Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»بلوچ لبریشن آرمی عالمی دہشت گرد قرار، پاکستان کو کیا فائدہ ہوگا؟
    رواں تبصرے

    بلوچ لبریشن آرمی عالمی دہشت گرد قرار، پاکستان کو کیا فائدہ ہوگا؟

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتجولائی 4, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    علیحدگی پسند مسلح تحریک بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو امریکا نے عالمی دہشت گرد قرار دیدیا ہے۔ پاکستان نے اس کا خیر مقدم کیا ہے۔ بی ایل اے عام شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو ہدف بنانے میں ملوث ہے۔ اس کے علاوہ تحریک کئی بار پاکستان میں چینی مفادات کو بھی نشانہ بنا چکی ہے۔

    یہ پابندی ایسے وقت میں لگی ہے جب وزیراعظم عمران خان 20 جولائی کو امریکا کے پانچ روزہ دورے پر جارہے ہیں۔ کئی ماہرین امریکی فیصلے کی یہ توجیہہ کر رہے ہیں کہ امریکا اس کے ذریعے پاکستان کو واپس اپنےبلاک میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کا خارجہ تعلقات کے ساتھ جو بھی ربط ہو، یہ بات اہم ہے کہ پاکستان کو اندرونی سطح پر تحریک پہ پابندی کے کیا فوائد حاصل ہوں گے۔

    بی ایل اے کو دہشت گرد قرار دیے جانے سے اسے فنڈنگ اور اس کے ارکان کو سفری سہولیات وغیرممالک میں قیام کے حوالے سے مشکلات درپیش ہوسکتی ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان معاشی اور سفارتی طورپہ اتنی مضبوط حیثیت نہیں رکھتا کہ وہ اس فیصلے سے بھرپور استفادہ کرسکے اور اسے عملاََ مؤثر ثابت کرپائے۔ زیادہ سے زیادہ وہ ملک کے اندر اس بنیاد پر کوئی کاروائی عمل میں لاسکتا ہے جو وہ پہلے ہی کر رہا ہے۔ ملک سے باہر موجود تحریک کے عناصر یا ان کی سرگرمیوں کو روکنا اس کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔ نہ یہ امکان ہے کہ امریکا ان ممالک پر کوئی دباؤ ڈالے گا جن پر تحریک کی پشت پناہی کا الزام ہے۔

    اس  فیصلے کے دو اور پہلو بھی ہیں۔ ایک تو یہ کہ مزید ایک عالمی دہشت گرد قرار دی گئی تنظیم کا نام پاکستان سے جڑا ہے۔ دوسرا یہ کہ ریاست کو اِسی زاویے پر توجہ مرکوز کرکے بلوچستان میں طاقت کا مظاہرہ نہیں کرناچاہیے۔ اس مسئلے کو بلوچستان کے مقامی تناظر اور وہاں کے مسائل کے آئینے میں حل کرنے کی ضرورت ہے۔ یعنی کہ پالیسی کا مرکز اور موضوعِ بحث دہشت گردی نہیں، بلکہ امن اور بلوچستان کے مسائل ہونے چاہئیں۔ اسی سے شدت پسندی کو شکست سے دوچار کیا جاسکتا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleاے آر کارنیلئس، ایک مسیحی چیف جسٹس جو خود کو آئینی طور پر مسلمان کہتے تھے
    Next Article جبری یکسانیت دیرپا استحکام کی ضامن نہیں ہو سکتی
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by