Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»منافرت پر مبنی تقریریں ،حالات کس رُخ پر جا رہے ہیں ؟
    رواں تبصرے

    منافرت پر مبنی تقریریں ،حالات کس رُخ پر جا رہے ہیں ؟

    رواں تبصرےBy رواں تبصرےجولائی 17, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    خادم حسین رضوی کی شعلہ بیانی ’’نیشنل ایکشن پلان ‘‘ کے تحت اشتعال انگیز تقریر کے زمرے میں آتی ہے وہ سرِعام حکومت ، دفاعی اداروں اور قانون کو للکارتے نظر آتے ہیں مگر حکومت ان کے سامنے بے بس نظر آتی ہے ۔

    راولپنڈی کوہاٹ روڈ پنجاب کو خیبر پختواہ سے ملانے والی بین الصوبائی شاہراہ ہے ۔ اتوار کے روز یہ اہم شاہراہ اسلام آباد کے نئے بین الاقوامی ائیرپورٹ سے چند کلومیٹر دور ایک قصبے قطبال کے مقام پر آٹھ گھنٹے بلاک رہی ۔اسی مقام سے سی پیک کا مغربی روٹ بھی نکل رہا ہے ۔روڈ بلاک کی وجہ مولوی خادم حسین رضوی کی ایک مقامی درگاہ میں تقریر تھی ۔چو ہدری خادم حسین کی ضلع میں آمد اور تقریر پر پابندی تھی مگر اس کے باوجود مقام گدی نشین نے انہیں بلایا تقریر کروائی اور روانہ کردیا ۔پولیس نے جب اس قانون شکنی پر گدی نشین کو گرفتار کیا تو ان کے مریدین نے تھانے پر حملہ کرکے  تھانے کو نقصان پہنچایا  ،گدی نشین کو رہا کروایا ،اہلکاروں کی پٹائی کی اور ریکارڈ جلا دیا ۔بعد ازاں انہوں نے یہ اہم شاہراہ بھی بلاک کر دی ۔

    خادم حسین رضوی  کی  شعلہ بیانی ’’نیشنل ایکشن پلان ‘‘ کے تحت اشتعال انگیز تقریر کے زمرے میں آتی ہے  جس سے معاشرے میں نفرتوں کو ہوا ملتی ہے ۔ان پر کئی اضلاع میں پابندی ہے مگر اس کے باوجود ان کی تقریریں جاری ہیں ان تقریروں میں وہ سرِعام حکومت ، دفاعی اداروں اور قانون کو للکارتے نظر آتے ہیں مگر حکومت ان کے سامنے بے بس نظر آتی ہے ۔قطبال میں پیش آنے والا واقعہ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ وہ امن و امان کے لئے ایک سنگین چیلنج بن چکے ہیں ۔پولیس اور حکومت روایتی انداز میں ان سے نمٹ رہی ہے جس سے حالات مزید خراب ہو رہے ہیں اور  نیشنل ایکشن پلان پر بھی سوالیہ نشان اٹھ رہے ہیں ۔

    مذہب پاکستان میں انتہائی حساس مسئلہ بنتا جا رہا ہے ۔قوم کو مزید ٹکڑوں میں بانٹا جا رہا ہے ۔انتشار کے بعد ایک اور انتشار سامنے ہے ۔ایک جنگ کا ایندھن ابھی ختم نہیں ہوا دوسری جنگ کی منصوبہ بندی  ہورہی ہے ۔

    اپنی آراء سے نوازیں ،کہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے کیا اقدامات ضروری ہیں :

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleسائبر ٹیررازم کے قوانین پر عمل در آمد کیوں نہیں ہوا ؟
    Next Article موصل سےخلیج تک
    رواں تبصرے

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by