کو بڑی وضاحت سے لکھا ہے، قاری پہلی بار محسوس کرتا ہے کہ اس نے ایک نئے جہاں میں قدم رکھا ہے جو اس کے جانے پہچانے جہان سے مختلف ہے۔ اس پر کھلتا ہے کہ ان میں سے بہت سے خیالات ترک کرنا ہوں گے جو وجدانی سطح کے حقائق چلے آرہے تھے یا بہ نفیسی حقیقت سمجھے جارہے تھے۔

    مثلاً نیوٹنی فزکس کی رو سے کسی ذرے کی حرکت کی پیشن گوئی کی جاسکتی ہے یعنی اگر اس کی موجود پوزیشن، حالت اور اس پر لگنے والی قوتوں کا علم ہو تو مستقبل سے کس لمحے اس کی پوزیشن اور حالت بتائی جا سکتی ہے۔ لیکن کوانٹم میکینکس کی رو سے ہم دونوں کی صرف امکانی تخمینے بتا سکتے ہیں۔ اسی طرح کلاسیکی وجدان کسی ایک چیز کے بیک وقت دو جگہ ہونے کو مستر د کرتا ہے جبکہ کوانٹم میکینکس کے مطابق یہ عین ممکن ہے۔ اسی طرح کوئی چیز بیک وقت دو مختلف حالتوں میں بھی موجود ہوسکتی ہے۔ فاضل مصنف ان حقائق کی وضاحت کے لیے پولارائزڈ فوٹون کا تصور استعمال کرتے ہوئے خیالی تجربات سے استفادہ کرتا ہے۔ باب آٹھ میں آکر میں فاضل مصنف لکھتا ہے۔

    ان حیران کن نتائج کی اہمیت صرف فلسفیانہ سوچ تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ نتائج مکمل راز داری کے ساتھ پیغام رسانی اور کمپیوٹنگ کے میدان میں کچھ انتہائی ڈرامائی کامیابیوں کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

    باب گیارہ میں ہائیز بزرگ کے بے یقینی کے اصول کا بیان ہے۔ اس میں بالصراحت سمجھایا گیا ہے کہ پیمائش اور رفتار جیسی خصوصیات پیدا ہی اس وقت ہوتی ہیں جب ان کی پیمائش کے موزوں آلات سے مداخلت کی جاتی ہے۔ ان خصوصیات میں سے کسی ایک کی پیمائش کا عمل ذرے کو اس طور متاثر کرتا ہے کہ دیگر خصوصیات بدل جاتی ہیں۔ یعنی اگر ذرے کی پوزیشن ایک خاص وقت کے ساتھ پیمائش کی جا سکتی ہے تو رفتار کامل درستگی سے پیمائش نہیں ہو سکتی ۔ آلات خواہ کیسے ہی مثالی ہوں یہ امر اپنی جگہ حقیقت رہے گا۔

    کتاب کے تیرھویں باب کا موضوع جان بین کی عدم مساوات ہے جسے بیسویں صدی کی اہم ترین دریافت قرار دیا جاتا ہے۔ جان بین نے یہ مساوات 1964ء میں پیش کی جس میں تجرباتی طور پر قابل پیمائش مقدر ایں شامل تھیں اور اس عدم مساوات کی تجربی جانچ ممکن تھی۔ اس کے صرف دو اجزاء ہیں، ایک مقامیت (Locality) اور دوسر ا حقیقت ( Reality) ۔ یہ مساوات صرف اس وقت حل ہوتی ہے جب دونوں اجزا موجود ہوتے ہیں۔ کوانٹم میکینکس پیش گوئی کرتی ہے کہ یہ عدم مساوات غلط ہے۔

    آئن سٹائن کہتا ہے کہ اگر کسی بھی طور پر کسی شے پر اثر انداز ہوئے بغیر ہم اس کی موجودگی کی پیش گوئی کر سکتے ہیں تو اس شے کو حقیقی فرض کریں گے اور مقامیت کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ کسی ایک جگہ ہو رہا ہے اس کا اثر باقی کا ئنات میں کہیں اور نہیں پڑتا۔ اب تک کے تجربات بتاتے ہیں کہ مقامیت اور حقیقت با ہم ہم آہنگ نہیں ہیں۔ یا تو کسی شے مثلاً چاند کا ہونا حقیقت نہیں یعنی اس کا وجود ہمارے دیکھنے پر منحصر ہے اور اگر چاند حقیقت ہے تو پھر مقامیت حقیقت نہیں یعنی زمین پر ہمارا فعل ستاروں سیاروں پر بھی اثر ڈالتا ہے۔ 2022 ء کو نوبل انعام اس عدم مساوات کی بجر بی تصدیق پر دیا گیا ہے۔ اگر حقیقت اور مقامیت ہم آہنگ نہیں تو فطری تو فطری طور پر کائنات کے حقیقی محض وہم ہونے کا سوال اٹھے گا۔

    کلاسیکی فزکس نے بتایا کہ ستاروں سے بہت دور خلائے بسیط میں جہاں انتہائی ٹھنڈ اور تاریکی کا راج ہے وہاں توانائی کی مقدر صفر ہوگی۔ لیکن کوانٹم تھیوری بتاتی ہے کہ خلا میں توانائی کی لامحدود مقدار موجود ہے۔ ڈائر یک نے بتایا کہ اس توانائی سے لمحاتی طور پر بڑے ذرات پیدا ہوتے ہیں جیسے الیکٹران اور اس کا ضد زرہ پازیٹران لیکن ان میں سے زیادہ تر ہمارے مشاہدے میں آنے سے پہلے متعامل ہو کر توانائی میں بدل جاتے ہیں ۔ یہ موضوع کتاب کے پندرھویں باب کا موضوع ہے اس باب میں شہر و ڈنگر کے مشہور خیالی تجربے کی تعبیر ایک سے زیادہ کا قانون کے موجود کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ کوانٹم قوانین ایک ایسی بلی کی موجودگی کا امکان پیش کرتے ہیں جو بیک وقت زندہ اور مردہ ہے۔ لامحدود کا ئناتوں کو مان کر نیو گنی قوانین کے یقین کو بحال کیا جا سکتا اور کو اٹم قوانین کی امکانی نوعیت بھی باقی رہتی ہے۔ لیکن یہ مفروضہ جانچا نہیں جا سکتا۔ اس لیے کہ یہ کائناتیں باہم متعامل نہیں ہیں۔

    کتاب کے دوسرے حصے کا عنوان کوانٹم ٹیکنالوجی ہے۔ اس میں کوانٹم قوانین کے عمل استعمالات کا تعارف دیا گیا ہے۔ اس حصے کا آغاز باب 16 سے ہوتا ہے ۔ دو یا زیادہ فریقین کے . ہے۔ مابین پیغام کا اس طرح سے تبادلہ کہ کوئی ان چاہا فریق اس سے آگاہ نہ ہو سکے Cryptography کی بنیاد ہے۔ قدیم زمانے سے ہوتا چلا آیا ہے کہ اس مقصد کے لیے مرموز پیغامات بھیجے جاتے ہیں اور وصول کرنے والا طے شدہ کلیہ کے مطابق انھیں عام زبان میں بدل کر پڑھتا اور سمجھتا ہے۔ اس باب میں سادہ جمع تفریق کے استعمال سے بتایا گیا ہے کہ کوانٹم ٹیکنالوجی کی مدد سے ہزاروں میل دور بیٹھے اشخاص ایک پبلک چینل پر چابی کا با ہم تبادلہ کر سکتے ہیں جسے حاصل کرنے کی کوشش کرنے والا شخص ٹریس ہو سکتا ہے۔ سترھواں باب کو اٹم کمپیوٹر کی تشکیل اور اس کے ممکنہ استعمالات پر ہے۔

    کتاب کا تیسرا حصہ نظریہ اضافیت پر لکھے گئے ابواب پر مشتمل ہے۔ اس باب میں مصنف اختصار کے ساتھ قاری کو روشناس کراتا ہے کہ جب میکسول نے روشنی کو برقی مقناطیسی لہریں مان کر ریاضیاتی استخراج سے اس کی رفتار نکالی اور ثابت کیا کہ اس رفتار کا انحصار روشنی کے منبع کی حرکت پر نہیں ہے۔ یہ بات نیوٹنی میکانیات کے خلاف تھی۔ آئن سٹائن نے اس بارے میں میکسویل کے حق میں نیوٹن کو ترک کر دیا۔ یہی حقیقت اس کے نظریہ اضافیت کا دوسرا اصول بنی کہ روشنی کی رفتار ایک مستقل ہے اور مبنع کی رفتار پر منحصر نہیں ہے۔ اگلے باب یعنی باب 20 میں مصنف بتاتا ہے کہ وقت اور فاصلہ بھی تمام مشاہدہ کرنے والوں کے لیے ایک جیسے نہیں ہیں ۔ یہ انقلاب انگیز تصویر ذہن نشیں کروانے میں مصنف انتہائی سادہ جمع تفریق جیسے تصورات استعمال کرتا ہے، اسی طرح مصنف سادہ زبان میں اور ایک خیالی تجربے کی مدد سے قاری کو ذہن نشیں کرواتا ہے کہ مادہ اور توانائی ایک دوسرے میں بدل سکتے ہیں۔ یوں دو بنیادی قوانین یعنی قانون بقائے مادہ اور بقائے توانائی پستی امتزاجی شکل میں سامنے آیا جس کے مطابق کسی سسٹم کے اندر توانائی اور مادے کی کل مقدار مستقل رہتی ہے۔ البتہ وہ ایک دوسرے میں بدل سکتے ہیں۔ یوں پہلی بار سائنس کو پتہ چلا کہ ستاروں میں دراصل مادہ توانائی میں بدل رہا ہے۔ اس نظریے کی بنیاد پر ایٹم بم بنا اور اس نے نیوکلیائی ری ایکٹروں کا وجود ممکن بنایا۔

    اگلے باب کا موضوع Equaialence Principle ہے اور اس کے ہوشر با مضمرات اس باب کے آخر میں دیے گئے ہیں۔ مصنف اس باب میں تجازب کی ماہیت پر آئن سٹائن کے عمومی نظریہ اضافیت کو بیان کرتا ہے۔ نیوٹن کے بعد سے تجاذب کی مقدار پر کام ہوتا چلا آیا ہے۔ لیکن ماہیت پر پہلا کام آئن سٹائن کا تھا۔ اس نے بتایا کہ اونچی کمیت کے حامل اجسام خلا کے زماں مکاں جال میں خمیدگی پیدا کرتے ہیں۔ کوئی جسم ان بھاری اجسام کے قریب آتا ہے تو وہ انہی خمیدہ خطوط پر سفر کرنے کی وجہ سے اس قوت کو محسوس کرتا ہے جسے تجاذب کہتے ہیں۔

    باب 26 میں مصنف نظریہ اضافیت کی روشنی میں بلیک ہول کی نوعیت و ماہیت پر کی وضاحت کرتا ہے۔ اس میں بلیک ہول کے وجود میں آنے ، آس پاس پر ان کے اثرات اور ان کے رنجالہ جیسے سوالوں کے جواب دیے گئے ہیں۔ کائنات کی ابتدا پر بگ بینگ نظریے کا جائزہ باب 27 میں لیا گیا ہے۔ آخری باب کا ئنات کی پیدائش کے بعد اب تک ہونے والے وقوعات کا جائزہ ہے۔ کتاب کے آخر میں ایک مفید اشاریہ (Index) موجود ہے۔ جو اتنے پھیلے ہوئے موضوعات کو محیط کرنے والی کتاب کے مطالعہ میں سہولت پیدا کر سکتا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleکشمیر کے مسئلے کی داستان : ایک تنقیدی تجزیہ
    Next Article دنیا کیسے کام کرتی ہے؟
    ارشد رازی

    Related Posts

    روداد: نوجوانوں کے لیے ورکشاپ

    اکتوبر 22, 2026

    زیدیہ شیعہ تحریک اور حوثی سعودی تنازع کا پس منظر

    اکتوبر 22, 2026

    مسلکِ نوربخشیہ: تعارف اور پاکستان میں ادارہ جاتی نمائندگی کا جائزہ

    اکتوبر 22, 2026

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by