Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»’پاکستان میں انسدادِ پولیو پروگرام سیاسی فٹبال بن چکا ہے‘
    رواں تبصرے

    ’پاکستان میں انسدادِ پولیو پروگرام سیاسی فٹبال بن چکا ہے‘

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتنومبر 20, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    انٹرنیشنل مانیٹرنگ بورڈ جوعالمی سطح پر پولیو کے پھیلاؤ اور اس کی روک تھام کی کارکردگی کا جائزہ لیتا ہے، اس نے گزشتہ روز یہ بیان جاری کیا ہے کہ دوہزار اٹھارہ کے شروع میں پاکستان میں پولیو کی بیماری اختتام کے قریب تھی لیکن اب جو صورتحال ہے اس نے ہمارے اندازوں کو اُلٹ کر رکھ دیا ہے۔ بالخصوص خیبرپختونخوا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ صوبہ دنیا سے پولیو کو جڑ سے اُکھاڑنے میں سب بڑی رُکاوٹ ہے۔غیرسنجیدگی اور باہمی کھینچا تانی کی وجہ سے انسداد پولیو پروگرام ایک سیاسی فٹبال بن چکا ہے۔

    پوری دنیا میں اس مرض کے رپورٹ ہونے والے کیسز میں سے 80 فیصد کا تعلق پاکستان سے ہوتا ہے۔ ملک میں اس کے پھیلاؤ کے کئی اسباب اور متعدد رکاوٹیں ہیں، لیکن بنیادی طور پہ مستحکم سیاسی عزم کا فقدان اس کی بڑی وجہ ہے۔ یہ بیماری ان علاقوں میں زیادہ ہے جہاں اس کے حوالے سے سماجی سطح پر غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں اور اس بنا پر ذمہ دار سیاسی طبقے پر اس کو ختم کرنے کا بہت زیادہ عوامی دباؤ نہیں ہوتا نہ ویکسین کی فراہمی کا مطالبہ کیا جاتا ہے، اس لیے یہ پروگرام سست روی کا شکار بھی رہتا ہے اور اسے تجربہ کار افراد کے ہاتھ سونپنے کی بجائے من پسند تعلق دار عناصر کے سپرد کردیا جاتا ہے۔ جب بھی نئی حکومت آتی ہے تو ناتجربہ کار افراد کی نئے سرے سے بھرتیوں کی وجہ سے پہلے سال اس کے کیسز میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ابھی بین الاقوامی مانیٹرنگ بورڈ کے بیان کے بعد حکومت نے انسدادپولیو پروگرام کے سابق سربراہ کو واپس لانے کا عندیہ دیا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ذمہ دار سیاسی طبقہ اس مہلک مرض کے خاتمے کے لیے کتنا سنجیدہ ہے کہ اگر عالمی دباؤ نہ ہو تو مناسب وضروری اقدامات کرنے کا امکان ہی نہیں ہوتا۔

    اس وقت پاکستان میں پولیو ویکسین کی فراہمی کاسب سے زیادہ مسئلہ فاٹا اور بلوچستان میں ہے اور ان دونوں حصوں میں صحت عامہ کا ڈھانچہ تقریباََ نہ ہونے کے برابر ہے۔ فاٹا میں تو سکیورٹی وجوہات کے سبب انسدادِ پولیومہم بھی تسلی بخش طریقے سے نہیں چلائی جاسکتی۔ پنجاب میں ویکسین کی کامیاب فراہمی 75 فیصد علاقے میں ہوتی ہے جبکہ فاٹا اور بلوچستان میں یہ تناسب پینتالیس فیصد ہے۔ دونوں افغانستان کے سرحدی علاقے ہیں جو پولیو سے متأثرہ ملک ہے۔ اس لیے ان علاقوں میں اس بیماری کے خاتمے کی مہم زیادہ بہتر طریقے سے چلانے کی ضرورت ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleسامراجیت ’کافی‘ کے کپ میں بھی دیکھ سکتے ہیں
    Next Article نقوشِ بلتستان
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by