Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»تعلیمی اداروں میں خودکشی کا بڑھتا رجحان
    رواں تبصرے

    تعلیمی اداروں میں خودکشی کا بڑھتا رجحان

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتجولائی 10, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    گزشتہ روز بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد کے انجیئنرنگ ڈیپارٹمنٹ سے ایک طالب علم نے خود کشی کرلی۔ نوجوان نے اس اقدام سے قبل ایک خط لکھا جس کے مطابق خودکشی کا سبب اسے سندھی ہونے کی بنا پر امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جانا اور بعض مضامین میں مسلسل فیل کیا جانا تھا۔ یاد رہے اسی روز حیدرآباد میں بھی ایک 14 سالہ طالب علم نےاپنی جان لے لی۔

    پاکستان  کے تعلیمی اداروں کے اندر طلبہ میں خودکشی کارجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ یہ انتہائی تشویشناک بات ہے کہ ملک میں زیادہ تر اس فعل پر اقدام کرنے والے 14 سے 24 سال کے نوجوان ہیں۔ درسگاہیں جہاں شعور کی آبیاری ہونی چاہیے ان کی چار دیواریوں میں خودکشی کی سوچ پل رہی ہے۔ طلبہ کے اس انتہائی اقدام پر آمادگی کی متعدد وجوہات ہیں جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ناکامی کا خوف اور والدین، اساتذہ و سماج کی جانب سے دباؤ ایک بنیادی سبب ہے۔ والدین مہنگی فیسیں ادا کرنے کے بعد بچوں سے ہر قیمت اچھے نمبر لانے کا مطالبہ کرتے ہیں اور پرنسپلز اساتذہ سے سوفیصد بہترین نتیجہ دینے کا تقاضا کرتے ہیں۔ اس کے اثرات بھی طالب علموں پر پڑتے ہیں۔ طلبہ کے ساتھ کیسا برتاؤ کرنا ہے اور کس طرح ہر طالب علم کی صلاحیت کے مطابق اسے تعلیم دینی ہے، اس کی تربیت و شعور ناپید ہے۔ اسکول کی سطح تک تو بچوں کو تفریح کا وقت بھی کم میسر آتا ہے۔

    اعلیٰ تعلیمی اداروں کے اسٹوڈنٹ افیئرز کے شعبے محض پروگرامز منعقد کرانے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ طلبہ کو درپیش تعلیمی، ادارتی اور نفسیاتی مشکلات سے اغماض برتا جاتا ہے۔ اسٹوڈنٹ یونینز فعال نہ ہونے کی وجہ سے جمود اور تنہاپسندی کے عناصر پختہ ہو رہے ہیں جس سے اضطراب نے جنم لیا ہے۔ اس کے علاوہ پورے تعلیمی نظم میں شامل نصاب طلبہ دوست نہیں ہے جس کے باعث تعلیم نوجوانوں کے لیے ایک بوجھ بن گئی ہے۔

    حکومت کو چاہیے کہ وہ نوجوان طالب علموں میں بڑھتے ہوئے خودکشی کے اس رجحان پر قابو پانے کے لیے اس کے اسباب کا تفصیلی جائزہ لے اور اس کے سدباب کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleزندگی اور کام کے ساتھ انصاف کریں
    Next Article خیبر پختونخوا اور پیپلزپارٹی کی سرگرانی
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by