Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»14 اگست: اتنا مشکل سفر تو نہیں تھا جتنے پاؤں میں چھالے پڑے ہیں
    رواں تبصرے

    14 اگست: اتنا مشکل سفر تو نہیں تھا جتنے پاؤں میں چھالے پڑے ہیں

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتاگست 14, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    آج پاکستان میں 73 واں یومِ آزادی منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے تمام پاکستانیوں کو دلی مبارکباد پیش کی ہے اور کہا ہے کہ آج ہم سب عزم کریں کہ پاکستان کو ترقی یافتہ اور خوشحال بنانے کے لیے بھر پور کردار ادا کریں گے۔ آج کے یوم آزادی کی یہ خصوصیت بھی ہے کہ اسے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر منایا جا رہا ہے۔

    آزادی بلاشبہ بہت بڑی نعمت ہے اور اس پر خوشی کا اظہار بھی عین فطری ہے لیکن پاکستان میں آزادی کا مطلب ایک تاریخ سے دوسری تاریخ کی جانب انتقال ہے۔ یہ 14 اگست 1947 سے قبل اور اس کے بعد کی تاریخ کے مابین تفریق کا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں سال بدل جاتے ہیں مگر حالات اور سوالات نہیں بدلتے۔ ہر یوم آزادی پر وہی امور زیربحث آتے ہیں جو پچھلے اگست میں تھے۔ بطور قوم ہماری عمر تو بڑھ رہی ہے اور ہمارے جسمانی قد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے لیکن ہم ریاست کی جانب سے متعین کی گئی آزادی کے جس پنجرے میں قید کیے گئے ہیں وہ جوں کا توں ہے۔ ہم تاریخ کی خوشی مناتے ہیں لیکن محدود آزادی کے پنجرے کا کرب بھی ساتھ محسوس کرتے ہیں۔

    ہم خوشحالی اور ترقی چاہتے ہیں اور ہر سال بھرپور عزم بھی دہراتے ہیں۔ لیکن کیسے اور کس نوعیت کی؟ اس پر نہ بات کی جاتی ہے اور نہ گنجائش موجود ہے۔ کیونکہ یہ تشخص کا سوال ہے جو اپنے ضمن میں ڈھیر سارے ایسے سوالات رکھتا ہے جو آزادی کی حدود کو توڑ سکتے ہیں۔

    آزادی لامحدود ہوتی ہے۔ اس میں جبر کا شائبہ نہیں ہوتا۔ یہ وہ فضا ہوتی ہے جس میں انسانی حقوق، سماجی مساوات، جمہوریت، شہریت، شعور، علم، فن، خوشبو، ہر شے کی بات کی جاسکتی ہے۔ اگر کسی شے پر قدغن ہو تو اسے حقیقی آزادی سے کیسے تعبیر کیا جاسکتا ہے؟

    اس تناظر میں آزادی کی بنیاد تشخص کے تعین اور ریاست و شہریت کے مابین متوازن تعلق کے قیام پر استوار ہوتی ہے، ورنہ تاریخ آگے بڑھتی رہے گی لیکن حالات اور سوالات نہیں بدلیں گے۔ یوں آزادی کی رسمی خوشی، کرب کا اذیت ناک احساس بھی ساتھ لائے گی۔ اگر سمت کا تعین ہو جاتا تو ترقی و خوشحال کی منزل اتنی مشکل نہ ہوتی جتنی کہ بن گئی ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleہندو مسلم دشنمی، سرسید احمد خان کی فکر کے تناظر میں
    Next Article سرکاری تعلیمی اداروں کے اساتذہ اپنا احتساب بھی کریں
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by