Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»عالمی دہشت گردی دنیا کو کیسے متأثر کر رہی ہے؟
    رواں تبصرے

    عالمی دہشت گردی دنیا کو کیسے متأثر کر رہی ہے؟

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتجولائی 12, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    سینٹر فار گلوبلائزیشن اینڈ ٹیررزم نے جُون میں اپنی رپورٹ شائع کی ہے جس میں دہشت گردی اور گلوبلائزیشن کے مابین تعلق پر بات کی گئی ہے، اور یہ بتایا گیا ہے کہ عالمگیریت کے عمل کے تیز ہونے کی وجہ سے ٹیکنالوجی اور کمیونیکیشن ذرائع  کے پھیلاؤ اور آسان رسائی نے دہشت گردی کے امکانات میں 47 فیصد اضافہ کردیا ہے۔ رپورٹ میں سال 2018 کے دوران دہشت گردی سے ہونے والے نقصانات و اثرات کا جائزہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ جس کے مطابق گزشتہ برس 77 ممالک  دہشت گردی کا شکار ہوئے جن میں مرنے والوں کی تعداد 18814 ہے۔ دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک سال کے اندر دنیا میں تقریباََ 52 ارب ڈالر خرچ کیے گئے۔

    عالمی دہشت گردی کتنے لوگوں کو متأثر کرنے اور اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہوئی، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے   کہ صرف عراق و شام میں داعش کی شکست کے بعد وہاں رہ جانے والے لڑاکوں کی تعداد چالیس ہزار کے قریب تھی جن میں 13 فیصد عورتیں اور 12 فیصد نوعمر بچے بھی شامل ہیں۔ مسلم انتہاپسند تنظیمیں جن افراد کو اپنے نیٹ ورک کا حصہ بنانے میں کامیاب ہوئیں ہیں ان کی اکثریت نوجوانوں کی ہے، اور ان میں سے 40 فیصد طلبہ ہوتے ہیں۔ جبکہ اس کے بالمقابل یورپ و امریکہ کے غیرمسلم دائیں بازو کے متشدد گروہوں سے متأثر ہونے والوں میں نوجوانوں اور طلبہ کا تناسب اس کے بالمقابل کم ہے۔ جن یورپی ممالک سے نوجوان، مسلم انتہا پسند جماعتوں میں شامل ہوتے ہیں ان میں سے برطانیہ، فرانس، جرمنی، بیلجیم، سویڈن، ناروے اور ڈنمارک سرفہرست ہیں۔

    رپورٹ شائع کرنے والے ادارے کے مطابق دنیا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی وجہ سے تمام ممالک کے شہریوں کی نجی زندگی اور آزادی بھی متأثر ہوئی ہے کیونکہ اس کے خطرات کے سبب حکومتوں نے سخت قوانین لاگو کیے۔ اس سے ادب اور فنون کے شعبوں پر بھی منفی اثر پڑا ہے۔ خوف اور بے چینی کے احساسات نے ادب وفن  کی کئی اصناف کو کمزور کیا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ سمیت کئی یورپی ممالک نے اگرچہ عالمی دہشت گردی کو شکست دیدینے کا دعویٰ کیا ہے لیکن یہ حقیقت کے زیادہ قریب نہیں ہے۔ اس کا خطرہ ہر جگہ ہر وقت موجود ہے۔ اس سے بچنے کے لیے حکومتوں کو اقدامات کرتے رہنا ہوں گے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleاستنبول میں دوبار شکست، ایردوان جمہوریت سے انتقام لیں گے؟
    Next Article شہزادی ھیا کے فرار سے کئی ممالک کے باہمی تعلقات متأثر
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by