نصاب تعلیم دینی ہو یا عصری وہ قوم کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔لہذا اپنے بچوں کو محفوظ مستقبل دینے کے لئے ہمیں ایک متوازن ،مثبت اور رواداری پرمبنی نصاب و تعلیم مرتب کرنا پڑے گا جو ہماری سماجی ،معاشی،معاشرتی ،تہذیبی ،ثقافتی ضرورتوں کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کے لئے قابل قبول ہو۔
نصاب تعلیم کے حوالے سے مختلف زاویوں سے بحث و تحقیق جار ی ہے ۔ کوئی اس کے معاشرے پر پڑنے والے مثبت و منفی اثرات کا جائزہ لے رہا ہے تو کوئی اس میں نفرت پر مبنی بیانیوں کا تجزیہ کرتا ہے۔ پاکستان میں بدقسمتی سے نصاب تعلیم اور نظام تعلیم کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کردیا گیا ہے ۔ ایک کو عصری نظام تعلیم اور دوسری کو دینی نظام تعلیم کا نام دیا گیا ہے۔
عصری نظام تعلیم کا بیڑہ سکول اور کالجز نے اٹھایا ہے جبکہ دینی نظام تعلیم کی ذمہ داری روایتی دینی مدارس کے سپرد ہے۔ برصغیر کی تاریخ میں ابتدا سے جائزہ لیا جائے تو کل چار نصاب اور نظام تعلیم معرض وجود میں آئے ہیں جن میں دو نظام مسلسل اب تک قائم ہیں ۔ ایک عصری نظام تعلیم ، جس کو روایتی مذہبی طبقہ دنیاوی نظام تعلیم سے تعبیر کرتا ہے اور دوسرا مذہبی نظام ِتعلیم ۔ان دو نظاموں کی تاریخی پس منظر واضح کرنے کے بعد اصل مسئلہ کی طرف آئیں گے۔
برصغیر میں مختلف نظام تعلیم کا پس منظر
برصغیر کے ابتدائی ادوار میں چار بڑے ادارے وجود میں آئے جنہوں نے چار بڑے نظامہائے تعلیم رائج کئے او ربرصغیر کے عمومی نظام تعلیم پر گہرے اثرات مرتب کئے۔پہلا نظام تعلیم دارالعلوم دیوبند انڈیا اور اسی قسم کے دیگر خالص روایتی مذہبی اداروں نے رائج گیا۔جس کو ہم خالص دینی روایتی نصاب تعلیم کہہ سکتے ہیں۔آج کل برصغیر پاک و ہند کے مدارس انہی نصاب کو معمولی حک واضافے کے ساتھ چلا رہے ہیں۔ دوسرا نصاب تعلیم جس کو ہم خالص دنیاوی تعلیم سے تعبیر کرتے ہیں، وہ علی گڑھ یونیورسٹی کا نصاب و نظام تھا۔ آج کل کے تمام سکول و کالجز و یونیورسٹیز انہی کی طرز پر چل رہی ہیں۔ تیسرا نصاب تعلیم دارالعلوم ندوۃ العلماکا تھا جس میں دینی علم زیادہ اور دنیاوی علم کم پڑھایا جاتا تھا۔ مگر دین و دنیا کا ایک حسین سنگم تھا۔ اسی طرح شیخ الہند ؒ کے حکم پر ڈاکٹر ذاکر حسین خان مرحوم نے جامعہ ملیہ قائم کیا ۔ جس میں دنیاوی علم زیادہ اور دینی علم کم تھا۔مگر ان چاروں نظاموں سے کچھ نہ کچھ تعلیمی نہریں پھوٹ پڑیں مگر سوسائٹی پر زیادہ اثر صرف دو ہی نظاموں نے کیا۔ ایک خالص روایتی مذہبی تعلیم اور دوسری خالص عصری تعلیم ۔
دینی نصاب تعلیم اور مختلف تحقیقات کا جائزہ
ایک عرصہ سے دونوں نصابوں کے بارہ میں مسلسل تحقیق جاری ہے ،مدارس نظام تعلیم کے بارہ میں بہت سی رپورٹس منظر عام پرآئیں، جس میں بعض انتہائی سطحی جبکہ بعض کافی متوازن ہیں۔وفاق المدارس کے نصاب کے حوالہ سے PEADفاونڈیشن نے کی رپورٹ خاصی محنت سے تیار کی گئی ۔ایک لطیفہ یاد آیاکہ کچھ عرصہ قبل اسلام آباد کی ایک معروف این جی او نے دعوت دی اور دینی مدارس کے نصاب تعلیم اور فرقہ وارانہ بیانئے کے حوالے سے اپنی تحقیق کو نظرثانی کے لئے دکھایا۔ جس میں انہوں نے تفسیر کی ایک کتاب میں لفظ ’’گمراہ‘‘ کو ہائ لائٹ کیا تھا۔ تفصیل دیکھنے لگا تو وہ حوالہ قرآن مجید کا تھا۔حالانکہ انہوں نے یہ طے کیا تھا کہ قرآن و حدیث کے علاوہ دیگر کتب کو موضوع بحث بنایا جائے گا مگر ان کے محققیقن کو جب اس غلطی کے حوالے سے بریفنگ دی تو وہ خود توبہ تائب ہوئے اور دیر تک اپنی غلطی پر افسوس کرتے رہے کہ قرآن مجید کے بارہ میں ہم ایسا سوچ بھی نہیں سکتے۔مطلب یہ کہ بعض اداروں کے کام کچھ سطحی ہوتے ہیں جس سے مشرق و مغرب میں مدارس کے بارہ میں کافی غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں،البتہ میں نے عرض کیا کہ مدارس کا نصاب اس وقت سب سے سیکولر نصاب ہے کیونکہ مدارس میں ختم نبوت کے منکر متنبی ،شیعہ علما کے پانچ سے زائد کتب، عیسائ مستشرق لوئس مالوف کی ڈکشنری او رمعتزلہ فرقہ کے مصنفین کی کتابیں شامل نصاب ہیں۔اسی طرح حنفی مدارس میں دورہ حدیث کی کتب صحاح ستہ میں ایک بھی حنفی عالم دین کی نہیں۔البتہ دینی مدارس کا ماحول نصاب سے زیادہ اثر انگیز ہے۔لہذا ہمیں اس ماحول کو بدلنا ہے،اوراس کے لئے جدوجہد کرنی ہوگی۔
عصری نصاب تعلیم اور فرقہ ورانہ بیانیہ
عصری تعلیم کے حوالے سے بھی یہ بحث جاری ہے کہ اس میں بھی بہت سے نفرت پر مبنی مواد موجود ہے ۔جو بچوں کے دل و دماغ پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔اس حوالے سے کچھ ماہ قبل میریٹ ہوٹل اسلام آباد میں قومی کمیشن برائے انصاف اور ادارہ امن و تعلیم کے اشتراک سے ہونے والی کانفرنس میں شرکت کی ۔ کانفرنس کا موضوع پاکستان کے تعلیمی اداروں میں رائج سرکاری و نجی نصابی کتب میں پائے جانے والے نفرت انگیز مواد، فرقہ وارانہ جملے و مضامین کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ۔ دونوں اداروں کے سربراہان نے اس حوالے سے اپنی تفصیلی رپورٹیں انتہائی احسن انداز میں پیش کی، ادارہ امن و تعلیم کی رپورٹ صرف سرکاری نصاب تک تھی جبکہNCJP کی رپورٹ میں نجی نصاب والے ادارے بھی شامل تحقیق تھے، ادارہ امن و تعلیم کی رپورٹ دوسرے کے مقابلے میں زیادہ موثر اور جاندار تھی ۔ NCJP کی رپورٹ میں کئی فاش غلطیاں تھیں مثلاٍ انہوں نے اپنی لاعلمی کی وجہ سے بعض احادیث مبارکہ کو (Hate Material)میں ڈال دیا تھا ،جس پر راقم نے NCJP کے چئیرمین کو متوجہ کیا اور انہوں نے اس پر معذرت کی اور کھل کر کہاکہ ہم نے اسلامیات کو حتی الوسع قابل بحث نہیں بنایا کیونکہ اسلامی تعلیمات کے حوالے سے ہمیں کوئی خاص تجربہ نہیں۔انہوں نے کہاکہ اگر آپ علمائے کرام تجویز فرمائیں تو ہم ان سے نظرثانی کے لئے تیار ہیں۔جس پر مجھے ان کا رویہ پسند آیا۔
بریفنگ کے بعد سوال و جواب اور ڈسکشن سیشن میں راقم نے کچھ سوالات اٹھائے اور چند گزارشات پیش کیں ۔
1۔ ہیٹ میٹیریل کی درست تعریف کیا ہوسکتی ہے؟ کیوں کہ ہر مسلک، فرقہ اور جماعت اپنے ذوق و مزاج کے مطابق اس کی تعریف کرتے ہیں؟
2۔ پاکستان میں 75 سے زیادہ نصاب سکولوں میں رائج ہیں جس کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ۔
3۔ اب تو بین المذاہب ہم آہنگی دور کی بات ہے ہر مسلک اپنا مستقل نصاب بنانے لگا ہے جو کہ ملک کی اجتماعی نظام کیلئے خطرہ ہے ۔اس نصاب میں ہیرو کے طور پر وہ اپنے مسلک کے مسلکی لیڈروں کی تصاویر لگاتے ہیں خصوصاً ان لیڈروں کا جو فرقہ وارانہ کاروائیوں میں زندگی کا اکثر حصہ صرف کرچکے ہیں۔
4۔ آکسفورڈ اور کیمبرج کا نصاب بھی زیر بحث لے آئیں کیونکہ وہ بھی نفرتوں سے بھرا پڑا ہے۔
5۔ بعض شرکاء نے جنرل ضیاءالحق اور بھٹو مرحوم کو سزاوار ٹہرایا ۔جس پر راقم نے عرض کیا کہ ہماری ساری تاریخ ہی جھوٹ پر مبنی ہے ۔ قائداعظم نے دو قومی نظریہ کا نعرہ لگاکر فرقہ واریت کی لکیر کھینچی حالانکہ اس وقت رواداری کا یہ عالم تھا کہ "مولانا ابوالکلام آزاد نے ایک دینی مدرسے کا افتتاح گاندھی جی سے کرایا تھا
6۔ سینیٹر افراسیاب نے کہا کہ سب سے زیادہ تشدد افغان جہاد کے بعد ہماری سوسائٹی میں پروموٹ ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کی نبراسکا یونیورسٹی نے افغان بچوں کے لئے نفرت پر مبنی نصاب بنایا جسکی سزا وہ ابھی تک بھگت رہے ہیں ۔
7۔ راقم نے عرض کیا کہ اس بات سے جزوی اتفاق ممکن ہے مگر اس ساری صورتحال کی ذمہ داری استعماری طاقتوں پر پڑتی ہے جنہوں نے اپنے مقاصد کے لیے معصوم بچوں کی مستقبل کو داؤ پر لگا یا اور اب یہ تشدد اس طریقے ہی سے ختم ہوگا جس طریقے سے یہ پروموٹ ہوا ہے ۔
8۔ آکسفورڈ نصاب والی بات پر ڈاکٹر سلیم نے میری بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ 2008 تک ایک ریسرچ میں نے کی تھی تو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ آکسفورڈ اور کیمبرج کے نصابی کتب میں نفرت پر مبنی مواد دیگر پاکستانی نصابوں کے بنسبت بہت زیادہ ہے ۔اور اب اس ریسرچ کا دائرہ 2015 تک بڑھائیں گے ۔
9۔ ادارہ امن و تعلیم کے سربراہ جناب سید اظہر حسین نے کہا کہ نصاب سے نفرت پر مبنی مواد نکالنا خود حکومت اور ریاستی اداروں کے حق میں ہے ۔اس سے مثبت قومی شناخت پیدا ہوگی ۔اور پاکستان کو محفوظ مستقبل فراہم کریگا ۔انہوں نے کہاکہ امریکہ میں ہندوستان کے نصاب کے بھی سٹڈی ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہاں بھی پاکستان کے خلاف نصابی کتابوں میں کچھ نہ کچھ نفرت پر مبنی مواد موجود ہے۔ اسی طرح امریکہ میں سعودی عرب کے نصاب کی سٹڈی ہوئی جس پر سعودیہ نے ناراضگی کا اظہار کیا ، اور کہا کہ اس کے بعد ہم امریکہ کے نصابات کا جائزہ لیں گے۔ انہوں نے کہاکہ یہ ایک بہت ہی دلچسپ موضوع ہے جس پر کام کی ضرورت ہے ۔
10۔ سیمینار میں سٹیج سیکرٹری کی ذمہ داریاں سید رشاد بخاری نے انجام دیئے ۔ نصاب تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت اساتذہ پر تفصیلی غور وخوض کیا گیا ۔نیز راقم کے سوال پر بعض قانونی ماہرین نے فرقہ وارانہ مواد کی تفصیلات آئین پاکستان کے تناظر میں بیان کیے ۔
نصاب تعلیم دینی ہو یا عصری وہ قوم کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔لہذا اپنے بچوں کو محفوظ مستقبل دینے کے لئے ہمیں ایک متوازن ،مثبت اور رواداری پرمبنی نصاب و تعلیم مرتب کرنا پڑے گا جو ہماری سماجی ،معاشی،معاشرتی ،تہذیبی ،ثقافتی ضرورتوں کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کے لئے قابل قبول ہو۔
