Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»تھانہ کلچر اور ماضی کی دو درجن رپورٹس
    رواں تبصرے

    تھانہ کلچر اور ماضی کی دو درجن رپورٹس

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتستمبر 6, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    چند دن پہلے مبینہ طور پہ ایک ذہنی معذور شہری صلاح الدین ایوبی کو اے ٹی ایم مشین توڑ کر کارڈ چوری کرنے کے جرم میں پولیس نے گرفتار کیا۔ ایک دن یہ خبر چلی، اگلے روز لوگوں نے سنا کہ پولیس تحویل میں تشدد کے ذریعے اس کی موت واقع ہوگئی ہے۔ اس سے قبل لاہور میں ایک غیر قانونی نجی ٹارچر سیل بھی دریافت ہوا جسے ایس ایچ او کی سربراہی میں چلایا جارہا تھا۔ وہاں سے بازیاب کرائے جانے والے نوجوانوں میں سے بھی دو کی موت واقع ہوچکی ہے۔ تھانہ کلچر کے خلاف عوام کے مسلسل احتجاج کے بعد آج پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے اعلان کیا ہے کہ صوبے میں اس نظام  کو تبدیل کرنے کے لیے کوششیں تیز کی جارہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حوالات میں بند ملزمان سے ماورائے قانون کوئی  اقدام برداشت نہیں ہوگا۔ پولیس کو جدید تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کیا جائے گا۔

    پاکستان میں معمولی تبدیلی کے ساتھ 1861ء والا برٹش راج والا انتظامی ڈھانچہ رائج ہے جو عوام کے تحفظ  کی بجائے بالادست طبقے کے مفادات کے تحفظ کا کام کرتا ہے۔ پاکستان میں پولیس اصلاحات  کے لیے آزادی کے بعد سے ہی آوازیں اٹھائی جا رہی ہیں اور عوام کی طرف سے مسلسل مطالبہ کیا جاتا رہاہے لیکن اسے کبھی عملی جامہ نہیں پہنایا گیا۔ آزادی کے فوراََ بعد 1948 میں سندھ اسمبلی کے اندر ایک بِل پیش کیا گیا تھا جس میں کراچی پولیس کو جدید قوانین و ضوابط اور ڈھانچے سے آراستہ کرنے کی بات کی گئی تھی، یہ بِل منظور تو کرلیا گیا لیکن اس پر کبھی عملدرآمد کی نوبت نہیں آئی۔ ستر سالوں میں اس مقصد کے لیے حکومتی سطح پر دو درجن کے قریب کمیشن تشکیل دیے گئے۔ ان کی پیش کردہ رپورٹس اور سفارشات کہیں ردی کی ٹوکریوں میں پھینک دی جاتی ہیں۔ لہذا یہ شعبہ اپنی استحصالی نفسیات کے ساتھ اسی طرح قائم ہے اور کمزور کو خوفزدہ کر رہا ہے۔ سیاسی جماعتوں کی مجرمانہ اور ذاتی مفادات پر قائم  کوتاہی، بیوروکریسی کی مزاحمت اور کالونیل عنصر کی باقیات کے سبب یہ شعبہ اشرافیہ کا نوکر اور عوام دوست ہونے کی بجائے اس کا دشمن سمجھا جاتا ہے۔

    رواں سال جنوری میں چیف جسٹس ثاقب نثار (ر) نے بھی اپنی سربراہی میں پولیس ریفارمز کمیٹی کی ایک رپورٹ لانچ کی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ حقوق کی فراہمی اور منصفانہ ٹرائل میں پولیس کا کردار بنیادی ہوتا ہے۔ اس شعبے کے احتسابی عمل، شکایات درج کرانے کو آسان بنانے، تحقیقات کو شفاف رکھنے اور رویہ جاتی اصلاح کے ساتھ  کئی دیگر امور رپورٹ کی تجاویز کا حصہ تھے۔ جو جوش وخروش کے ساتھ جاری تو ہوئی لیکن اس کےبعد  کوئی نتائج سامنے نہیں آئے۔ پولیس اصلاحات کا ایجنڈا تحریک انصاف کے پچھلے انتحابات کے منشور کا حصہ بھی تھا، جس میں یہ عہد کیاگیا تھا کہ اس شعبے کے اندر اخلاقی، تنظیمی اور تربیتی حوالے سے بہتری لائی جائے گی۔ اسے سیاسی اثرورسوخ سے بھی آزاد کیا جائے گا۔ لیکن یہ بھی ممکن نہیں ہوا۔

    حکومتی اور نجی تنظیموں  کے متعدد سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ عوام سب سے زیادہ پولیس کے شعبے سے خوف محسوس کرتے ہیں اور اس پر اعتماد نہیں کرتے۔ پھر آخر کیا وجہ ہے کہ دیگر شعبوں میں تو کسی حد تک بہتری لانے کی سعی کی جاتی ہے لیکن اسے بالکل توجہ نہیں دی جاتی۔ پولیس کا نظم براہ راست عوام کی روزمرہ زندگیوں کے ساتھ متعلق ہے اور ان کے قریب تر ہے۔ اس شعبے میں لائی جانے والی بہتری عام آدمی کو فوری فائدہ پہنچائے گی۔ لیکن فرسودہ سیاسی کلچر، اشرافیہ کی استحصالی نفسیات اور مقتدر گروہوں کے مفادات ایسا نہیں ہونے دیتے۔ اب بھی ایک اور کمیشن تو بن جائے گا لیکن تبدیلی کا امکان شاید نہ ہو۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleگلگت بلتستان میں صحت کے شعبے کو درپیش مسائل
    Next Article میں اُمہ کو ایک حقیقت سمجھتا ہوں
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by