Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»تما م آرٹیکلز»آدم خوری
    تما م آرٹیکلز

    آدم خوری

    زبیر توروالیBy زبیر توروالیاپریل 23, 2021کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    ہمارے معاشرے آدم خور ہوچکے ہیں۔ آپ چونک گئے ہونگے کہ آپ نے یہاں انسانوں کو گدھوں کا یا کتا کا گوشت کھلانے کا سنا ہے لیکن کبھی سنا نہیں ہوگا کہ انسان کو انسانون کا گوشت بھی کھلایا ہوگا۔ میں جس آدم خوری کی بات کررہا ہوں وہ انسانی گوشت کھانے سے بھی بدتر ہے۔  اسکی کی کئی صورتیں ہیں:

    پہلی صورت: ہمارے معاشرے وحدانیت کی بجائے ”کُلیت“ پر یقین رکھتے ہیں۔  آپ یہاں بھی چونک گئے ہونگے کہ ان معاشروں میں تو سب ایک خدا کے ماننے والے ہیں لہذا یہ کس طرح  وحدانیت نہیں۔ میرا مقصود عقیدہ نہیں یہاں بلکہ وہ سماج اور اسکے رویّے ہیں جو ہم سب میں سرایت کرگئے ہیں۔ یہاں کوئی ”فرد“ اپنی زات میں فرد نہیں بلکہ سماج ہی فرد ہے اور سماج ہی  حقیقت ہے۔ ایک فرد کی کوئی اپنی حیثیت نہیں۔ کسی انسان کی فردیت کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ یہ سماجی کُل ملکر اس کی فردیت اور انفردیت کو ختم کرجاتا ہے۔ اسی لئے یہ سماج کسی انسان کی فردیت کو ختم کرکے اس کو زبردستی کل میں تحلیل کرجاتا ہے۔ یوں ایک شخصیت مرجاتی ہے، ایک فکر مرجاتی ہے اور نتیجتاً ایک انسان مرجاتا ہے اور جو ہمیں نظرآتاہے وہ شخصیت، فردیت اور فکر سے خالی ایک جسم نظر آتا ہے۔ یوں اس معاشرے کو آدم خور کہا جاسکتا ہے۔

    دوسری صورت:یہ پہلی صورت سے پیوست ہے اور اسی کا جز ہے۔ یہ معاشرے حد درجہ ججمنٹل /متعصابنہ/جاسوسی بن چکے ہیں  جہاں لوگ اپنے بعض تعصبات اور مفڑوضات کی بنیاد پر دوسرے کے کردار، شخصیت، سرگرمیوں  اور عقیدوں کے بارے میں  نہ صرف جاسوسی کرتے ہیں بلکہ اپنی طرف سے درست اور غلط کا فیصلہ صادر کرکے دوسروں کے بارے اپنے تعصبات کو دیگر لوگوں میں بھی پھیلاتے ہیں۔ اس عمل کے لئے توروالی زبان میں ایک گہرا لفظ  ”بُݜُومُو “مستعمل ہے جس سے مراد کردار کُشی ہے۔ یہ عمل پورے تاؤ سے جاری و ساری ہے۔ اپنے مفڑوضات اور تعصابات پر مبنی تقدیس اور جاسوسی کی اچھی مثال گزشتہ دنوں وسیم اکرم کی آسٹریلوی نژاد  بیوی کے ایک تصویر پر سوشل میڈیا پر وایلے سے ظاہر ہے۔ اسی طرح ترکی کے جنگی ڈرامے میں ہیروئین حلیمہ کے ڈرامے میں کردار اور حقیقی ذندگی میں کردار پر بحث اور تنقید ہے۔ جب ارتغرل کے دلدادہ حلیمہ خان کے اس ڈارمے میں کردار کو حقیقی اور اپنے مفروضات کی بنیاد پر درست سمجھ کر اس کے حقیقی ذندگی کو برداشت نہ کرسکے اور   اس کے لباس پر بھڑک اٹھے تھے۔

    ان معاشروں میں عام لوگ تو چھوڑیں کئی ایسے بھیڑیے بھی بھیڑوں کے بھیس میں گھومتے ہیں۔ کئی ایسے ”بزرگ و پاکدامن“ بھی اس کھیل میں پوری طرح شامل ہیں کہ جن کا ظاہر کئی لوگوں کو آسانی سے دھوکا دے سکتا ہے۔ یہ مکّار لوگ اپنے زاتی مفادات کی خاطر دوسروں کی کردار کشی کرتے ہیں اور دوسروں  کے بارے میں ان اپنے تعصبات کو اوروں میں منتقل کرتے ہیں۔ ایسا بہت مہارت اور مکّاری سے کیا جاتا ہے کہ اگلے کو لگے صاحب ایسا نہیں کررہا لیکن وہ اگلا اس کی چال میں پوری طرح پھنس جاتا ہے۔

    ہم چونکہ تعلیم یافتہ اور خواندہ معاشرے نہیں اور ہمیں  کچھ تعلیم ایسی دی گئی ہے کہ جہاں صرف ”ایک دفعہ کا ذکر“ ہوتا ہے۔ مطلب عام  اورمعروف خیالات اور افواہوں کے برعکس دوسرا کوئی خیال یا فکر نہیں دی جاتی۔ اس لئے ہمارے سماج کے افراد تنقیدی اور تجزیاتی فکر سے خالی ہیں۔ کوئی یہ پوچھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا ہے کہ جو اسے کہا جارہا ہے اس پر کوئی دوسری رائے بھی ہوسکتی یا جس کے بارے میں جو کچھ کہا جاتا ہے وہ واقعی ایسا ہے کہ نہیں اور یا پھر جس سے جو بات منسوب کی گئی ہے کیا اس نے واقعی میں ایسا کہا ہے کہ نہیں۔ چونکہ تجزیہ، تفکر اور سوال مشکل عمل ہوتے ہیں اس لئےہمارے مشکل بیزار  حیوانی و طبعی معاشرے اس سے جان چھڑاتے ہیں اور آسانی کی خاطر جو سن لے اس پر یقین کرلیتے ہیں۔

    آپ کے خلاف منفی پروپیگینڈا پھیلانے میں آپ کے موجودہ اور سابقہ دوست بھی پیش پیش ہوتے ہیں۔ وہ آپ سے اپنے کسی زاتی رنجش  کی بنیاد پر کہ جس کی  اپنی بنیاد انکے اپنے مفروضات اور تعصبات پر کھڑی ہوتی ہے،   آپ کی کردار کشی کرتے ہیں اور لوگوں میں ایسی باتیں پھیلاتے ہیں کہ جن کا مقصود آپ کو نقصان پہنچانا ہو۔ یہ دوست نما دشمن ان دشمنوں سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں جو بندوق اٹھا کر آپ کے سامنے آسکتے ہیں۔ ہمارے قدیم معاشروں میں دشمنیوں کے بھی اصول ہوتے تھے  کہ جہاں دشمن آپ پر چھپ کر نہیں بلکہ آپ کو جگا کر وارکرتا۔ مگر نیم جدیدت اور حددرجہ لالچ کی وجہ سے اب یہ دشمنیاں بھی بدل گئیں ہیں اور آپ کے مخالفین اپکی کردار کشی مختلف وجوہات پر کرتے ہیں۔ جب کچھ اور شے  نہ ملے تو مذہب تو موجود ہے کہ اس کو بہانہ بنا کر لوگوں کو آپ کے خلاف اکسایا جاتا ہے ۔ ایسے لوگ میری نظر میں ان بندوق بردار کھلے دشمنوں سے بدتر ہوتے ہیں اور ان کو معاف نہیں کیا جاسکتا۔

    اس صورت حال میں وہ لوگ غوث ہیں جو کسی کے خلاف باتیں نہیں کرتے، جو کسی کے عقیدے کو نشانے پر نہیں لیتے اور جو کسی کے پیٹھ پیچھے باتیں نہیں پھیلاتے! ایسے لوگ بہت کم ملیں گے لیکن جہاں ملے ان کی قدر کرنی چاہیے۔

     

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleداردستان کا ترجمان—”سر بلند“
    Next Article ” جناور جگت”: شاہد شبیر کے قلم کا ایک اور کرشمہ
    زبیر توروالی

    Related Posts

    روداد: نوجوانوں کے لیے ورکشاپ

    اکتوبر 22, 2026

    زیدیہ شیعہ تحریک اور حوثی سعودی تنازع کا پس منظر

    اکتوبر 22, 2026

    مسلکِ نوربخشیہ: تعارف اور پاکستان میں ادارہ جاتی نمائندگی کا جائزہ

    اکتوبر 22, 2026

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by