Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»ایف اے ٹی ایف کی تلوار:کم وقت اور مشکل اہداف
    رواں تبصرے

    ایف اے ٹی ایف کی تلوار:کم وقت اور مشکل اہداف

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتنومبر 5, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے دو دن قبل جاری کردہ رپورٹ میں دہشت گردی کی معاونت کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے اُٹھائے گئے اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ پاکستان نے اگرچہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کافی کوششیں کی ہیں لیکن کئی معاملات میں ابھی تک خلاموجود ہیں۔ کالعدم تنظیموں کی مالی معاونت کوپوری طرح نہیں روکا جاسکا، بعض جماعتیں جہادی ٹریننگ کاعمل جاری رکھے ہوئے ہیں اور اپنی ذیلی شاخوں کے توسط سے انتخابات میں حصہ بھی لیتی ہیں۔ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان نے افغان امن مذاکرات میں تعاون کیا ہے تاہم ملک کے مخصوص علاقوں میں تحریک طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے عناصر متحرک ہیں۔ واضح رہے کہ ایف اے ٹی ایف کے زیرعتاب ممالک بارے تنظیم کی حتمی رپورٹ کے فیصلے میں امریکا کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے۔

    پاکستان گزشتہ ماہ اپنے تین دوست ممالک کے ووٹ کی وجہ سے بلیک لسٹ ہونے سے محفوظ رہا تھا، تاہم ایف اے ٹی ایف نے اسے فروری تک کا مزید وقت دیا تھا جس میں پاکستان کو ان تمام شقوں پر عملدرآمد ممکن بنانا ہے جن میں عالمی ترجیحات کے مطابق کامیابی کا حصول ممکن نہیں ہوسکا تھا۔

    تنظیم کے سربراہ نے پاکستان کو متنبہ کیا تھا کہ آپ کے پاس کرنے کے لیے بہت سارا کام اور وقت کم ہے۔ اس انتباہ کے بعد امریکا کی طرف سے آنے والابیان اس امر کا اشارہ ہے کہ حالات پاکستان کے لیے انتہائی غیرموافق ہیں۔ صرف تین ماہ کا وقت باقی ہے جس میں بلیک لسٹ ہونے سے بچنے کے لیے تسلی بخش کارکردگی پیش کرنی ہے، لیکن حکومتی مشینری اور متعلقہ ادارے داخلی سطح پر سیاسی کھینچا تانی میں مصروف ہیں۔ اس سے قبل تنطیم کے ایکشن پلان میں طے کیے گئے 27 میں سے صرف 5 اشاریوں میں مکمل عملدرآمد یقینی بنایا گیا تھا۔ ایف اے ٹی ایف کا لاگوکردہ پروگرام اتنا وسیع اور تفصیلی ہے کہ اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے خاطرخواہ استعداد اور تیزرفتاری درکار ہے۔

    سیاسی عدم استحکام میں تسلسل اور مایوس کن معاشی اشاریے حکومتی مشینری کے ارتکاز کو مزید تقسیم کرنے اور اس کی عملی صلاحیت کو کمزور کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ تنظیم کی گزشتہ ماہ کی حتمی رپورٹ کے بعد بظاہر اس حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔ ضرورت ہے کہ حکومت اور ذمہ دار حلقے فی الوقت اپنی تمام تر توجہ اس پر مرکوز کریں کہ یہ مشکل ہدف کیسے پار کرنا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleاجتماعی اجتہاد کی ضرورت اور علما کی لاتعلقی
    Next Article داعش کا نیا سربراہ کون ہے؟
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by