Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»تما م آرٹیکلز»خیبرپختونخوا اسمبلی ، خواتین اراکین کی متاثر کن کارکردگی
    تما م آرٹیکلز

    خیبرپختونخوا اسمبلی ، خواتین اراکین کی متاثر کن کارکردگی

    سجاد علیBy سجاد علیجولائی 12, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read0 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    چودہ وزراء کی کابینہ میں صرف ایک خاتون وزیر ، اٹھارہ پارلیمانی سیکرٹریز میں صرف ساتھ خواتین سیکرٹریز اور 38پارلیمانی کمیٹیوں میں صرف چار کمیٹیوں کی چیئرمین کا منصب خواتین کے پاس ہے

    صوبہ خیبر پختونخوا کی آبادی کا نصف حصہ خواتین پر مشتمل ہے جن کی نمائندگی ایوان میں موجود 22خواتین کررہی ہیں، آبادی کے تناسب سے ایوان میں موجود ایک خاتون پانچ لاکھ چھیانوے ہزار چھ سو باؤن خواتین کی نمائندہ ہے جبکہ ایک مرد رکن اسمبلی ایوان میں ایک لاکھ تیس ہزار چونسٹھ افراد کی نمائندگی کررہا ہے، مئی 2013ء سے فروری 2017ء تک خیبرپختونخوا اسمبلی کے ریکارڈ کے مطابق خواتین اراکین اسمبلی مردوں کی نسبت زیادہ باقاعدگی سے اسمبلی اجلاس میں شریک ہوکر قانون سازی میں اپنا کردار ادا کرتی رہیں، حاضری کی مطابق خواتین اراکین اسمبلی اوسطاً167اجلاسوں میں شریک ہوئیں جو کل حاضری کا 76فیصد ہے جبکہ مرد اراکین اسمبلی اوسطاً 133اجلاسوں میں شریک ہوئے جو کل حاضری کا تقریباً 64فیصد ہے، بیشتر خواتین اراکین اسمبلی کی حاضری ستر فیصد سے زائد ہے۔ موجودہ دور حکومت میں خواتین اراکین پارلیمنٹ نے ایوان میں 693سوالات اُٹھائے جو کل سوالات کا بیس فیصد ہیں، سولہ فیصد تحریک التواء پیش کیں اور سترہ فیصد یعنی 47توجہ دلاؤ نوٹسز پیش کئے، خیبر پختونخوا اسمبلی  کی خواتین اراکین نے قانون سازی کرکے یا قرارداد کے ذریعے حکومت کو اپنی تجاویز پیش کرکے خواتین کے مسائل کیلئے اپنا کردار ادا کیا ہے، لیڈی ہیلتھ ورکر کے پروگرام کو مستقل کیا گیا جبکہ کام کرنے والی جگہوں پر خواتین کو تحفظ دینے اور بچے کو ماں کا دودھ لینے کے حوالے سے بھی قانون سازی کی گئی ہے۔ خواتین اراکین پارلیمنٹ نے خواتین پارلیمارنی کاکس اور ویمن ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے قیام کی ضرورت کو بھی محسوس کیا۔
    خواتین کی آباد ی کے لحاظ سے صوبائی اسمبلی میں ان کی نمائندگی بہت کم ہے، وہ کل آبادی کا صرف سترہ فیصد ہیں جبکہ صوبائی کابینہ اور اسمبلی کی کمیٹیوں میں بھی ان کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ چودہ وزراء کی کابینہ میں صرف ایک خاتون وزیر ، اٹھارہ پارلیمانی سیکرٹریز میں صرف ساتھ خواتین سیکرٹریز اور 38پارلیمانی کمیٹیوں میں صرف چار کمیٹیوں کی چیئرمین کا منصب خواتین کے پاس ہے۔ اسمبلی میں 17فیصد نشستیں خواتین کیلئے مخصوص کی گئیں ہیں جو خیبرپختونخوا اسمبلی میں 22نشستیں ہیں، تاہم کسی بھی خاتون پر جنرل سیٹ پر الیکشن لڑنے پر کوئی پابندی نہیں تاہم خیبرپختونخوا ملک کی واحد اسمبلی ہے جہاں 2013ء کے انتخابات میں کوئی بھی خاتون رکن اسمبلی جنرل سیٹ پر الیکشن جیت پر منتخب نہیں ہوئیں۔ حکمران جماعت یا ان کے اتحادیوں کی کل خواتین اراکین اسمبلی کی تعداد 14ہے جس میں تحریک انصاف کی دس، عوامی جمہوری اتحاد پارٹی ( جو تحریک انصاف میں ضم ہوچکی ہے) کی ایک، قومی وطن پارٹی کی دو اور جماعت اسلامی کی ایک خاتون رکن اسمبلی شامل ہیں، جبکہ اپوزیشن بینچوں پر موجود خواتین اراکین اسمبلی کی تعداد آٹھ ہے، جن میں پاکستان مسلم لیگ ن کی تین، جمعیت علماء اسلام کی تین ، عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی کی ایک ایک خاتون رکن اسمبلی شامل ہیں۔
    عوام کے مسائل کی نشاندہی کرنے کے لئے ایوان میں سوالات پوچھنے کا عمل انتہائی اہمیت کا حامل ہے، خیبرپختونخوا کی 22اراکین اسمبلی میں صرف دس خواتین نے اس عوام کے مسائل کو اجاگر کرنے کیلئے اس آپشن کا استعمال کیا، مسلم لیگ ن کی خاتون رکن اسمبلی صوبیہ شاہد نے سب سے ذیادہ 195سوالات پوچھے، جے یو آئی ایف کی نجمہ شاہین نے 193 اور عظمہ خان نے 120، قومی وطن پارٹی کی معراج ہمایوں نے 101اور مسلم لیگ ن کی آمنہ سردار نے 21سوالات پوچھے۔ خیبرپختونخوا اسمبلی کی خواتین اراکین 168میں سے 78قراردادوں کی حمایت کی، خواتین پارلیمنٹرین نے انفرادی طور پر بیس اور مرد اراکین اسمبلی کے ساتھ ملکر مجموعی طور پر 56قراردادیں پیش کیں جبکہ دو قراردادیں ایک سے زائد خواتین پارلیمنٹرین کی جانب سے مشترکہ طور پر پیش کی گئیں۔ صحت ، تعلیم اور روزگار سمیت مختلف شعبوں کے مسائل کو اجاگر کرنے کیلئے 277توجہ دلاؤ نوٹسز میں 47نوٹسز خواتین اراکین اسمبلی نے پیش کئے، جمعیت علماء اسلام کی خواتین پارلیمنٹرین نے 14، مسلم لیگ ن کی کی دو خواتین پارلیمنٹرین نے 13، جماعت اسلامی اور قومی وطن پارٹی کی خواتین نے سات، پاکستان پیپلز پارٹی کی خواتین پارلیمنٹرین نے چار جبکہ تحریک انصاف کی خواتین پارلیمنٹرین نے صرف دو توجہ دلاؤ نوٹسز پیش کئے۔
    خیبرپختونخوا اسمبلی میں کی جانے والی قانون سازی میں پانچ قوانین ایسے ہیں جو خواتین سے متعلق ہیں اور ان کا فائدہ بھی صوبے کی خواتین کو ہوگا، مذکورہ پانچ قوانین کی تفصیل درج ذیل ہے۔
    خیبرپختونخوا مستحق بیواؤں و خصوصی افراد فاؤنڈیشن ایکٹ ( دی خیبرپختونخوا ڈیزرونگ ویڈوز اینڈ اسپیشل پرنسز ویلفیئر فاؤنڈیشن ایکٹ 2014ء ) ، مذکورہ قانون اداروں میں کام کرنے والی مستحق بیواؤں کی فلاح و بہود کے حوالے سے ہے۔
    لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام اور ملازمین کی مستقلی ایکٹ 2014ء، مذکورہ قانون نیشنل پروگرام برائے فیملی پلاننگ اور ہیلتھ کئیر کو صوبائی لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کے طور پر اختیار کرنے اور 2012سے 2014کے درمیان بھرتی ہونے والی لیڈی ہیلتھ ورکرز کی مستقلی سے متعلق ہے۔
    بچوں کی خوراک اور ماں کا دودھ پلانے سے متعلق قانون سازی کو دی خیبرپختونخوا پروٹیکشن آف بریسٹ فیڈنگ اینڈ چائلڈ نیوٹریشن ایکٹ 2015 ء کا نام دیا گیا۔
    دی خیبرپختونخوا میٹرنٹی بینیفٹس ایکٹ 2015ء، مذکورہ قانون میں خواتین ملازمین کو زچگی سے پہلے یا بعد میں کوئی مخصوص کام کرانے جس میں جسمانی مشقت درکار ہو کی ممانعت کی گئی ہے۔
    دی خیبرپختونخوا کمیشن آن وویمن اسٹیٹس بل 2016ء، مذکورہ قانون خواتین کے تحفظ اور اسے بااختیار بنانے کیلئے کمیشن کے قیام سے متعلق ہے۔
    خیبرپختونخوا اسمبلی نے خواتین سے متعلق آٹھ قراردادیں منظور کی ہیں جبکہ خواتین پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے وویمن ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور وویمن پارلیمنٹری کاکس کے قیام کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ صوبائی اسمبلی نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے بھی دو قراردادیں پاس کی ہیں ، مرد رکن اسمبلی کی جانب سے لکی مروت میں نادرا کی برانچ میں خاتون اسٹاف کی تقرری کا مطالبہ کیا گیا ہے، ایوان میں خواتین کو ووٹ دینے کے حق سے روکنے اور خواتین کی سیاسی عمل میں حوصلہ آفزائی کیلئے قانون سازی کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
    مندرجہ بالا اعداد و شمار کے مطابق مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والی خواتین اراکین اسمبلی کی کارکردگی تسلی بخش ہے لیکن وفاقی و صوبائی حکومت کو چاہئے کہ قانون سازی میں خواتین کا کردار کو مزید موثر بنانے کیلئے عملی سیاست میں خواتین کے کردار کی حوصلہ افزائی کی جائے اور انہیں عملی اقدامات کرنے کے مواقع فراہم کئے جائیں تاکہ وہ معاشرے میں خواتین کے مسائل کو حل کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرسکیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleترک جمہوریت بمقابلہ پاکستانی جمہوریت
    Next Article الطاف حسین کے بعد اب نوازشریف: اسٹیبلشمنٹ مائنس تھری فارمولے میں کامیاب ہوجائے گی؟
    سجاد علی

    Related Posts

    روداد: نوجوانوں کے لیے ورکشاپ

    اکتوبر 22, 2026

    زیدیہ شیعہ تحریک اور حوثی سعودی تنازع کا پس منظر

    اکتوبر 22, 2026

    مسلکِ نوربخشیہ: تعارف اور پاکستان میں ادارہ جاتی نمائندگی کا جائزہ

    اکتوبر 22, 2026

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by