Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»صحت مند و خوشگوار زندگی سیکھنے کی ضرورت
    رواں تبصرے

    صحت مند و خوشگوار زندگی سیکھنے کی ضرورت

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتستمبر 13, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ  کے مطابق پاکستان میں 35 سے 40 فیصد افراد اعصابی تناؤ اور ڈپریشن کا شکار ہیں اور اس تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ متأثرہ افراد میں زیادہ تر خواتین ہیں جس کی وجہ سے گھروں کے اندر بچوں پر بھی اس کے اثرات پڑتے ہیں۔ پاکستان میں ہر چار میں سے ایک بچہ بلوغت سے قبل  کم ازکم ایک دفعہ شدید ذہنی تناؤ کی حالت سے گزرتا ہے۔

    پاکستان جیسے ملک میں جہاں لاقانونیت، بے روزگاری، مہنگائی، عدم استحکام اور دیگر  کئی طرح کے مسائل  کا انبار ہو وہاں ڈپریشن اور ذہنی تناؤ کا عام ہونا تعجب کی بات نہیں۔ لیکن اس مسئلے میں مزید اضافہ ڈپریشن کو بیماری نہ سمجھنا اور حکومتی وسماجی سطح پر اس کے علاج معالجے  کے لیے کاوشوں کے نہ ہونے کی وجہ سے ہوجاتا ہے۔ لوگ اس کو مرض ہی خیال نہیں کرتے بلکہ ایسی عارضی حالت سمجھتے ہیں جس کے لیے  میڈیکل سٹور سے درد یا سکون کی کوئی گولی لینا کافی ہوتا ہے۔ یا پھر تعویذ گنڈوں کے مراکز کی طرف رجوع کیا جاتا ہے جہاں غیر علمی توجہیات کے ذریعے مزید اعصابی دباؤ کا شکار بنادیا جاتا ہے۔

    گزشتہ برس رکن قومی اسمبلی نزہت پٹھان نے پارلیمنٹ میں صحت کے امور پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صرف اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال پمز میں ایک سال کے دوران ڈپریشن اور ذہنی تناؤ کے 39 ہزار مریض رجسٹرڈ ہوئے۔ اس صورتحال میں معاشرے کے اندر تشدد ہی غالب نظر آئے گا۔ راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر اسد نظامی  نے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پورے ملک میں نفسیاتی اور ڈپریشن کا شکار افراد کا معیاری اور جدید اصولوں کے مطابق علاج کرنے والے محض پانچ سے چھ ڈاکٹر ہیں، ورنہ عام طور پہ ایسے مریضوں کو گولیاں اور دوائیاں دینے پر اکتفا کیا جاتا ہے جو زیادہ تر سکون کی یا نشہ آور ہوتی ہیں۔ اس طرح کا علاج اور کئی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔

    ڈپریشن اور اعصابی تناؤ  حقیقی اور خطرناک بیماری ہے جو علاج اور آگاہی کے حوالے سے ریاستی وسماجی سطح پر بڑے اقدامات کی متقاضی ہے۔ انفرادی طور پہ بھی شہریوں کو کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک نارمل و فعال زندگی گزارنے اور بچوں کو بھی محفوظ واطمینان بخش ماحول فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ رویوں میں ہیجان اور تشدد نہ پیدا ہونے دیا جائے جو ڈپریشن سے جنم لیتا ہے۔ اگر ایسا عارضہ لاحق ہو تو اس سے فوری چھٹکارے کی کوشش کرنی چاہیے، نہ یہ کہ تناؤ کے مجموعی ماحول میں اسی کو ہی نارمل خیال کرلیا جائے۔ اس حالت سے نکلنے کے لیے مسلسل علاج اور ریاضت کی حاجت ہوتی ہے۔ خوش رہنا حق ہی نہیں بلکہ فریضہ ہے۔ سیاسی، سماجی اور معاشی طور پہ ناہموار ماحول میں ایک صحت مند وخوشگوار زندگی سیکھنے کی اہمیت وضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleایڈم سمتھ نے کن بنیادوں پر نوآبادیاتی نظام، غلامی اور نسلی برتری کے نظریات کو رد کیا؟
    Next Article عام آدمی کی تاریخ کبھی نہیں لکھی گئی
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by