Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»تما م آرٹیکلز»پاکستان کے 100 سے زائد ممتاز شہریوں کا چیف جسٹس سے "نظریہ ضرورت” دفن کرنے کا مطالبہ
    تما م آرٹیکلز

    پاکستان کے 100 سے زائد ممتاز شہریوں کا چیف جسٹس سے "نظریہ ضرورت” دفن کرنے کا مطالبہ

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتاپریل 6, 2022کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    پریس ریلیز
    اپریل 6 : 2022

    اسلام آباد، 100 سے زائد ممتاز ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے چیف جسٹس آف پاکستان کو کھلا خط لکھا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم جناب عمر عطا بندیال سوری کے تحریک عدم اعتماد کو مسترد کرنے کی قانونی حیثیت کے معاملے میں آئین اور قانون پر سمجھوتہ نہ کیا جائے۔
    خط کے مصنفین نے گزشتہ حکومت کے مجوزہ فیصلوں کو قوم کی فلاح وبہبود اور یگانگت کے لئے ایک خطرہ قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی پائے جانے کی صورت میں ذمہ دران کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے فیصلوں کا سدباب کیا جا سکے۔خط میں ایک جوڈیشنل کمیشن کے قیام کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے تا کہ سابقہ حکومت کے خلاف بیرونی سازش کے الزامات کے حوالے سے ثبوت و شواہد کی جانچ پڑتال کی جا سکے۔خط میں واضح کیا گیا ہے کہ غیر ثابت شدہ الزامات کو بہانہ بنا کر پارلیمانی عمل کو معطل اور اراکین پارلیمنٹ کے حق رائے شماری کو سلب نہیں کیا جا سکتا۔
    خط یہ دستخط کرنے والوں میں ماہرین تعلیم، وائس چانسلرز، صحافی اور انسانی حقوق کے علمبردار جس میں ایچ ای سی کے چیرر برسن طارق بنوری، ماہرین تعلیم سلیمہ ہاشمی، ڈاکٹر عائشہ رزاق، رضا رومی، ڈاکٹر عمار علی جان، پروفیسر فتح مری، ڈاکٹر اشتیاق احمد، انسانی حقوق کے کارکنوں جناب حارث خلیق، کرامت علی، پیٹر جیکب، عامر رانا، نعیم مرزا، عدنان رفیق، عارف آذاد، ممتاز صحافی ناصر زیدی، عاصمہ شیرازی، عامر غوری، محسن بیگ، ضیغم خان، اقبال خٹک، عدنان کاکڑ، عدنان رحمت، سبوخ سید، ماہر قانون اکرم راجہ اور دیگر شامل ہیں.
    خط میں کہا گیا ہے کہ آئینِ پاکستان معا شرے کے تمام طبقات کے درمیان ایک مقدس معاہدہ اور کروڑوں شہریوں کے مشترکہ مفادات کا عکاسی ہے. آئین وقانون کی مکمل اور غیر مشروط پابندی ایک پرامن، مہذب اور خوشحال معاشرے کے قیام اور تسلسلکے لئے ناگزیر ہے جبکہ اس سے اجتناب نقش امن اور معاشرے میں افراتفری کا موجب بنتا ہے.خط میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ آج آئین کے تقدس کے حوالے سے جو بھی کرے گا وہ ہماری قومی زندگی اور مستقبل کے حوالے سے دور رس اثرات مرتب کرے گا. ہماری آئندہ نسل کی عزت و آبرہ اور خوشحالی کا دارومدار صرف آئین کی بالادستی اور ایسی سیاست کے فروغ میں ہے جس میں باہمی احترام اور شائستگی کے اجزا شامل ہوں.
    خط کنندگان نے اس امید کا اظہار کیا کہ جج صاحبان کی آئین سے غیر متزلزل وابستگی اور انصاف سے والہانہ لگاؤ قوم کو اس کٹھن وقت سے نکالنے میں مددگار ثابت ہو گا..

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleداعش اور ٹی ٹی پی کا معاملہ کیسے حل ہوگا؟
    Next Article مسلم گھرانے میں ہم جنس پرست اور ملحد کی پیدائش
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    روداد: نوجوانوں کے لیے ورکشاپ

    اکتوبر 22, 2026

    زیدیہ شیعہ تحریک اور حوثی سعودی تنازع کا پس منظر

    اکتوبر 22, 2026

    مسلکِ نوربخشیہ: تعارف اور پاکستان میں ادارہ جاتی نمائندگی کا جائزہ

    اکتوبر 22, 2026

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by