Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»سِکھ برادری ہدف کیوں؟
    رواں تبصرے

    سِکھ برادری ہدف کیوں؟

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتمئی 15, 2022کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    اطلاعات کے مطابق آج دوپہر کو پشاور کے علاقے سربند میں دو سکھ تاجروں کو حملہ آوروں نے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ وزیراعظم سمیت اہم سیاسی رہنماؤں نے واقعے کی مذمت کی ہے اور ذمہ داران کو گرفتار کرکے سزا دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

    پشاور میں سکھ برادری کے قتل کے واقعات کی خبریں وقفے وقفے سے میڈیا میں آتی رہتی ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے کے دوران ان کی چند اہم شخصیات سمیت کئی افراد کو نشانہ بنایا گیا۔ بعض واقعات کی ذمہ داری دہشت گرد تنظیمیں قبول کرچکی ہیں۔ اگرچہ آج کے واقعے سے متعلق اب تک یہ واضح نہیں کہ اس کا ذمہ دار کون ہے، تاہم تسلسل کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ اس کی بنیاد بھی مذہبی منافرت ہے۔

    صوبہ خیبرپختونخوا میں پانچ سو کے قریب سکھ خاندان آباد ہیں۔ پشاور کی سکھ برادری یہاں دہائیوں سے رہائش پذیر ہے اور ان کا اکثریتی مسلمان آبادی کے ساتھ ہمیشہ ایک اچھا تعلق قائم رہا۔ لیکن خطے میں دہشت گردی کی لہر کی اٹھان کے بعد سے وہ خود کو غیرمحفوظ تصور کرتے ہیں۔ پشاور میں رہنے والوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو حالات خراب ہونے کے بعد سابقہ قبائلی اضلاع سے نقل مکانی کرکے آئی ہے، تاہم ان کے لیے حالات یہاں بھی سازگار نہیں رہے۔

    رپوٹس کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران پشاور کے ساٹھ فیصد سے زائد سکھ ملک کے دیگر علاقوں میں یا پاکستان سے باہر ہجرت کر گئے ہیں۔ اس سے اندازہ انداز لگایا جاسکتا ہے کہ یہ برادری جو پرامن ترین اور سماجی سطح پہ مقبول سمجھی جاتی تھی، وہ کس حد تک عدم تحفظ کا شکار ہوچکی ہے۔ صوبے کی اقلیتی برادری میں جس طرح اب سکھوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اس سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ اب اقلیتوں میں سے مذہبی منافرت اور عسکریت پسندوں کا ترجیحی ہدف ہیں۔ سکھ برادری کا انتظامیہ پر اعتماد باقی نہیں رہا۔ کیونکہ ان کے مطابق، نہ قاتل گرفتار ہوتے ہیں نہ انہیں سزا ملتی ہے۔ یہ صورتحال ریاست کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

    اقلیتیں پشاور سکھ سکھ برادری
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleمذہب اور پوسٹ ماڈرن ازم کا چیلنج
    Next Article افغان طالبان اپنی قدامت پسندی کے اسیر
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by