Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»’مشن کشمیر‘: یہ طویل جدوجہد ہے
    رواں تبصرے

    ’مشن کشمیر‘: یہ طویل جدوجہد ہے

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتستمبر 25, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    وزیراعظم عمران خان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے لیے امریکہ میں موجود ہیں۔ اس دورے کو انہوں نے ’’مشن کشمیر‘‘ کا عنوان دیا ہے۔ انہوں نے پچھلے دو دنوں میں صدر ٹرمپ سمیت دیگر کئی ممالک کی اہم شخصیات کے سامنے اپنے موقف کو پیش کیا۔ مقبوضہ کشمیر کی حیثیت میں تبدیلی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان زیادہ مؤثر انداز میں اور بڑے پلیٹ فارم پر دنیا کے سامنے بھارت کے جبر اور کشمیریوں کے حقوق  کے مسئلے کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    اگرچہ ردعمل میں سکوت کی کیفیت برقرار ہے اور اسمبلی میں خطاب کے بعد بھی کسی معجزے کی توقع نہیں، اس سے پہلے ٹرمپ کی مودی کے جلسے میں شرکت نے بھی یہ تأثر چھوڑا ہے کہ پاکستان کو ہزیمت کا سامنا ہے۔ لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستانی اور بھارتی حکام کی آوازوں اور زور میں فرق کے باجود کشمیریوں کے حقوق کا مسئلہ اور اس کی انسانی، اخلاقی اور قانونی حیثیت کا مسلمہ ہونا اپنی جگہ باقی ہے جس کا کسی نے انکار نہیں کیا۔

    دونوں ممالک کے مابین طاقت کے توازن میں عدم یکسانیت اور پاکستان کی تشدد پسندی کی شہرت کشمیر کے قضیے میں کامیابی کے حصول کو وقت طلب بناتی ہے کہ یہ جدوجہد طویل ہے، لیکن یہ جدوجہد ناکامی پر منتج نہیں ہوسکتی بشرطیکہ پاکستان اپنی صلاحیتیں منظم اور نپے تُلے انداز میں ایک ادارہ جاتی حیثیت میں صرف کرے۔ اس لمبی جنگ میں سب سے اہم چیز اپنے خول سے باہر اور آسان و دستیاب حدود سے نکل کر مسئلے کو مسلسل اور بلند آواز میں زندہ رکھنا ہے۔

    مودی کا امیج عالمی صحافت میں ایک حد تک منفی تأثر رکھتا ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے اس پر ایک عرصے سے تنقید ہو رہی ہے۔ اس تأثر کو پختہ کرنے میں بھارت کے سیکولر دانشور طبقے کا حصہ بھی شامل ہے۔ آرٹیکل 370 کی معطلی کے بعد عالمی صحافت میں پاکستان کا کردار نظر آنا چاہیے تھا جو بدقسمتی سے اب تک معدوم ہے۔

    اقوام متحدہ کے علاوہ او آئی سی ایک فوری دستیاب فورم تھا جس تک حکومت نے اپنا موقف پہنچایا اور نوٹس لینے کا مطالبہ کیا لیکن دنیا کی دیگر متعدد انسانی حقوق کی تنظیموں کو اپنے حق میں فعال کرنے کی جامع منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ یہ تنظیمیں دنیا میں رائے عامہ تشکیل دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسی طرح ماہرین کی طرف سے اپنے سفارتی عملے کو ایک پلان دے کر فعال بنانے کے ساتھ ملک کے اندر غیرملکی سفارتی حلقے سے بہتر رابطہ کاری پر بھی زور دیا جارہا ہے جو یقیناََ مفید ثابت ہوسکتی ہے۔

    اگرچہ اقتصادی توانائی اور تشدد کی شہرت سے چھٹکارا کشمیر کے مسئلے میں پاکستانی موقف کی دنیا میں مقبولیت اور نتائج کے حصول کے لیے لازمی و اساسی عنصر کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن اس مسئلے کو مسلسل زندہ رکھنا بھی ایک چیلنج ہے۔ عالمی صحافت، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور سفارتی حلقے کے ساتھ مؤثر رابطہ کاری اسے زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے، جس کی حیثیت ایک طویل جنگ میں ہدف کے حصول کے لیے بنیاد کی سی ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleٹریفک حادثے اور ہمارے غیر ذمہ دارانہ رویے
    Next Article کیا مولانا کو روکا جاسکتا ہے؟
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by