Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»تمیم، ایردوان سربراہی اجلاس؟
    رواں تبصرے

    تمیم، ایردوان سربراہی اجلاس؟

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتدسمبر 18, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read0 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    آج اٹھارہ دسمبر سے ملائیشیا میں کوالالمپور سربراہی اجلاس شروع ہونے جارہا ہے جو اکیس دسمبر تک جاری رہے گا۔ اس میں چند مسلم ممالک کے سیاسی سربراہان سمیت دنیا کے 52 ملکوں سے 450 کے قریب شخصیات شرکت کررہی ہیں جس میں فلسطینی تنظیم حماس کی نمائندگی بھی نمایاں ہے۔ پہلا کوالالمپور سربراہی اجلاس دوہزار چودہ میں منعقد کیا گیا تھا، تب اس میں مختلف ممالک کے مسلم مفکرین اور علما مدعو کیے گئے تھے جنہوں نے عصرحاضر میں درپیش مسائل پر بات کی تھی۔ اس میں سعودی عرب کی نمائندگی بھی شامل تھی۔ تاہم حالیہ اجلاس کی نوعیت سیاسی ہے اور اس کا انعقاد جس ماحول میں ہورہا ہے اس کے سبب بالخصوص بعض خلیجی ریاستوں کو تحفظات ہیں۔

    سعودی عرب اس اجلاس کو او آئی سی کے متبادل کے طور پر دیکھ رہا تھا جس پر وہ اپنا اثرورسوخ رکھتا ہے۔ پچھلے چند ہفتوں سے اس کو ناکام بنانے کے لیے سفارتی کوششیں بروئے کار لائی جارہی تھیں۔ سعودی خبر رساں ایجنسی واس کے مطابق گزشتہ روز مہاتیر محمد کے سلمان بن عبدالعزیر سے رابطہ کرنے پر سعودی فرمانروا نے کہا کہ مسلم دنیا کے مسائل کے حل کے لیے پہلے ہی ایک تنظیم موجود ہے اس کے بعد ایک نئی تنظیم کا قیام اُمت کو تقسیم کرنے کا باعث بنے گا۔ جبکہ مہاتیر محمد کے دفتر سے یہ بیان جاری کیا گیا کہ کوالالمپور سربراہی اجلاس او آئی سی کا متبادل نہیں ہے۔ اِس کا مقصد ’’مسلم ممالک میں دہشت گردی، ان کی خارجہ سیاست، اسلاموفوبیا اور ایغور مسلمانوں کے مسائل‘‘ پر بات چیت کرنا ہے۔ واضح رہے کہ اجلاس کے میزبان مہاتیر محمد یمن جنگ کے حوالے سے سعودی عرب کو تنقید کا نشانہ بناچکے ہیں اور انہوں نے ایک دفعہ یہ بھی کہا کہ مسلم دنیا میں دہشت گردی کے خاتمے اور معتدل فضا کی ہمواری میں سعودی عرب ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

    سعودی اخبارات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان کسی ایسے منصوبے کا حصہ نہیں بنے گا جس کا ہدف خلیج کے دوست ممالک کے استحکام کو متأثر کرنا ہو۔ اس سے قبل انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو بھی شرکت سے معذرت کرچکے ہیں۔ اخبار ’المواطن‘ نے اس اجلاس کو ’عرب دشمن‘ کے نام سے تعبیر کیا، جبکہ بعض اخبات اس کو قطر اور ترکی کی سعودی عرب کے خلاف سازش کے طور پہ دیکھتے ہوئے ’’تمیم، ایردوان سربراہی اجلاس‘‘ کے عنوان سے تعبیر کر رہے ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپاکستانی بحران دراصل سیاسی جماعتوں کا بحران ہے
    Next Article دینی مدارس کی رجسٹریشن میں کون رکاوٹ ہے؟
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by