Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»ماحولیاتی آلودگی کا خطرہ اور ہمارے عارضی حل
    رواں تبصرے

    ماحولیاتی آلودگی کا خطرہ اور ہمارے عارضی حل

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتنومبر 7, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    گزشتہ شام لاہور میں سموگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی میں شدید اضافہ ہوا جس کے بعد پنجاب حکومت کی جانب سے جمعرات کے دن شہر میں سکولوں کوبند رکھنے کا اعلان کیا گیا ۔ شہر میں ایئر کوالٹی انڈیکس 580 ریکارڈ کیاگیا جو خطرناک سطح ہے۔

    پاکستان میں سموگ اب موسمی مسئلہ بن گیا ہے جو پچھلے چار برسوں سے مسلسل ملک کے بعض شہروں، بالخصوص لاہور کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے جس کی وجہ سے نظام زندگی متاَثر ہوتا اور شہری زیادہ تعداد میں بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ چلڈرن ہسپتال لاہور کی رپورٹ کے مطابق حالیہ چند سالوں کے دوران بچوں میں سانس اور چھاتی کے امراض میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔

    حکومت نے سردیوں کے سموگ سے بچنے کے لیے ملک میں پہلے سے بعض اقدامات اٹھائے تھے جن میں فصلوں کا بھوسہ جلانے پر پابندی، اینٹوں کے بھٹوں کی بندش اور فیکٹریوں کو ٹیکنالوجی میں بہتری لانے کے نوٹس جاری کرنا اور ان کا معائنہ وغیرہ شامل تھے۔ لیکن اس کے باوجود سموگ کے ایئر کوالٹی انڈیکس کا ریکارڈ تشویشناک ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ سموگ کی وجوہات کے اعتبار سے مسئلہ صرف خاص حدود میں پابندیاں لاگو کرنے سے حل نہیں ہوسکتا۔ پنجاب تحفظ ماحولیات کونسل کے مطابق سموگ کی پیدائش میں ہماری انڈسٹری کا حصہ صرف دو فیصد ہے، ملک میں انڈسٹری کا حلقہ ویسے بھی انتہائی محدود ہے، اگر اس پہ زیادہ باوَ ڈالا گیا تو معاشی نقصان ہوگا۔

    ماحولیاتی آلودگی شرح کے فرق کے ساتھ ساری دنیا کا مسئلہ ہے اور یہ عارضی نہیں بلکہ مستقل ہے۔ لہذا اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے تحفظ ماحولیات کے ملکی وعالمی اداروں کی تحقیق و نتائج سے استفادہ کرتے ہوئے منصوبہ بندی کے ساتھ اجتماعی کوششیں بروئے کار لانے اور اس حوالے سے ذرائع ابلاغ کے توسط سے آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے ۔ چندروز قبل ٹیلی گراف نے خبر دی کہ ایئر کوالٹی انڈیکس میں دنیا کے بیس آلودہ ترین شہروں میں پاکستان کے پانچ شہر شامل ہیں۔ یہ صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ ماحول و فضا کو صاف رکھنے کے لیے علمی تحقیقات و وسائل استعمال میں لائے جائیں۔ اس کے ساتھ رویوں کی تہذیب، قوانین کے اطلاق اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی منظم و مستقل بنیادوں پر سعی کی جائے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleقبائل کا اسلحہ کلچر اور کتاب کا عہد
    Next Article عرب جامعات کے طلبہ میں انتہا پسندی کی وجوہات (حکمتِ عملی اور تدابیر)
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by