Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»نیا یکساں قومی نصاب مکمل تیار، صوبوں کو کتابیں شائع کرنے کی ہدایت
    رواں تبصرے

    نیا یکساں قومی نصاب مکمل تیار، صوبوں کو کتابیں شائع کرنے کی ہدایت

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتدسمبر 15, 2020کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    گزشتہ روز وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ تحریک انصاف حکومت کی جانب سے متعارف کرایا جانے والا نیا یکساں قومی نصاب کا منصوبہ تیاری کے تمام مراحل سے گزر کے مکمل ہوچکا ہے اور اب صوبائی حکومتوں کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق کتابیں شائع کرنا شروع کرے۔ وفاقی وزیرتعلیم نے اسے ایک انقلابی قدم قرار دیا۔

    واضح رہے کہ حکومت نے اقتدار میں آتے ہی ملک میں تعلیمی اصلاحات کے لیے عزم کا اظہار کیا تھا، ان اصلاحات میں سے ایک ’یکساں قومی نصاب‘ کو لانا بھی شامل تھا۔ وفاقی وزارت تعلیم کی ویب سائٹ پر درج کیے گئے اس منصوبے کے محرکات میں کئی امور کا ذکر کیا گیا ہے جن میں ملک کے تمام بچوں کے لیے معیاری تعلیم کے حصول کی خاطر یکساں مواقع کی فراہمی۔ متنوع نظام ہائے تعلیم کے مابین تفاوت کا خاتمہ، بدلتے عالمی رجحانات کے تناظر میں ذہنی نشوونما اور سماجی ہم آہنگی کا فروغ جیسے مقاصد بھی شامل ہیں۔

    تاہم نئی پالیسی کے ردعمل میں سندھ حکومت نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ اگرچہ حتمی فیصلے سے قبل اس پر ایک مرتبہ پھر نظرثانی ضرور کرے گی، لیکن وہ وقت کے ساتھ صوبے کے نصاب تعلیم کو اپڈیٹ کرتے رہے ہیں اس لیے وہ اس میں تبدیلی کے خواہاں نہیں ہیں۔

    نئے یکساں قومی نصاب کے بارے میں ابتداء سے ہی ماہرین مختلف آراء کا اظہار کرتے آئے ہیں جن میں سے کچھ اس کے حق میں جبکہ بعض اس سے اختلاف رکھتے ہیں۔ ماہرتعلیم ڈاکٹر اے ایچ نیر کا کہنا ہے کہ تعلیمی اصلاحات کے یہ مقاصد حوصلہ افزا ہیں لیکن انہیں عملی جامہ پہننانے کے لیے یکساں قومی نصاب کا راستہ کافی نہیں ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تعلیم کے حوالے سے اہم مسئلہ نصاب کا بھی ہے تاہم اس کے ساتھ تعلیمی نظم میں بھی بہت بڑا خلا ہے، یہ نظام ابتری کا شکار ہے اور جس کی وجہ سے ملک کے ہر بچے کے لیے یکساں تعلیمی مواقع اور یکساں معیاری تعلیمی کا حصول مشکل ہو رہا ہے، اور اس کے تحت سماجی تناظر میں ان کی وہ فکری نشوونما بھی ممکن نہیں ہوتی جو ایک تعلیمی شعبے کا خاصہ ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ دنیا میں تعلیم کے شعبے میں خرچ کرنے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان کا 164 واں نمبر ہے جبکہ معیارِ تعلیم کے معاملے میں اس کا درجہ 94 ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleگوادر شہر کے گرد باڑ کی تنصیب: کیا یہ خطرے کا حل ہے؟
    Next Article 16 دسمبر کے نہ بھرنے والے گھاؤ
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by