Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»پولیو کا دھچکا، 15 ماہ بعد وائرس کی دوبارہ تشخیص
    رواں تبصرے

    پولیو کا دھچکا، 15 ماہ بعد وائرس کی دوبارہ تشخیص

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتاپریل 26, 2022کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    ہم لگ بھگ اپنا ہدف حاصل کرنے کے قریب ہی تھے۔ پچھلے پورے 15 مہینوں کے دوران پاکستان میں پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا تھا۔ تاہم ضلع بنوں میں ایک بچے کے اندر وائلڈ پولیو کی تشخیص ہونے کے بعد اس مرض کے خاتمے کی قومی کوششوں میں دراڑ پڑی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ نے معذوری کے شکار ایک 15 ماہ کے بچے میں ٹائپ 1 وائڈ پولیو (WPV1) کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔ مزیدبرآں رواں ماہ کے شروع میں بنوں کے ماحولیاتی نمونوں میں بھی وائلڈ پولیو پائے جانے کا پتہ چلا تھا۔

    اس سے قبل پولیو کا آخری واحد کیس بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ میں گزشتہ سال جنوری میں سامنے آیا تھا۔ اس کے بعد سے اب تک وائلڈ پولیو کا ایک بھی کیس سامنے نہیں آیا تھا، جن ماحولیاتی نمونوں میں اس کی موجودگی کی تشخیص ہوئی تھی اس کی شرح بھی نہایت کم بتائی گئی تھی۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ رواں برس کی ابتدا میں ’عالمی ادارہ برائے صحت‘ نے پاکستانی محکمہ صحت کے ذمہ داران کو مشورہ دیا تھا کہ وہ مکمل احتیاط جاری رکھیں ویکسینیشن مہم میں کسی قسم کی لاپرواہی یا سست روی کا مظاہرہ نہ کریں۔ عالمی ادارہ صحت کا یہ بھی کہنا تھا کہ پورے سال کے دوران ایک بھی کیس سامنے نہ آنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ملک میں پولیو وائرس کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ یہ وائرس عام طور پہ دوبارہ اس وقت نمودار ہوتا ہے جب اس کی زوردار منتقلی کا ایک اور موسم شروع ہوتا ہے۔

    پولیو کے خاتمے کے لیے تگ ودو کرنے والے ذمہ دار افسران، ہیلتھ ورکرز جنہوں نے بھرپور محنت کی اور ان کی حفاظت پہ مامور پولیس اہلکار، یہ سب لوگ جنہوں نے ملک کو اس موذی مرض سے نجات دلانے کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈالیں، اب خود کو مایوس اور دالبرداشتہ محسوس کریں گے۔

    جیساکہ عالمی ادارہ صحت نے پاکستانی حکام کو مشورہ دیا ’اب وقت آگیا ہے کہ وائرس کو تندہی کے ساتھ تلاش کرنے کے لیے اپنی کوششوں اور نگرانی کے عمل کو تیزتر کیا جائے اور اس ضمن میں تمام رکاوٹوں کو راستے سے ہٹایا جائے‘۔ اور یہ مقصد یا تو وائرس کی منتقلی کی باقی ماندہ مقامی کڑیوں کو توڑ کر حاصل کیا جاسکتا ہے، جیساکہ عالمی ادارہ صحت نے تجوز کیا، یا پھر وائرس کی تلاش کے لیے فعال کوششیں بروئے کار لائی جائیں، جیساکہ یونیسف کا کہنا ہے کہ ملک میں ایک بڑی تعداد ایسے بچوں کی ہے جن تک حفاظتی ٹیکے نہیں پہنچے۔

    یہ درست ہے کہ پولیو کے مکمل خاتمے کا ہدف ہم سے ابھی بہت دور ہے لیکن حالیہ تجربے سے یہ چیز ضرور ثابت ہوئی ہے کہ اس ہدف کو حاصل کرنا ناممکن نہیں ہے۔ متعلقہ ذمہ داران، ہیلتھ ورکرز اور عوام کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ کے لیے اپنی سرزمین سے اس مہلک مرض کا صفایا کردینے کے لیے مل کر ایک آخری دھکا لگائیں۔

    اداریہ روزنامہ ڈان

    پولیو وائرس
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleلاپتہ بلوچستان کی بازیابی: نئی حکومت سے کچھ گزارشات اور اُمیدیں
    Next Article پاکستان کے لیے امن وامان کی پیچیدہ ہوتی صورتحال
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by