Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»صحت کا شعبہ: رواں سال عوام کے لیے مشکل ترین
    رواں تبصرے

    صحت کا شعبہ: رواں سال عوام کے لیے مشکل ترین

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتستمبر 30, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    پاکستان وزارت صحت کے مطابق ملک میں پچھلے چوبیس گھنٹوں میں مزید 215 افراد ڈینگی سے متأثر ہوئے ہیں۔ اس وائرس کا شکار ہونے والوں کی کُل تعداد سولہ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ 23 ستمبر کو یہ تعداد 10 ہزار 13 تھی۔ ڈینگی بخار کے نتیجے میں پچیس کے قریب شہری وفات پاچکے ہیں۔ اس کے علاوہ دو دن قبل جاری ہونے والے بیان کے مطابق پاکستان میں پولیو کے مریض بچوں کی تعداد 69 تک پہنچ گئی ہے۔

    ڈینگی وائرس دو ہزار گیارہ سے ہر سال ملک کے مختلف علاقوں میں حملہ آور ہوتا ہے جس سے نمٹنے کے لیے موسم سے قبل اقدامات شروع کردیے جاتے ہیں، لیکن اس سال بروقت ضروری اقدامات نہیں اٹھائے گئے جس کی وجہ سے یہ وائرس قابو سے باہر ہوچکا ہے۔ غیرسنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ دو ہفتے قبل تک حکومتی ذمہ داران ڈینگی کو بڑا خطرہ تسلیم کرنے کے لیے ہی تیار نہیں تھے۔ خیبرپختونخوا میں اس بیماری کے 1189 کیسز رپورٹ ہوچکے تھے تب وزیراعلیٰ محمود خان کہہ رہے تھے کہ وائرس کا پھیلاؤ بڑے پیمانے پر نہیں ہے، غلط خبریں پھیلانے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔

    پولیو سے متأثرہ بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان میں جب بھی حکومت بدلتی ہے تو اپنی جماعت سے نئی اور ناتجربہ کار بھرتیوں کی وجہ سے پولیو پروگرام متأثر ہوتا ہے اور حکومت کے پہلے سال اس کا شکار ہونے والوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوجاتا ہے۔ گزشتہ حکومت کے پہلے سال میں بھی ان کی تعداد 306 ہوگئی تھی جو دو ہزار اٹھارہ میں گھٹ کر 12 تک آگئی۔ اب نئی حکومت کے پہلے سال میں پولیو سے متأثر ہونے والے بچوں کی تعداد میں ایک بار پھر مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ افغانستان اور پاکستان کے علاوہ ساری دنیا پولیو فری ہوچکی ہے۔ اگر پاکستان میں پولیو پروگرام کو سیاسی وابستگیوں کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے تو معذور شہریوں کی تعداد میں مزید اضافے کو روکا جاسکتا ہے۔

    رواں سال ایک تو ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے بھی عام آدمی پر بوجھ کو بڑھا دیا ہے، اس کے علاوہ کینسر کی بیماری کا شکار رجسٹرڈ مریضوں کی ادویات بھی بند کردی گئی ہیں جنہیں پہلے یہ مفت سہولت دی جا رہی تھی۔ کینسر کی ادویات پہلے ہی آسانی سے دستیاب نہیں تھیں، اب سرکاری سہولت کی بندش کے بعد ان ادویات کی بلیک مارکیٹنگ شروع ہوگئی ہے اور قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوگیا ہے جس کی وجہ سے متأثرہ افراد ان کو خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔ صحت کے شعبے میں ایسی ناورائی اور احساس ذمہ داری کا فقدان عوام کے لیے دن بدن مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleورچوئل رئیلٹی اور انفارمیشن کا دور، ہم اپنی شخصیت اور سکون کھو رہے ہیں
    Next Article پاکستانی جامعات میں دم توڑتی طلبہ سوسائٹیز
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by