گزشتہ روز سینٹ میں انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی نے مسجدنبوی والے واقعے کے بعد ملک میں تحریک انصاف رہنماؤں کے خلاف درج کیے جانے والے توہینِ مذہب کے مقدمات کا نوٹس لیا ہے اور ان کی جزئیات پر بحث کے لیے 9 مئی کو اجلاس بلایا ہے۔
گزشتہ ماہ کے آخر میں مسجد نبوی کے اندر جو کچھ ہوا وہ کسی بھی طرح سے قابل دفاع نہیں اور نہ اس اقدام کی کوئی توجیہہ پیش کی جاسکتی ہے۔ اس سے دنیا کے بے شمار مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی کہ ایسا کرنا اُس مقدس مقام کے آداب کے عین برخلاف تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی انتظامیہ نے اس پر اپنا ردعمل بھی ظاہر کیا اور کچھ لوگوں کے خلاف تادیبی کاروائی کی گئی۔ البتہ اس واقعے کے بعد سیاسی سطح پہ پاکستان میں جو کچھ ہوا اس میں چند پہلو غورطلب ہیں اور اس پر بات چیت کی جاسکتی ہے۔
مسجدنبوی کے واقعے پر پاکستان میں عوام کی اکثریت نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے غم وغصے کا اظہار کیا، اور اس کے بعد یہ بھی واضح تھا کہ ملک میں مذہبی حوالے سے مختلف قسم کا ردعمل سامنے آسکتا ہے۔ اس ضمن میں سیاسی جماعتوں، بالخصوص حکومت کے لیے امتحان تھا کہ وہ اسے کس طرح سنبھالتی ہیں۔ واقعے کی سنگینی پر قطعاَََ دورائے نہیں ہوسکتی، تاہم پاکستان میں عام طور پہ مذہبی معاملات پر ردعمل نپا تلا نہیں ہوتا اور یہ غیرمتوقع قسم کا بھی ہوجاتا ہے۔ اس لیے یہ ضروری تھا کہ اسے احتیاط کے ساتھ سنبھالا جاتا۔ لیکن ملک میں سیاسی تعصب اور منافرت نے جو ماحول پیدا کر رکھا ہے یہ واقعہ بھی اس کی نذر ہوگیا اور تسلسل کو برقرار رکھا گیا۔
یہ واقعہ بلاشبہ سنگین تھا، ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے تھا، اور اس سے وہاں موجود دیگر مسلمان ممالک کے باشندوں میں بھی پاکستانی شہریوں سے متعلق اچھا تأثر قائم نہیں ہوا۔ اس واقعے کو تقریبا ساری دنیا کے مسلمان ممالک کے میڈیا نے رپورٹ کیا۔ یہ موقف تسلیم ہونے کے باوجود مکالمے کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہاں پر جو کچھ ہوا کیا اس کی بنیاد ملک میں فروغ دیا گیا انتہائی نوعیت کا سیاسی تعصب ومنافرت نہیں تھے جن کے باعث نوجوانوں میں یہ شعور ہی ختم ہوگیا کہ انہیں کچھ چیزوں کا لحاظ بھی رکھنا ہے؟ اگر اس اقدام کا حصہ بننے والوں سے پوچھا جائے تو یقینی طور پہ کوئی بھی مسلمان فرد توہین کے ارادے کا نہیں سوچ سکتا۔ مگر سیاسی منافرت نے نوجوانوں کی جو عمومی شعوری کیفیت بنا دی ہے اس میں یہ صلاحیت ہی نہیں رہی کہ وہ خود غوروفکر کریں اور اچھے برے اقدام کا فرق ملحوظ رکھیں۔
سعودی انتظامیہ کی جانب سے اس واقعے پر باقاعدہ قانوناً توہینِ مذہب کے مقدمات درج نہیں کیے گئے، بلکہ یہ تادیبی نوعیت کی کاروائیاں ہیں۔ پاکستان میں سابق وزیراعظم سمیت 150 لوگوں پر مقدمات درج کیے گئے جن میں سے بعض مقدمات 295، 295 اے اور 296 کے تحت درج کیے گئے ہیں، اور وزیرداخلہ نے باقاعدہ ان مقدمات پر بات کرتے ہوئے تأثر دیا کہ حکومت ان کے حق میں ہے۔ حالانکہ ملک کے مذہبی منظرنامے کو سامنے رکھتے ہوئے ہونا یہ چاہیے تھا کہ کم ازکم سیاست میں مذہب کے استعمال کی حدت کو کم کیا جاتا۔ لیکن سیاسی جماعتیں جس نہج پہ چل رہی ہیں یہ عوام کے مفاد میں ہے، نہ ان کے اپنے مفاد میں۔ سیاسی رقابت میں وقت کے ساتھ مذہب کا بڑھتا استعمال اور بے احتیاطی ملک اور ملک کی سیاست کے ساتھ خیرخواہی نہیں ہے۔ سیاسی جماعتوں کو پارلیمان مں اس پر سمجھوتہ کرنا چاہیے کہ سیاسی رقابت میں ایک دوسرے کے خلاف مذہب کے استعمال سے گریز کیا جائے۔

